Daily Mashriq

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں

ہم بہت ہی خوش فہم قسم کی قوم ہیں۔ ہمارے اکثر اندازے انہی خوش فہمیوں کی وجہ سے غلط ثابت ہوجاتے ہیں مگر ہم اپنی دھن میں مگن بس رواں دواں رہتے ہیں ادھر ادھر نہیں دیکھتے کہ کچھ اور عوامل بھی ہیں جن پر ہماری نظر نہیں پڑتی اور یہی وہ عوامل ہوتے ہیں جو صورتحال کو متاثر بھی کرتے ہیں اور اندر ہی اندر تبدیلیوں کے حوالے سے اشارے بھی دے رہے ہوتے ہیں مگر ہم ایسے سادے مرادے ان پر توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کرتے اور ہوش ہمیں تب آتا ہے جب چڑیاں کھیتوں کو تاراج کر چکی ہوتی ہیں۔ اب اسے ہی دیکھ لیں گزشتہ تقریباً یا لگ بھگ ایک سال سے ہمارے کچھ نام نہاد دانشور اور بعض اینکرز بھارتی انتخابات کے حوالے سے اپنا بیانیہ چورن کی شکل میں بیچتے رہے ہیں کہ مودی سرکار کا آنے والے انتخابات میں بس دھڑن تختہ ہی سمجھ لو۔ مودی سرکار نے جس طرح ملک کے اندر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور نیچی جاتی (نچلی ذات) کے دلتوں پر انتہا پسندی مسلط کر رکھی ہے اور مسلم کش پالیسی تو اب انتہا کو چھو رہی ہے کہ گاؤماتا کی ''بے حرمتی'' یعنی گائے کو ذبح کرنے کے بہانے جہاں آر ایس ایس کے غنڈے چاہتے ہیں کسی نہ کسی مسلمان کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل تک کردیتے ہیں۔ گائے کے ذبیحہ کے نام پر جو انتہا پسندی مسلمانوں پر مودی سرکار کے دوران مسلط کی گئی ہے اس کیخلاف اب وہاں لبرل یہاں تک کہ خود ہندو بھی آواز اٹھا رہے ہیں اور ایک سابق جسٹس کائجو کی فوٹیج نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی وائرل ہوتی رہی جس میں جسٹس کائجو نے گائے کو ماتا ماننے سے ہی انکار کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسی نوعیت کے چند اور واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ٹی وی اینکر اپنا چورن فروخت کرتے ہوئے یہ نتائج اخذ کرتے رہے کہ بھارت کے عوام مودی سرکار کو مزید وقت دینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ کہ آنے والے بھارتی انتخابات (جو اب گزر بھی چکے) میں مودی مخالف قوتیں دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہیں۔ تاہم ایک تو یہ کہ ہمارے یہاں اس قسم کے خوش فہمانہ بیانیہ کو آگے بڑھانے والوں نے معاملے کا صرف ایک ہی پہلو نظر میں رکھا تھا یعنی مودی سرکار کا گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان کے حوالے سے معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ جس کے دوران نہ صرف سیاسی سطح پر وہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پاکستان کو ہر قسم کی دہشتگردی کیساتھ نتھی کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا بلکہ سماجی اور ثقافتی میدانوں میں بھی وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع کرنے کو تیار نہیں تھا اور ایک جانب اس نے پاکستانی دانشوروں' ادبائ' شعرائ' صحافیوں کا داخلہ بھارت میں مکمل نہیں تو بہت حد تک بند کرکے اسے انتہائی محدود کر دیا تھا۔ بھارت میں مسلمان اکابرین کی درگاہوں پر جانے کے خواہشمند زائرین کو ویزے دینے سے انکار کرتا رہا۔ اگرچہ پاکستان نے جواب میں سکھ یاتریوں اور کٹاس راج مندر پر جانے والے ہندو یاتریوں کو مزید سہولتیں فراہم کرکے وسیع النظری کا مظاہرہ کیا' ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک جی کی جنم بھومی پر آنیوالے سکھ یاتریوں کیلئے کرتارپور راہداری کھول کر سکھ برادری کے دل جیت لئے۔ ادھر بھارت سرکار نے پاکستان کیساتھ کرکٹ کھیلنے پر نہ صرف پابندی لگا دی بلکہ جہاں موقع ملا پاکستان کی کرکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے سازشیں کیں اور بھارت سرکار کے روئیے کے اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے بی جے پی سرکار کیخلاف جو بیانیہ ترتیب دیا گیا (جس میں اگرچہ غلط کچھ بھی نہیں) تاہم یہ چورن بیچنے والے معاملے کے دوسرے پہلو کو بالکل ہی نظرانداز کر گئے کہ جو دوسری جماعتیں خصوصاً کانگریس ہے اس کا ماضی میں کیا کردار رہا ہے؟ کیا اس کے طویل دور میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ نہیں رکھا گیا؟ کیا مسلم کش فسادات مودی سرکار کے دور کے مقابلے میں کم ہوتے رہے؟ کیا کشمیری مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں کبھی کوئی کمی کی گئی؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ تو کانگریس کے دور میں کیا گیا۔ اس وقت بھارتی افواج کو وادی میں اتار کر بہ زور کشمیر کو مقبوضہ وادی بنا دیا گیا حالانکہ برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کے تحت مسلم اکثریتی صوبہ ہونے کے ناتے اس کا اصولی' اخلاقی اور قانونی الحاق پاکستان کیساتھ ہونا لازمی تھا اور پھر جب ہمارے قبائلی حریت پسندوں نے کشمیر کی آزادی کی جنگ شروع کی اور صورتحال خراب ہونے لگی تو کیا یہ کانگریس کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نہیں تھے جنہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرکے وہاں جنگ بندی کرائی۔ کشمیریوں کو حق خوداختیاری دینے کی شرط مان لی اور جسکے نتیجے میں لائن آف کنٹرول وجود میں آگیا۔ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا بی جے پی اور کیا کانگریس' دونوں میں فرق کیا ہے یعنی بی جے پی ہو یا کانگریس اور اس کے اتحادی برسر اقتدار آکر ان کی پالیسیوں میں خیر کا پہلو کہاں سے نکل آئے گا یعنی یہ تو اس اونٹ والی بات ہوئی کہ پہاڑ پر چڑھتے یا ترائی میں اترتے سمے زیادہ تکلیف کہاں محسوس ہوتی ہے تو جواب دیا ہر دو لعنت! مقصد کہنے کا یہ ہے کہ بھارت کی کوئی بھی جماعت ہو مسلمانوں اور پاکستان کیلئے انکی حیثیت اس بچھو کی ہے جو دوستی کی آڑ میں بھی ڈنک مارنے کی اپنی عادت سے باز نہیں آتا۔ اس کے باوجود ہم جیسے خوش فہم بھارتی حکمرانوں سے یہ امیدیں لگانے بیٹھ جاتے ہیں کہ مودی کیساتھ ملکر امن اور ترقی کیلئے تیار ہیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ !

متعلقہ خبریں