انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی

انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی


ضلعی انتظامیہ کی ہیلتھ کیئر کمیشن کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈبگری کے علاقے میں8میڈیکل لیبارٹریوں کے منیجر کو ایکسپائر کٹ اور غیر تربیت یافتہ عملہ رکھنے پر گرفتاری دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ڈبگری گارڈن کا علاقہ پورے صوبے میں نجی علاج کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔ یہاں صبح شام دور دراز سے رات گئے مریضوں کا رش رہتا ہے۔ مقامی اور مضافات کے مریضوں کو بھی یہاں لایا جاتا ہے۔ اس بڑے علاقے میں اور ارد گرد ماہر ڈاکٹروں کے کلینکس ہیں۔ ہونا تو یہ چایئے تھا کہ اس علاقے میں لیبارٹریوں' ایکسرے اور دیگر تشخیصی آلات اور ٹیسٹس کے معیار کا ماہر ڈاکٹر جائزہ لے کر نشاندہی کرتے مگر کمیشن ملنے کے باعث بڑے بڑے پروفیسروں نے بھی چپ سادھ ر کھی ہوئی ہے۔ ان کو اس امر کا بھی احساس نہیں کہ غلط رپورٹس سے خود ان کی رائے بھی متاثر ہوتی ہے اور مریضوں کو فائدے کی بجائے نقصان ہورہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس علاقے کے لئے چھان بین کی ایک پوری ٹیم مستقلاً مختص کردی جائے جو یہاں علاج و تشخیص کے نظام سہولیات اور خدمات کی مکمل مانیٹرنگ کرے اور ادویات کے معیار سے لے کر علاج و تشخیص سبھی کا جائزہ لے۔ اگر اس مہارت کی حامل ٹیم دستیاب نہیں تو کم از کم ہیلتھ کیئر کمیشن دستیاب مہارتوں کی حامل ٹیم ہی بھجوا کر صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کی زحمت گوارا کرے۔ گزشتہ روز کی مشترکہ کارروائی میں جو صورتحال سامنے آئی ہے اگر اسے اس پورے علاقے کی مجموعی صورتحال سے تشبیہہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں لوگ دور دراز سے علاج کے لئے قرض لے کرآئے ہیں اور نہ صرف ان عناصر کے ہتھے چڑھتے ہیں بلکہ کمیشن کی خاطر ان کو دلال ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے حق سے بھی دھوکے سے محروم کرتے ہیں۔ مگر اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ ڈبگری گارڈن کے کمیشن مافیا عطائیوں غیر مستند لیبارٹریوں و آلات تشخیص کے معیار و زائد المیعاد ہونے سمیت دیگر کئی معاملات ایسے ہیں جن کا تدارک ہونا چاہئے۔ کبھی کبھار ہی تکلفات کا مظاہرہ کافی نہیں۔ یہاں انسانی جانوں و صحت اور ان سے کھیلنے والوں کو کھلی چھٹی نہیں ملنی چاہئے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے مختلف ذمہ داران سبھی کی اس طرف توجہ کی ضرورت ہے وزیر صحت بھی اگر توجہ فرمائیں تو مضائقہ نہ ہوگا۔

اداریہ