Daily Mashriq


نیب کے عیب اور ماضی کا بوجھ

نیب کے عیب اور ماضی کا بوجھ

چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس جاوید اقبال نے ایک پریس کانفرنس میں اپنا اور ادارے کا مقدمہ بہت زوردار انداز سے لڑا ہے۔ ایک وکیل اور جج سے اسی مدلل اور معنی خیز اندازکلام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے نیب کی مجبوریوں، کمزوریوں، حکمت عملی اور طریقۂ کار کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب قطعی طور پر ایک غیرجانبدار ادارہ ہے اور اپنے فرائض پوری دیانتداری اور غیرجانبداری سے انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے نیب کیساتھ اٹھکیلیاں کرنے والے سیاستدانوں کا تذکرہ بھی کیا جو نیب کی کارروائیوں کو غیرمؤثر بنانے کیلئے کبھی پیشی کے دوران نیند آنے کا بہانہ بناتے ہیں اور کبھی ٹرائل کے دوران بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک میں جا کر بسیرا کرتے ہیں اور کبھی اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کے بہانے ریمانڈ سے بچنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب اپوزیشن کیساتھ ساتھ حکومت کے روئیے سے بھی شاکی نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بہت سے ایسے لوگوں کو بیرون ملک سدھارنے کا موقع فراہم کیا، نیب نے جن کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نیب کے ریڈار پرآنے والے دوسرے لفظوں میں نیب زدہ افراد کو اعلیٰ عہدے نہ دئیے جائیں۔ دہائیوں تک مختلف ادوار میں مختلف دورانیوں میں اقتدار میں رہنے والے سیاستدان ہوں یا قومی خزانے کو دیمک بن کر چاٹنے والی بیوروکریسی یا پھر اس سسٹم کے باقی معاونین سب کا رویہ اور کردار اچھا نہیں رہا۔ برسوں پہلے ہی پاکستان کے ''ان گورن ایبل'' ناقابل حکمرانی ہونے کی باتیں بھی کھلے لفظوں میں ہورہی تھیں۔ نوے کی دہائی میں پاکستان کے ناکام ریاست ہونے کی بات کرنے پر میاں نوازشریف کی حکومت نے نجم سیٹھی کو پس دیوارِزنداں دھکیل دیا تھا۔ ناکام ریاست اور ناقابل حکمرانی کہنے والوں کی بات بے بنیاد نہیں تھی بلکہ پاکستان کو قطرہ قطرہ زہر پلا کر اس کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ ہر گزرتا دن پہلے سے بدتر ثابت ہو رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ ریاست اپنی اتھارٹی اور اپنی گرفت کھو رہی تھی۔ جب یہ اصطلاحات استعمال ہو رہی تھیں تو اس وقت ان دونوں باتوں کی حقیقت کو سمجھنا مشکل تھا اب یہ باتیں پوری طرح عیاں ہو کر سامنے آرہی ہیں۔ ماضی کا یہی شرمناک ورثہ آج ایک دھماکے سے پھٹ گیا ہے۔ پاکستان اگر کلی طور پر ان گورن ایبل نہیں تو اس پر حکمرانی اب آسان کام بھی نہیں رہا۔ یہ حالات ایک دن یا آٹھ نو ماہ سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے ناقص طرز حکمرانی اور بدعنوانی کی طویل داستان ہے۔ ان راہوں پر چلتے چلتے ملک اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں حالات کی اصلاح کارِدارد ہو کر رہ گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ماضی میں جم کر اقتدار کی اننگز کھیلنے والی دو جماعتیں فخریہ انداز میں کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دور میں ملک اور معیشت کی یہ حالت نہیں ہوئی۔ وہ ''یاد تو آتی ہوگی'' کے طنزیہ انداز میں عوام کو ''ہور چوپو'' یا اب بھگتو کہہ رہے ہیں۔ یاد کس بات کی آئے اور کیوں آئے؟ اس طنزیہ انداز سے یوں لگتا ہے کہ ماضی کے ادوار میں معیشت پر لگا کر اُڑتی ہو۔ ہم ترقی کی کہشکشاؤں میں محو پرواز رہے ہوں اور اب نو ماہ سے ہم پستیوں کی انتہاؤں میں چلے گئے۔ وقتی ہیرپھیر کرکے بس معیشت کا پہیہ رواں رہا۔ آکسیجن ٹینٹ پر رکھی ہوئی معیشت پر اُترانا اور فخر کرنا خود فریبی کے سوا کچھ اور نہیں۔ کل اور آج کی اس حقیقت کا عکاس یہ شعر ہے کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

نیب جیسے ادارے اگر ماضی میں فعال ہوتے تو خرابی اس حد تک بڑھنے نہ پاتی مگر حکمرانوں نے ان اداروں کو بن دانتوں کے یا بُھس بھرے شیر بنا کر رکھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خرابی بڑھتی ہی چلی گئی۔ زوال کا سفر تیزی سے جاری رہا۔ اب ایک خاکستر پر نئی عمارت کی تعمیر کا مشکل اور صبرآزما عمل درپیش ہے۔ اس لئے چیئرمین نیب کی کتھا کو الزامات اور طنز میں اُڑانے والے حقیقت میں اس ماضی کا انکار کرتے ہیں جو ایک بھیانک اور تاریک حقیقت کے طور پر ہماری یادوں اور فائلوں میں محفوظ ہے۔ چیئرمین نیب ان فائلوں کو دریابرد کریں یا مفاہمت کے نام پر انہیں ڈی چوک میں جلادیں تو قانون کیساتھ اس سے بڑا کیا مذاق ہو سکتا ہے؟ ماضی میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ماضی کے غیرذمہ دارانہ رویوں کے آگے ایک لکیر تو کھینچنا تھی سو اب وہ لکیر کھنچتی نظر آرہی ہے تو متاثرین نیب اور نیب زدگان کو نیب ایک ناپسندیدہ ادارہ اور بوجھ لگنے لگتا ہے۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ یہ ادارہ دریابرد ہوجائے۔ مسلم لیگ ن کا تو اسی کی دہائی یعنی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے زمانے سے ہی ایک مائنڈ سیٹ ہے جو اداروں کے جامے میں کبھی سمایا نہیں۔ قانون رکاوٹ بنا تو قانون بدل دیا۔ افراد رکاوٹ بنے تو افراد ہٹا دئیے گئے۔ جہاں سے رکاوٹ کا اندیشہ ہوا وہاں ایک تابع مہمل کو بٹھایا گیا۔ اس مائنڈ سیٹ کو صدر رفیق تارڑ اور جسٹس ملک قیوم ہی گوارا ہیں۔ آصف زرداری اپنی بے گناہی کے حق میں کوئی دلیل دینے کی بجائے ایک چال چلنے کا برسرعام اعلان کر رہے ہیں۔ وہ نیب کو تھکا دینے کا اعلان فرما رہے ہیں۔ نیب کے تھک جانے سے ماضی کے سارے دھبے دھل جائیں گے؟۔ ناخوب پھر خوب بنے گا؟۔ اس سے حقیقت تبدیل ہوگی؟ ماضی میں اسی وقت گزاری کی حکمت عملی سے این آر اوز جیسے ناپسندیدہ معاہدات جنم لیتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں