Daily Mashriq

کوئٹہ میں مسجد پر خودکش حملہ

کوئٹہ میں مسجد پر خودکش حملہ

کوئٹہ میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 3افراد جاں بحق جبکہ 19افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ جہاں افسوسناک ہے وہاں افسوسناک ترین امر یہ ہے کہ خطرات کے باوجود مساجد کی حفاظت کا معقول بندوبست نہیں تھا حالانکہ جمعہ کو خاص طور پر اس کا اہتمام ہونا چاہئے تھا۔ ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ 618مساجد میں سے100مساجد کو سیکورٹی فراہم کی گئی ہے، پورے شہر میں1500 کے قریب سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی کی نئی لہر کا آغاز ہوا ہے، 12اپریل کو کوئٹہ ہی کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں قائم سبزی منڈی میں دھماکے سے20افراد جاں بحق اور 48افراد زخمی ہوئے تھے۔ دہشتگرد تنظیم نے ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق کی حملہ آور کی تصویر اور نام بھی جاری کئے تھے۔ 26مارچ کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران لیویز اہلکاروں پر حملے کے ماسٹرمائنڈ سمیت 4مبینہ دہشتگردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس سے قبل 17مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی میں ریل کی پٹڑی پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جعفرآباد ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک سے اترگئی تھیں جس کے نتیجے میں ماں بیٹی سمیت 4افراد جاں بحق اور 6زخمی ہو گئے تھے۔ 11مارچ کو کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں پولیس کے محکمے انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی موبائل کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 4اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے عام واقعات کے بعد دہشتگرد عناصر نے اب سیکورٹی فورسز اور مساجد اور مسلکی بنیادوں پر افراد کو نشانہ بنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا اور فرقہ وارانہ تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بلوچستان کے عوام خواہ وہ جس فرقہ اور رنگ ونسل کے ہوں ایسے بدترین حالات سے گزر رہے ہیں جو ناقابل بیاں ہے۔ یہ ان لوگوں اور وطن کے حوالے سے جذباتیت اور خلوص ہی ہے کہ وہ سخت سے سخت حالات میں نہ تو گھبرائے اور نہ ہی منافرت کا شکار ہوئے۔ بلوچستان میں حالات پر قابو پانے میں سیکورٹی اداروں کو بڑے پیمانے پر کامیابی ملنا اپنی جگہ لیکن اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں پولیس کی ناکامی ایسا عمل نہیں جسے نظراندازکیا جا سکے۔ مسجد میں اگر پولیس کی تلاشی وحفاظت کا انتظام ہوتا تو خودکش حملہ آور کو باہر ہی روکنا ممکن تھا یا پھر اگر نمازیوں کی طرف سے خود حفاظتی کا انتظام ہوتا تو بھی صورتحال مختلف ہوتی۔ سیکورٹی کے حالات کے مطابق انتظامات میں جہاں حفاظتی اداروں اور پولیس کو غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے وہاں نمازیوں کو بھی رضاکاروں کی مدد سے خود حفاظتی کا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکر اس قسم کے عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

سادہ لوح افراد کو پھانسنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے

صوابی پولیس نے مفت عمرہ کرانے کے دھوکہ میں منشیات سمگل کرنے کیلئے سادہ لوح افراد کو استعمال کرنے والے شخص کو گرفتار کر کے مزید سادہ لوح افراد کو اس کی جال میں پھنسنے سے بچا لیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس گروہ کے کارندے ایئرپورٹ پر منشیات سمیت پکڑے جانے والے افراد کی گرفتاری کے باوجود کافی عرصے سے گرفت میں نہیں آئے، بہرحال اب کے بار صوابی پولیس کو کامیابی ملی ملزم کیخلاف تحقیقات میں پشاور ایئرپورٹ پر گرفتار ہونے والوں سے اس امر کی معلومات ضرور حاصل کی جائیں کہ گرفتاری کے بعد متعلقہ عملہ ان سے کیا ڈیلنگ کرتا رہا ہے اور ان کی واپسی کے ٹکٹ کی رقم تک کون وصول کرتا رہا ہے۔ منشیات کی سعودی عرب جیسے سخت قوانین کے حامل ملک میں سمگلنگ واضح طور پر اپنے موت کے پروانے پر خود دستخط کے مترادف ہے، ایسے میں شعوری طور پر کم ہی کوئی منشیات کی سمگلنگ کی حماقت کر سکتا ہے۔ سادہ لوح افراد کے سامان سے منشیات کی برآمدگی کے بعد قانون کی نظر میں وہی ملزم ٹھہرتے ہیں لیکن درحقیقت اصل ملزم وہ نہیں اصل ملزم گروہ کے یہ چلتے پھرتے کارندے ہوتے ہیں جو بڑے بڑے سمگلروں کے آلہ کار بن کر سادہ لوح افراد کو پھانستے ہیں۔ صوابی پولیس کو اس ملزم کو عام ملزن نہیں سمجھنا چاہئے اور روایتی تفتیش پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ انسداد منشیات کے اداروں کیساتھ ملکر اس گروہ اور اس کے سرپرستوں تک رسائی حاصل کر کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرلینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں