Daily Mashriq


ہمت کرے انساں۔۔

ہمت کرے انساں۔۔

خوشی و غمی کامیابی و ناکامی کی آنکھ مچولی زندگی بھر انسان کے ساتھ چلتی رہتی ہے اچھے برے دن ہماری زندگی کا لازمہ ہیں ہمیں ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس حوالے سے انسانی رویے کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے کچھ لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اپنی اصلاح کرتے ہیں اور اپنے مقصد حیات کی طرف اپنی توجہ مرکوز کیے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں یہ وہ مثبت رویہ ہے جو حضرت انسان کو ناکامی کے بعد سنبھلنا سکھاتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز سے نپٹنا سکھاتا ہے۔ ورنہ یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اپنی ناکامیوں سے دل برداشتہ ہوجاتے ہیںاور مایوسی کا شکار ہوکر گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں۔ کامیابی کے سفر کے کچھ عملی تقاضے ہوتے ہیں اور ان تقاضوں کو پورا کیے بغیر بات کہاں بنتی ہے ؟صرف خواہشات کا ہونا کافی نہیں ہے ان خواہشات کے حصول کے لیے اپنے سامنے موجود رکاوٹوں کو بڑے حوصلے اور استقامت سے پھلانگنا پڑتا ہے !یہ اور اس طرح کے بہت سے خیالات ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں بڑی شدت سے ہلچل مچائے ہوئے ہیں اور ان خیالات کے یلغار کی وجہ مقامی کالج کے سال اول کے چند طالب علم ہیں جن کے سامنے زندگی اپنی پوری توانائیوں اور چکا چوند کے ساتھ موجود ہے۔ سب ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں وہ جو کہتے ہیں دنیا امید پر قائم ہے یہ امید ہی ہے جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے چمکتے دمکتے چہروں والے نونہال ہم سے زندگی میں کامیابی کے راز جاننا چاہتے ہیں۔ اپنے سامنے موجود زندگی کے وسیع و عریض دریا کی تند و تیز لہروں سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنی منزل کو پالینے کے متمنی ہیں۔یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب دل و جاں کی ساری توانائیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ دل میں چٹانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے ! اس کالم نگاری کے بھی کیا کہنے ان کو ہمارے دانشور ہونے کی خوش گمانی اور یہاں من آنم کہ من دانم والی کیفیت ! !بچوں کا جوش و خروش اور ہمارے حوالے سے خوش گمانی اپنی جگہ ادھر ہمارے لیے مشکل یہ آپڑی کہ ہم ان بچوں کو کیا بتائیں ؟سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی ایف ایس سی کو امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کرنا ہے پھر میڈیکل کالج کے لیے انٹری ٹیسٹ کا کے ٹو عبور کرنا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ چالیس پچاس طالب علموں میں سے دو چار ہی کو ڈاکٹر بننا نصیب ہوتا ہے۔ اب ان کو کچھ ایسا کہاجائے کہ ان کی امید بھی نہ ٹوٹے اور یہ ڈاکٹر بننے کی غلط فہمی میں بھی نہ رہیں انہیں ایسی راہ سے متعارف کروایا جائے کہ اگر میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملتا تو نا امید نہیں ہونا زندگی میں آگے بڑھنے والوں کے لیے میدانوں کی کیا کمی ہے۔ اگر ایک منزل کھوٹی ہوتی ہے تو کوئی بات نہیں! سوار بلند حوصلہ ہو تو گھوڑا دوڑانے کے لیے دوسرے بہت سے میدان چاروں طرف ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ بس ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور پھر ایک ہی خیال سے چپک کر رہ جانا کہاں کی دانائی ہے!ایک شعبے میں ناکامی کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ بندہ دوسرے شعبوں میں کوشش نہ کرے !انسان کی اگر ہر خواہش پوری ہوجائے تو یہ دنیا جنت نہ بن جائے ؟یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن یہ سب کچھ ان سے کیسے کہاجائے جو زندگی کے گھوڑے پر سوار میدان عمل میں اتر چکے ہیں؟خیال آیا کہ زندگی میں رویوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ زندگی کی بڑی بڑی ناکامیوں سے مثبت رویوں کی رفاقت میں نپٹا جاسکتا ہے۔ نشیب وفراز سے سب کا واسطہ پڑتا ہے بس اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت ہمارا رویہ کیا تھا؟ہم نے اپنی ناکامی کو کامیابی کا پہلا زینہ سمجھا یا ناکامی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر مایوس ہو کر بیٹھ گئے ۔ ہمیں یہی آسان لگا کہ ان بچوں کو زندگی کے مثبت رویوں کے حوالے سے بتایا جائے ۔ کامیاب لوگوں کی مثالیں ان کے سامنے رکھی جائیں ۔ ناکام ہونے والوں کے ردعمل پر بات کی جائے !اور ہمارے خیال میں یہی ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو ناکام ہونے سے بچالیتی ہے۔ آئیے کچھ کامیاب اور نامور لوگوں کی ابتدائی ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں! جب الیگزانڈر گراہم بیل نے ٹیلیفون ایجا د کرنے کے بعد اس کے استعمال کا عملی مظاہر ہ صدر مملکت کے سامنے کیا تو اس نے کہا چیز تو آپ نے اچھی بنائی ہے لیکن اسے کوئی استعمال نہیں کرے گا! ونسٹن چرچل کو آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز میں داخلہ نہیں دیا گیا !جب ٹامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کیا تو اس نے دو ہزار مرتبہ ناکامی کا سامنا کیا لیکن بالآخر کامیاب ہوگیا! ذرا غور کیجیے 2000بہت بڑا عدد ہے ؟اسی ٹامس ایڈیسن کے استاد نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ یہ اتنا کند ذہن ہے کہ اس کے لیے کچھ سیکھنا بہت مشکل ہے!فرینکلن ڈی روزویلٹ 39برس کی عمر میںپولیو سے مفلوج ہوگیا تھا لیکن اس نے ہمت نہیں ہار ی اپنا حوصلہ جوان رکھا اور پھر وہ چار مرتبہ امریکہ کا صدر بنا!آئن سٹائن کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ University of Bernنے پہلی مرتبہ یہ کہہ کر مسترد کردیاتھا کہ یہ اپنے موضوع سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس میں جو نکات پیش کیے گئے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے! اپنی تجارت کے پہلے سال کوکا کولا کمپنی نے صرف چار سو بوتلیں فروخت کیں!دیکھا آپ نے دنیا کے نامور لوگ ابتدامیں کس طرح ناکام ہوئے ؟لیکن انہوں نے ان ناکامیوں کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ۔یہ ناکامیاں ان کا اعتماد مجروح کرنے میں ناکام رہیں ! زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس بات پر یقین رکھا جائے کہ ہم کرسکتے ہیں!کنفیوشس نے بہت پہلے کہا تھا کہ اندھیرے کو برا بھلا کہنے سے تو بہتر ہے کہ ایک شمع روشن کر دی جائے!اندھیرے سے خوف کھائے بغیر اس کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہی جوانمردی کی علامت ہے ۔اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا

وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا

متعلقہ خبریں