Daily Mashriq


کچھ باتیں کچھ قصے پرانے تو ہیں مگر؟

کچھ باتیں کچھ قصے پرانے تو ہیں مگر؟

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر جناب نواز شریف سے ہاتھ ملانے اور ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' میاں صاحب سے ہاتھ ملانا خارج از امکان ہے وہ مفاد پرست ہیں'' جبکہ بلاول کا کہنا ہے کہ نواز شریف جمہوریت کے خلاف ہر سازش میں شریک ہوئے۔ بلاول نے میمو گیٹ اور گیلانی والے معاملات کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر جمہوریت کو نقصان ہوا تو اس کی کالک زرداری صدیوں میں بھی نہیں صاف کر پائیں گے۔ رانا ثناء کے جواب دعویٰ سے اندازہ لگا لیجئے کہ نون لیگ ابھی ٹرک پر ہی سوارہے۔ مر گئے مگر تکبر اور اکڑ وہی ہی ہے۔ پچھلے دو دنوں سے نواز شریف کی خواہش ملاقات اور زرداری و بلاول کے جواب کو لے کر ہمارے کچھ کمرشل لبرل دوست جس درد جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں اس پر بھی کسی وقت عرض کریں گے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) کی قیادت اپنی جماعت اور مالکان کی جمہوریت کے لئے ایک قربانی بطور سند پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے؟۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میاں نواز شریف کی جانب سے دو اہم شخصیات طاقت کے اصل مرکز کے بڑوں سے رابطے میں ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک کی شہرت آصف زرداری کا دوست ہونا بھی ہے اور اب وہ لاہور کے ایک نجی ہائوسنگ پراجیکٹ میں شریف خاندان کے حصہ دار بھی ہیں۔ دوسری شخصیت میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی سمدھی ہے۔ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے یہ چودھری صاحب پاکستان کے مقتدر حلقوں سے آگے متحدہ عرب امارات کے شاہی ایوانوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ دونوں شخصیات کی سرتوڑ کوششیں بھی دو ہی ہیں۔ اولاً یہ کہ کسی طرح نواز شریف آصف زرداری ملاقات ہو جائے اور ثانیاً شریف خاندان کو کوئی محفوظ راستہ دے دیا جائے۔

جناب زرداری نواز شریف بارے جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں انہیں محض ذاتی غصہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس میں چند تلخ تجربات بھی شامل ہیں۔ 2008ء سے قبل کے تجربوں کا ذکر نہ بھی کریں تو 2008ء کے بعد کے تین چار معاملات ذہن میں لائیے۔ اولاً میثاق جمہوریت میں پی سی او ججز بارے طے شدہ فارمولے کے برعکس نون لیگ اور نواز شریف کا افتخار چودھری کورٹ کی بحالی پر مصر ہونا اور پھر ان کے لئے تحریک چلانا جو اس طور کامیاب ہوئی کہ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیری کلنٹن کا آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو ٹیلی فون کرنا اور پھر کھل جا سم سم کی طرح ساری رکاوٹوں کا دور ہوتے جانا۔ ثانیاً من گھڑت میمو گیٹ سکینڈل میں نواز شریف کا ملٹری اشرافیہ کی ہمنوائی میں کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جانا۔ ثانیاً لیگی ارکان قومی اسمبلی کا چودھری نثار اور خواجہ آصف کی سربراہی میں ایوان صدر کے مین گیٹ پر حملہ اوررابعً جناب گیلانی پر ہوئے توہین عدالت کے مقدمہ میں نواز شریف کا اپنی جماعت کے ساتھ اسی سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑا ہونا جسے آج وہ پی سی او سپریم کورٹ کہہ رہے ہیں۔ چلیں ایک اور بات یاد کیجئے کیسے 2009ء سے2013ء کے درمیان میاں شہباز شریف انتہائی گھٹیا اور بازاری زبان میں اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کو اپنے جلسوں میں مخاطب کرتے تھے۔ یہ وہی زرداری تھے جن سے شہباز شریف نے ذاتی طور پر معافی مانگی تھی۔ 1999 سے قبل کی بد زبانیوں اور چند دوسرے معاملات کی۔ ان چند باتوں کو یاد کروانے کا مقصد یہ ہے کہ جو دوست ان دنوں میاں صاحب کو جمہوریت اور انقلاب کا آخری آسرا بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ کم از کم اس بات پر تو غور کریں کہ شریف برادران نے تو ہمیشہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی کی طرح نبھایا۔ ان کی بہادری کا عالم یہ ہے کہ زرداری ان کے بھائی کی وفات پر تعزیت کے لئے جاتی امرا آنے والے تھے پروگرام طے تھا بلکہ میاں نواز شریف فاتحہ خوانی کے لئے آنے والے مہمان کو خود فون کرکے دوپہر کا کھانا جاتی امرا میں کھانے کی دعوت دے چکے تھے۔ پھر اچانک اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے آفس سے وزیر اعظم کو ایک ٹیلی فون گیا اور وزیر اعظم نے میڈیا کے ذریعے زرداری سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ یہاں ایک اور بات عرض کئے دیتا ہوں۔ جناب نواز شریف کے اس رویہ کے باوجود آصف علی زرداری نے انہیں ٹیلی فون کیا۔ نواز شریف نے اپنے پولیٹیکل سیکرٹری کرمانی (یہ حضرت اب پنجاب سے سینیٹر بھی ہیں) کو فون پکڑاتے ہوئے کہا فون ٹیپ ہوندے نے میں گل نی کرنی( فون ٹیپ ہوتے ہیں میں نے بات نہیں کرنی)۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اب زرداری کو میاں نواز شریف سے ملنا چاہئے جو فون ٹیپ ہونے کے خوف اور آرمی چیف کے دفتر سے آنے والے ایک فون پر میثاق جمہوریت اور ذاتی تعلقات کے وعدے بھلا دے؟ میری دانست میں جناب زرداری بھی بہت سارے معاملات کو سمجھتے ہیں وہ اپنی مفاہمت کی پالیسی کو بھگت چکے۔ پنجاب میں آج جو پیپلز پارٹی کا حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وسطی پنجاب میں نون لیگ کے حریف اب تحریک انصاف اور مولوی خادم رضوی ہیں۔ سرائیکی وسیب میں جہاں پیپلز پاٹی سرائیکی صوبے کی بات کرتی ہے خود پیپلز پارٹی کے دو حریف ہیں اولاً نون لیگ اور ثانیاً تحریک انصاف۔ ان حالات میں اگر پیپلز پارٹی نواز شر یف سے مفاہمت کی نئی فلم چلاتی ہے تو اسے سیاسی نقصان ہوگا۔ زرداری اور ان کی پارٹی اپنی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حق ہے۔ نون لیگ کے پاس وسائل بھی ہیں اور پرانے نئے اتحادی بھی وہ واقعی جمہوریت کی محبت میں گرفتار ہے تو بسم اللہ کرے نکلے میدان میں۔ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ دوستی اور مفاہمت کی باتوں کو اس طرح استعمال کیا جائے گا جیسے اے آر ڈی کو کیاگیا سب منہ دیکھتے رہے اور شریف خاندان ملک سے باہر چلا گیا۔

متعلقہ خبریں