Daily Mashriq


گوادر کی اہمیت میںاضافہ

گوادر کی اہمیت میںاضافہ

گوادر بندرگاہ کا سی پیک کے حوالے سے مستقبل میں اہم حیثیت اختیار کرنا تو ایک طرف جبکہ ترکمانستان اور ایران نے اپنی گیس برآمد کرنے کے لئے گوادر بندرگاہ استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے نتیجے میںاس بندرگاہ کے بین الاقوامی توانائی راہداری بننے کے امکانات خاصے روشن ہورہے ہیں ، ایک قومی اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ ان دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ اپنی گیس کو گوادر بندرگاہ پر ایل این جی میں تبدیل کر کے بر آمد کریں گے ۔ایران کئی بار سی پیک کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کر چکا ہے ۔گوادر بندرگاہ میں ملکی تاریخ کا پہلا ایل این جی ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا جس کے ذریعے ان دونوں ممالک کی قدرتی گیس کو ایل این جی میں تبدیل کیا جائے گا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ترکمانستان اور ایران کی جانب سے اپنی قدرتی گیس کو گوادر بندرگاہ کے توسط سے بیرون دنیا کو برآمد کرنے کے فیصلے سے بھارت کی سی پیک کے خلاف کی جانے والی سازشیں بری طرح سے ناکامی سے دوچار ہوں گی ۔ اگر چہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ میں بھارت کی اربو ں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد کم از کم ایران کو خود اپنی بندرگاہ کو استعمال کرنے پر توجہ دینی چاہئیے مگر قدرتی طور پر چاہ بہار بندرگاہ گوادر کے مقابلے عام گزرگاہ کی بجائے انتہائی اندر سمندر کے بیچ اور نسبتاً چھوٹی گزرگاہ پر واقع ہے جبکہ اس پر بڑے بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے میں بھی مشکلات ہیں ، اس وجہ سے بھارت کے وہ تمام حربے جو وہ گوادر بندرگاہ اور اس سے آکر ملنے والی پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کے لئے استعمال کر رہا ہے بری طرح سے ناکامی سے دوچار ہونے والے ہیں ۔چونکہ سی پیک کی اہمیت کے پیش نظر نہ صرف ایران بلکہ افغانستان نے بھی اس منصوبے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ حال ہی میں ترکی کے صدر جناب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ترکی کے سرمایہ داروں کو بھی اس منصوبے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور بعض عرب ریاستوں سے بھی منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے مثبت اشارے ملے ہیں اس لئے قوی امکان ہے کہ انشا ء اللہ گوادر بندرگاہ مستقبل میں عالمی گزرگاہ کے طور پر انتہائی اہمیت کی حامل ثابت ہوگی ۔ مزید یہ کہ ترکمانستان کے ساتھ اگر اس حوالے سے سمجھوتہ طے پاتا ہے تو وہاں تک بھی راہداری تعمیر ہونے سے اس کے روابط دیگر وسط ایشیائی ریاستوں تک بھی بڑھائے جا سکتے ہیں اور انشاء اللہ یہ حقیقی طور پر گیم چینجر ثابت ہوگا ۔

متعلقہ خبریں