Daily Mashriq

پڑوسی ممالک سے تعلقات۔۔ کچھ توجہ کیجئے

پڑوسی ممالک سے تعلقات۔۔ کچھ توجہ کیجئے

پاکستان کے چار ہمسایہ ممالک ہیں اور یہ چاروں ہی اس وقت اندرونی طور پر پاکستان سے زیادہ خلفشار کا شکار ہیں۔ ان تمام ہمسایوں کا پاکستان کی معاشی اور سیکورٹی صورتحال سے براہ راست تعلق ہے۔ ان کا تذکرہ ہم چین سے شروع کرتے ہیں، چین عالمی طور پر پاکستان کا سب سے اہم ساتھی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور صدر شی جنگ پنگ کے مجوزہ بیلٹ روڈ منصوبے میں ترجیحی سٹیٹس دئیے جانے سے پاکستان کو توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد اس کے تین وفاقی وزرائ، مراد سعید، نورالحق قادری اور رزاق داؤد کی جانب سے چین اور سی پیک کے بارے ہرزہ سرائی کے باعث ان دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ سراسیمگی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چین کے عالمی سطح پر بڑھتے معاشی اثر ورسوخ کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اپناتا ہے۔ چین اور امریکہ میں بڑھتی تجارتی کشیدگی، چین کا بیرونی دنیا میں پیسہ خرچ کرنے کی کم ہوتی سکت اور چین پر امریکہ اور اس کے اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف میں موجود ساتھیوں کے خدشات کو دور کرنے کے حوالے سے بڑھتا دباؤ، پاکستان کیلئے برا ثابت ہوگا۔ مختصر یہ کہ پاک چین تعلقات کے مضبوط ہونے کے باوجود پاکستان، چین کو لاحق عالمی سطح پر بڑھتے خطرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ حال ہی میں مسعوداظہر کا اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی فہرست میں نام آنا اور جون میں آنے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں ممکنہ کارروائی اس بات کا واضح عندیہ ہے کہ اس وقت چین عالمی سطح پر پاکستان کی حمایت میںکچھ غیرمعمولی کرنے کے قابل نہیں۔دوسری طرف پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی کوئی بہت خوشگوار نہیں۔ ایران اس وقت آدھے مشرق وسطیٰ اور شمال افریقی خطوں میں عسکری تنازعات کا شکار ہے۔ اس کی جانب سے فرقہ واریت کو فروغ دینے کیلئے کی جانیوالی سرمایہ کاری کئی ممالک کے استحکام کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے گو کہ سعودیہ کی طرف سے اسی مقصد کے تحت خرچ کی جانے والی رقم بھی کسی طور ٹھیک نہیں۔ البتہ ایران کی اس پالیسی سے جس قدر پاکستان کو خطرہ ہے اتنا کسی اور کو نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کا دہشتگرد گروہوںکو بلوچ لسانیت استعمال کرنے کیلئے کھلی چھٹی دینا شاید خطے میں ان کے محدود مفادات کیلئے تو کارگر ثابت ہو البتہ یہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کیلئے نہایت غیرحوصلہ افزا بات ہے جو ایک عرصہ سے تہران کیساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کیلئے کوشاں نظر آ رہی ہیں۔انقلاب ایران کے بعد خامنائی کے ا سلام آباد اور ریاض کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تحفظات ہمیشہ سے ہی پاک ایران خوشگوار تعلقات میں ایک رکاوٹ رہے ہیں اور اب امریکی صدر ٹرمپ کے جنگی جنون کے حامل مشیر خصوصی، جان بالٹن مسلسل ٹرمپ کو ایران کیساتھ ایک بلاجواز لڑائی پر اکسا رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہو جائیں۔

تیسری جانب افغانستان میں بھی طالبان اور امریکہ کے مابین مذکرات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط امریکی تسلط کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب طالبان بیک وقت مذاکرات اور جنگ کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ ایک قابل عمل اور متفقہ امن معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں افغانستان ایک مرتبہ پھر 1990 کے اوائل جیسی سول وار کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہاں حالات کیا رُخ لیتے ہیں اس بات سے کجا، پاکستان کو افغانستان اور وہاں برسر پیکار تمام گروہوں کیلئے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنا ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ افغان قیادت نے اپنی نااہلی کے سبب ہونے والے نقصان کے الزامات کئی مرتبہ پاکستان پر عائد کئے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بھی افغانستان میں ناکامی کا نزلہ پاکستان پر ڈالے جانا ممکنات میں سے ہے مگر اس کے باوجود پاکستان کو چاہئے کہ مذاکرات کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھنے کیساتھ ساتھ اس امن عمل میں ایک مثبت کردار ادا کرے کہ یہ وقت کی اہم ضرور ت ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں عدم استحکام کا باعث بننے والے اپنے غیرریاستی عناصر کی بھی بیخ کنی کرنا ہوگی کیونکہ یہ بات سمجھنا ازحد ضروری ہے کہ افغانستان کے استحکام کا اگر سب سے زیادہ فائدہ کسی ملک کوہوگا تو وہ پاکستان ہی ہے۔آخر میں بات کرتے ہیں بھارت کی، بھارت میں نئے انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی کی ممکنہ حکومت بننے کے بعد پاکستان اس خطے کے امن اور خوشحالی کیلئے پڑوسی ملک کو ایک نئی ڈیل تجویز کر سکتا ہے۔ بھارت کو اب یہ سبق بھی سیکھ لینا چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر کو لیکر پچھلی ایک دہائی میں اس کی طرف سے اپنائی گئی پالیسی نہایت ناقص اور تباہ کن رہی ہے اور حال ہی میں ہونے والے کشیدگی کے واقعات جیسا کچھ دہرائے جانے کی صورت میں جنم لینے والی صورتحال خطے کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو حزب اختلاف کا تعاون حاصل کر کے بھارت کیساتھ بات چیت آگے بڑھانے کا فیصلہ کرنا چاہئے اور اس سارے مسئلے کو کامیابی سے حل کرنیکی صورت میں وہ پاکستانی قیادت کی صفوں میں وہ ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں جسکے وہ ہمیشہ خواہاں رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے تمام پاکستانیوں کی دعائیں ان کیساتھ ہیں۔ (بشکریہ دی نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں