ٹریفک حکام کی ناکامی کے باعث منفی تاثرات میں اضافہ

ٹریفک حکام کی ناکامی کے باعث منفی تاثرات میں اضافہ


پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر جاری کام کی وجہ سے ٹریفک کا نظام کافی متاثر ہوا ہے۔ٹریفک پولیس کا موقف ہے کہ لوگ جی ٹی روڈ کی بجائے متبادل سڑک کو استعمال کریں تاکہ ان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔لیکن وہ کونسے متبادل روٹس بنائے گئے ہیں جو متبادل قرار دئیے جا سکتے ہیں اور ٹریفک پولیس ٹریفک کو ان روٹس کی طرف کیوں نہیں موڑتی ان متبادل مبینہ انتظامات کے باوجود شہریوں کو مشکلات کا سامنا کیوں ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔شہر میں ٹریفک کا سنگین سے سنگین تر ہوتا مسئلہ سطحی اعلانات اورنشستندو گفتند و برخواستند قسم کے اقدامات سے حل نہیںہوگا۔ اگر متعلقہ حکام ہی صورتحال سے لا علم نکلیں گے اور اب تک نشاندہی اور آگاہی مہم کا فیصلہ ہی ہوتا رہے گا تو عملی اقدامات کی باری آخر کب آئے گی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اگر عوامی نمائندوں اور میڈیا کے نمائندوں سمیت تاجروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد یہاں تک کہ ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں' رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں کے نمائندوں کو بھی بلا کر روزانہ کی مشکلات کاجائزہ اور حل کے اقدامات تجویز نہیں کئے جائیں گے لا علم حکام اس مسئلے کا حل نکالنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کیا یہ امر مضحکہ خیز نہیں کہ ایس ایس پی ٹریفک کی آئی جی کو بریفنگ کے دوران ٹریفک کے انتظامات اور اقدامات کی تعریف کی جائے اور اسی روز بدترین ٹریفک جام کی صورتحال ہو۔ ٹریفک حکام کا رویہ ریپڈ بس منصوبے کے حوالے سے عوام میں منفی جذبات کا باعث بن رہا ہے اور ان کی ناکامیوں سے عوام حکومت کو پوری ناکامی کا ذمہ دار اور ناقص منصوبہ بندی کا مرتکب ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں۔ بلا شبہ اس بڑے منصوبے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوگی لیکن اگر ممکنہ متبادل انتظامات نظر آئیں اور عوام کی مشکلات میں قدرے کمی آئے تو وہ اپنے حصے کی مشکل جھیلنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

اداریہ