Daily Mashriq

پلاسٹک کے تھیلوں کی مؤثر ممانعت میں ناکامی

پلاسٹک کے تھیلوں کی مؤثر ممانعت میں ناکامی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پلاسٹک بیگز کیخلاف پورے صوبے میں فوری کریک ڈاؤن کرنے کی ایک ایسے وقت میں حکم دیا ہے جب شاپنگ بیگز پر نہ صرف پابندی کو ہوا میں اُڑا دیا گیا ہے بلکہ اس کی تیاری کی بھی روک تھام نہیں ہو سکی ہے۔ وزیراعلیٰ اگر کریک ڈاؤن کے احکامات کی بجائے ناکامی کی وجوہات کی رپورٹ طلب کرتے اور ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیا جاتا تو زیادہ بہتر نتائج کا حصول ممکن تھا۔ وزیراعلیٰ کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ پلاسٹک بیگز نہ صرف ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ اس کے استعمال سے انسانی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پلاسٹک بیگز کے استعمال کیخلاف ابتک جو قانون سازی کی گئی ہے اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور صوبے بھر میں ایسے تمام فیکٹریوں کیخلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں جو بائیو ڈیگریڈیبل میٹریل کے بغیر پلاسٹک بنا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے دیگر صوبوں سے پلاسٹک بیگز امپورٹ کرنے اور ان کی مارکیٹ میں فروخت پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر میں فضائی اور زمینی آلودگی پر کنٹرول اور نکاس آب کے نظام کو رواں دواں رکھنے کیلئے حکومت نے تین سال قبل پلاسٹک شاپنگ بیگ کی تیاری اور خرید وفروخت پر پابندی کیلئے قانون سازی کر رکھی ہے جس کی رو سے تمام دکانداروں اور تاجروں کو ناقابل تحلیل پلاسٹک کی تیاری، ترسیل اور خرید وفروخت پر پابندی اور قابل تحلیل یعنی ختم ہونیوالے پلاسٹک بیگ کے استعمال کیلئے مہلت دی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے روک تھام کے باوجود شہر بھر میں دکانداروں کے پاس ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک پڑا ہوا ہے جبکہ پلاسٹک کی تیاری کا کام بھی جاری ہے جس کیلئے کارخانہ داروں نے اپنا سامان پشاور سے خیبر اور دوسرے اضلاع منتقل کرکے پلاسٹک کی تیاری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر کے علاوہ دیگر قبائلی اضلاع میں بھی پلاسٹک دانہ سے شاپنگ بیگ بنانے کیلئے پلانٹ لگائے گئے ہیں جہاں سے روزانہ درجنوں کی تعداد میں گاڑیاں پشاور اور دیگر شہروں کو ممنوعہ پلاسٹک بیگ سپلائی کررہی ہیں اس سلسلے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس پلاسٹک بیگ کی ترسیل کرنے والوں کیخلاف کارروائی کیلئے کوئی قانون نہیں ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ صوبہ بھر میں تاجروں کی جانب سے درخواست پر پابندی کے نفاذ کیلئے یکم جون تک آخری مہلت دی گئی ہے جس کے بعد پولیس اور انتظامیہ اس خلاف ورزی کیخلاف کارروائی کرسکیں گی۔ پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری اور استعمال کی ممانعت بارے قانون سازی حالیہ دنوں میں ہوتی اور اس پر مہلت دی گئی ہوتی تو پھر کارروائی نہ ہونے کا تاثر درست نہ ہوتا یہاں تو قانون سازی کے تین سال گزر چکے اور ابھی تک لیت ولعل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے احکامات ہی سے ضلعی انتظامیہ کے موقف کی نفی نہیں ہوئی بلکہ ڈپٹی کمشنروں نے اس پابندی پر عملدرآمد کروانے کیلئے خود جا کر کارروائی کاآغاز بھی کر دیا تھا مگر اس کے بعد پراسرار طور پر معاملہ التواء کی نذر ہوگیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تین سال کی مدت کم نہیں ہوتی تاجروں کو تین سال قبل قانون سازی کے بعد تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا کہ اس دوران وہ متبادل کاروبار شروع کریں یا تحلیل ہونے والے تھیلے تیار کرنا شروع کریں۔ مگر تین سال بعد بھی ایسا ممکن نہ ہوسکا اور بالاخر وزیراعلیٰ کو اس کا سخت نوٹس لینا پڑا اس ضمن میں شعور اجاگر کرنے کی ایک مہم بھی شروع کی گئی ہے اگر دیکھا جائے تو اصل مسئلہ شعور وآگہی اور نقصانات سے متعلق معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ پابندی پر عمل درآمد کرانا ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ سگریٹ کے پیکٹ پر کینسر زدہ ہونٹوں تک کی کریہہ وبھیانک تصویر شائع ہوتی ہے اس کے باوجود لوگ اس کے استعمال سے باز نہیں آتے۔ کاربونیٹڈ ڈرنگ، بازاری چپس، چھالیہ، گٹکا، نسوار وغیرہ کے مضرصحت اور معاشرتی طور پر ناپسندیدہ ہونے کے باوجود لوگ اس کا استعمال ترک نہیں کرتے اور اس وقت تک ان اشیاء کا استعمال جاری رہنے کا امکان ہے جب تک یہ اشیاء دستیاب ہوں۔ یہ اشیاء تو پھر بھی ازروئے قانون ممنوع نہیں۔ چرس، افیم، آئس، کوکین، شراب اور اس قسم کی دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال سخت ممانعت اور سخت قوانین کے باوجود ہوتا ہے۔ پولیس کا موقف اصولی اور قانونی طور پر تو درست ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پولیس محولہ سخت ممنوعہ اشیاء کی روک تھام قوانین واختیارات کی موجودگی میں کرا پا رہی ہے یقیناً اس کا جواب نہ صرف نفی میں ہے بلکہ خود پولیس کا ملوث ہونا کوئی کہانی نہیں۔ بہرحال یہ امر بحث طلب ہے کہ قانون سازی کے وقت اس کی روک تھام کی ذمہ داریوں میں پولیس کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شعور وآگہی مہم کا محور ضرررسانی کی بجائے کپڑے کے تھیلے کا استعمال اور پلاسٹک کے تھیلوں کا بہتر متبادل پیش کرنے کو بنایا جائے اس امر کو رواج دیا جائے کہ لوگ دیدہ زیب تھیلوں ٹوکری وغیرہ کا استعمال شروع کریں، ساتھ ہی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور یکم جون کے بعد ہی سہی عیدالفطر کے بعد شہر میں کسی دکان پر پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال نہ ہونے کو یقینی بنائے ایسا ہوا تب بھی دیرآید درست آید کے مصداق ہوگا۔

متعلقہ خبریں