Daily Mashriq

احوال وطن وامت

احوال وطن وامت

وطن عزیز کے عوام کی کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ رمضان المبارک میں سال کے گیارہ مہینوں کی کمی کوتاہیوں کے ازالہ کیلئے بہترین ایام کی فراہمی سے بھر پور فوائد حاصل کرنے کے بجائے ڈالر کے مہنگا ہونے اور اس کے نتیجے میں ضروریات زندگی کی قیمتوں کے بڑھنے اور غریب کی دسترس سے باہر ہونے ہی پر شب وروز بحثیں کرنے اور حکومت کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ نہ تو رمضان میں پہلی دفعہ مہنگائی ہوئی ہے اور نہ ہی ڈالر کا ریٹ پہلی دفعہ بڑھا ہے۔ یہ قصہ گزشتہ نصف صدی سے جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ جناب خاتم النبیینۖ نے چودہ سو سال قبل فرمایا ہے: تمہارے اعمال تمہارے حکمران ہیں۔ آج بھی اگر پاکستان اور امت کے عوام راہ راست (شریعت کے مطابق زندگی) پر آجائیں تو یہ سارے مسائل اُس طرح حل ہوسکتے ہیں جس طرح خلفائے راشدین بالخصوص عمرفاروقکے دور خلافت میں حل ہوئے تھے۔ حضورۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے۔ پھر اُس کے بعد پھر اُس کے بعد۔۔۔'' اس وقت ہم پندرہویں صدی میں رہ رہے ہیں یہ وقت بھی اچھا ہے اگرچہ فتنوں کی بھرمار ہے لیکن مستقبل کے فتنے دیکھنے کے بعد لوگ اسی طرح آج کے ایام کو بہتر زمانے کے طور پر یاد کریں گے جس طرح ہم میں سے بہت سارے لوگ نصف صدی قبل کے پاکستان کو یاد کرتے ہیں حالانکہ اُس وقت بھی ایوب خان کیخلاف چینی کی قیمت تھوڑا سا بڑھنے پر ہنگامے اور احتجاج شروع ہو کر ایوب۔۔ ہائے ہائے'' پر ختم ہوئے تھے۔1971ء اور1977 کے سال تو پاکستان کیلئے بدترین آزمائشوں کے سال تھے اور اُس کے بعد دو طویل ترین مارشل لاء کے ادوار، مرے کو مارے شاہ مدار ثابت ہوئے۔ اسی وقت اگرچہ عمران خان انتخابی فہم کے دوران اپنے بلند وبانگ وعدوں کے سبب زبردست دباؤ میں آچکے ہیں اور کپتان کی حیثیت سے اپنے کرکٹ اور شوکت خانم کے واقعات کو حوصلہ وہمت نہ ہارنے کی مثال کے طور پر ہر محفل وتقریر میں بیان کرکے تھک چکے ہیں، لیکن لگتا ہے اُنہیں حکومت میں آنے سے پہلے بعض معاملات کا صحیح اور پورا جغرافیہ معلوم نہیں تھا۔ اسی بناء پر قوم کو بار بار''گھبرانے کی ضرورت نہیں'' کہہ کر بھی خود بھی کبھی کبھی وارخطا سے نظر آجاتے ہیں، اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو جس قسم کے مشکل ترین معاشی حالات اور انتہائی حد تک بغض سے بھری اپوزیشن ملی ہے شاید ہی اس سے پہلے کسی حکومت کو ملی ہو، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپوزیشن کو خود اس حال تک پہنچانے میں ان کی ٹیم کے بعض عاقبت نااندیشوں کا بھی ایک کردار ہے۔ بہرحال بقول دانا، کچھ ادھر سے کچھ اُدھر سے شکایت وفا پھر رہ گئی حزب اقتدار اور اختلاف نے ملکر عوام کا جو بُرا حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس میں اگرچہ عوام کا بھی اپنا حصہ ہے جس قوم کے تاجر اور دکاندار رمضان کے مبارک مہینے کو ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کیلئے نادر موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوں اور پیسے والے ایک ہی دن پورے مہینے کیلئے گھر میں ضروری اشیاء کا سٹاک لگاتے ہوں اور رمضان کو کھانے پینے کی اشیاء سے خوب خوب لطف اندوز ہونے کیلئے استعمال میں لگے ہوئے ہوں، وہاں ہزاروں کلو لیموں کی ذخیرہ اندوزی کے سبب لیموں ہزار روپے فی کلو گرام بکے تو کیا حرج ہے؟۔ رمضان جو ایثار وقربانی اور قرآن کریم کے سائے میں رہنے کا مہینہ ہے ہم اسے منافع خوری اور بسیار خوری کا مہینہ بنا لیتے ہیں تو ہم پر اللہ کی رحمتوں کا نزول بہت مشکل ہے اور اب رمضان کی افطاری کو زاہدان قوم عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے استعمال کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور ان سطور کے شائع ہونے تک معاملہ واضح ہو چکا ہوگا۔ شگون یہی ہے کہ عیدالفطر کے بعد قوم کو ایک اور دریا کا سامنا ہوگا۔ ہم پاکستان کے اندر ان ہی کھیلوں میں مصروف رہیں اور امریکی بحری بیڑا خلیج میں پہنچ چکا ہے۔ ایف35 اور بی باون طیارے جس ہنگامہ خیز انداز میں ابراہیم لنکن کے وسیع وعریض عرشے پر اُڑان بھرتے اور اُترتے ہیں، اُس سے کسی ظالم مسلمان حکمران کے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی کہ ہم بھی سائنس کے میدان میں آگے بڑھ کر ایسے ہی بحری بیڑے تیار کر سکیں۔ ہم پر تو یہ فرض تھا کیونکہ ہمارے نبیۖ نے اس کی ترغیب فرمائی تھی لیکن ہمیں اقتدار، اقتدار، کھیلنے سے فرصت ہو تو کوئی اور بات سوچیں۔ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں جو ہنگامہ خیز حالات پنپ رہے ہیں اُن میں ہمارا کیا مقام وکردار ہوگا۔ اُس کیلئے ہمیں کیا انتظامات واقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک افواج کی سطح پر کہیں کوئی سوچ بچار، غور وفکر اور انتظامات ہوں تو ہوں ورنہ حکومت سیاستدانوں اور دانشوروں کی سطح پر ابھی تک تو کوئی ایسی فکر سامنے آنہیں سکی ہے۔ امت ووطن کے مقتدر طبقات، اہل دانش واہل مناصب کا فرض ہے کہ محشر کی اس گھڑی میں آپس کی دشمنی کی حد تک سیاسی اختلافات ختم کر کے مستقبل کی فکر کریں اور سپین،بغداد، ڈھاکہ، کابل، شام، لیبیا اور یمن کی تاریخ کو دہرانے کے مواقع دینے سے گریز کریں۔ اللہ ہمیں امت ووطن کی سطح پر اسلامی اخوت سے ہمکنار کرے۔آمین

متعلقہ خبریں