سیکورٹی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت

سیکورٹی کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت


حیات آباد میں ڈی ایس پی آفس کے عین سامنے مبینہ خودکش حملے میں ایڈیشنل آئی جی کے قافلے پر حملے کے خود کش ہونے بارے ابھی شکوک و شبہات کا خاتمہ نہیں ہوا ۔ پولیس کی تفتیش میں حملہ آور کی عمر اور موٹر سائیکل کے ماڈل کے بارے میں معلومات ملتی ہیں مگر باقی ایسی کوئی شہادت دستیاب نہیں ہوئی جس بنا پر اس حملے کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے ۔ شہید اے آئی جی کے ڈرائیور کے مطابق راستے میں کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکہ ہوا ۔ سی سی پی او کہتے ہیں کہ باقاعد ریکی کے بعد حملہ کیا گیا۔ حیات آباد کو سیف سٹی قرار دیا جا چکا ہے اور علاقے میں سیکورٹی کے جدید آلات اور نفری بھی دی جا چکی ہے ایسے میں ڈی ایس پی آفس کے سامنے سنتری کے دیکھتے دیکھتے اور عمارت میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں چار گز کے فاصلے پر یہ واقع کیسے رونما ہوا اس علاقے میں ریکی ہوتی رہی اور سیف سٹی کی پوری مشینری لا علم رہی پولیس اپنے ہی سینئر ترین کمانڈر کا تحفظ نہ کر سکی اس طرح کی باتیں ہیں جن کو قبول کرنا مشکل ہے ۔ معلوم نہیں پولیس اس واقعے کی خودکش حملے کے علاوہ بھی کسی اور پہلو سے تحقیق و تفتیش سے کترا کیوں رہی ہے اور ٹھوس شواہد کی عدم موجود گی میں اسے خود کش حملہ ہی قرار دینے پر کیوں اصرار کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ اس سیکورٹی خلا جس کا فائدہ اٹھایا گیا کو چھپا نے کی کوشش ہو ۔ کیا اسے سیکورٹی کا خلا قرار دینا غلط ہوگا کہ ایڈیشنل آئی جی روزانہ روٹ تبدیل کر کے دفتر جاتے تھے لیکن حملہ آور کو اس کے مڑنے کی جگہ کا علم تھا اور وہ بھی عین ڈی ایس پی آفس کے سامنے ایک ایسے موڑ پر جہاں سے محدود گاڑیاں ہی مڑتی ہیں ۔ اس مقام پر حملہ آور کو انتظار کرنے کا موقع کیسے ملا اور اس کو یہ علم کیسے ہوا کہ اے آئی جی آج اس روٹ سے آفس جائیں گے۔ حملہ آور حیات آباد میں حساس ترین روٹ تک آیا کیسے کہاں ٹھہرا اور اس کے سہولت کار کون تھے اس حساس روٹ پر پولیس کی پٹرولنگ اور ایڈیشنل آئی جی کا قافلہ نکلنے سے پہلے احتیاطی تدابیر کے طور پر کوئی سیکورٹی گاڑی کیوں نہ گزری ۔ سٹی پولیس کی جو رنگین کا ریں سڑکوں پر پھر تی تھیں حیات آباد میں وہ غائب کیوں ہیں سی ٹی ڈی ٹی کی جو پک اپ گاڑیاں مستعدی کا مظاہر ہ کرتی تھیں وہ کہاں غائب ہیں مقامی تھانے کی کوئی گاڑی اور عملہ سڑکوں پر کیوں نظر نہیں آتاپولیس موٹر سائیکل سوار محافظین کی ڈیوٹیاں کہاں لگنے لگی ہیں ان سارے سوالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی روشنی میں خواہ وہ حیات آباد ہو یا پھر پشاور کا کوئی علاقہ پوری طرح محفوظ نہیں ۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے سٹی پولیس کی ان رنگین گاڑیوں اور تھانے کی موبائل ڈی ایس پی آفس کے سیکورٹی عملے اور سول کپڑوں میں ملبوس حفاظتی عملے سے استفسار کی زحمت کی؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ میڈیا اس قسم کے سوالات اٹھانے سے گریزاں کیوں ہے اور پولیس افسران سے حکو مت استفسار کے بعد عوام کو آگاہ کیوں نہیں کرتی جہاں ہر طرف سکوت چھا جائے اور ذمہ دار عناصر سکھ کا سانس لینے لگیں اس سکوت کو کسی بم اور خود کش حملے کی گونجدار آواز ہی کا توڑ نا فطری امر ٹھہرتا ہے۔ اس واقعے کا جائزہ لیا جائے تو محولہ تصویر کشی حالات کی حقیقی تصویر دکھائی دے گی ۔ واقعے کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی ہے ۔ اگرچہ اس طرح کے دعوئوں کی حقیقت جانچنا تقربیاً نا ممکن ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر یہ دعوے لغوی ہی نکلتے ہیں مگر بہر حال اس واقعے کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبولیت اور صوبائی دارالحکومت میں سینئر ترین پولیس افسر کو نشانہ بنانے میں کامیابی اور ایک محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں پولیس کی ناک کے نیچے ہونے والا یہ واقعہ چشم کشا ضرور ہے ۔ پاکستانی حکام عموماً داعش کی پاکستان میں موجودگی سے انکار ی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل حیات آباد کی دیوار وں پر داعش کی اکا دکا چاکنگ ضرور سامنے آئی تھی لیکن اتنا اندازہ نہیں تھا کہ یہ تنظیم کوئی واردات کر پائے گی۔ بہرحال حیات آباد کے اس واقعے کی ذمہ داری ان کی جانب سے قبول کرنے کے بعد سیکورٹی اداروں کو اس حوالے سے خاص طور پر چوکنا ہونے کی ضرورت ہے چونکہ اس خطرے کی تلاش صرف مدارس میں نہیں بلکہ اونچے محلات میں بھی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر خدانخواستہ داعش کا واقعی وجود ہے تو پھر حیات آباد کا مزید غیر محفوظ ہونا یقینی ہے ۔ اس لئے کہ آئندہ دنوں میں اس طرح کے مزید واقعات کا خطرہ لاحق رہے گا ۔ جس کا تدارک کرنے کیلئے حیات آباد سمیت پوش علاقوں میں نگرانی پر زیادہ تو جہ دینی ہوگی۔ پولیس کو مضافات اور حیات کے اوسط درجے کے فیز میں آپریشنوں اور بڑے بڑے گھروں پر مشتمل فیز میں خود سے ''سب اچھا ہے '' کا نتیجہ اخذ کرنے کی روش اب تبدیل کرنی ہوگی ۔ جس سیف سٹی کا دعویٰ کیا جارہا تھا اسی کی حقیقت گزشتہ دنوں کے واقعات اور موجود ہ واقعے کے بعد کھل چکی ہے جبکہ شہر میں من حیث المجموع خوف کی فضا لوٹ آئی ہے اور عوام کابحال شدہ اعتماد ایک مرتبہ پھر مجروح ہوا ہے ۔جو دشمن کی کامیا بی اور اداروں کی ہزیمت کا مظہر ہے۔ پولیس کیلئے صرف عزم کے اظہار اور قربانی دینے والوں کی تعریف و تحسین کافی نہیں بلکہ پولیس کو اس عزم کو حقیقت بنا کر دکھانا ہوگا اور خود کے تحفظ سمیت عوام کے تحفظ کا بھی احساس اس طرح سے دلانا ہوگا کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے سے قبل ہی دہشت گردوں کو گرفت میں لیا جا سکے ۔ اس ضمن میں جہاں پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری کا مظاہرہ فرض ہے وہاں پر عوام کو بھی سیکورٹی اداروں سے تعاون اور ممد و معاون ہونے کا فریضہ بھلانا نہیں چاہیئے تاکہ مل کر تازہ صورتحال سے ایک مرتبہ پھر کامیابی سے نمٹا جا سکے ۔

اداریہ