ریاست کہاں ہے ؟؟

ریاست کہاں ہے ؟؟

ول ڈیوراں کی شہر ہ آفاق کتاب ''دی سٹوری آف سولائزیشن ''کے بطن سے جنم لینے والا کتابچہ "The Lessons of History"پڑھنے لائق ہے ۔ گیارہ جلدوںپر مشتمل سواری آف سولائزیشن لکھتے وقت ول ڈیوراں اور اسکی بیوی ایرئیل ڈیوراں کی توجہ اس جانب نہ تھی مگر بعد ازیں انہیں احساس ہوا کہ اپنے مطالعہ کی بنیاد پر وہ ایک اور چھوٹی سی کتاب مرتب کر سکتے ہیں جو لوگوں کو بتائے گی کہ تاریخ کے کون سے سبق یاد رکھنے والے ہیں ۔ تاریخ کا ایک سبق یہ ہے کہ انسان تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا ۔ ونسٹن چرچل سے منسوب ایک قول ہے کہ وہ لوگ جو تاریخ سے سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں بد قسمتی سے اُسے دہرانے کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کا طرز عمل بھی اس قول کے مصداق ہے ۔ معاملات کو حل کرنے میں ایک سے بڑھ کر ایک غلطی کے مرتکب وہ ہور ہے ہیں ۔ تاریخ سے انہوں نے کچھ سیکھا نہیں ہے ورنہ ریاست کی غیر ذمہ داری کا ایک اور مظاہرہ ہم آج دیکھ نہ رہے ہوتے ۔ اس پانچ سالہ دور میں ریاست عوامی جذبات سے بڑی حد تک غیر متعلق دکھائی دی ۔ خاص طور پر عوام کے مذہبی جذبات کو اُس نے اہمیت نہ دی جسکا نتیجہ ہے کہ تقریباً تمام مذہبی جماعتیں اور گروہ آج حکومت وقت کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔ پاکستان جیسے ملک میں ریاست اگر لوگوں کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرنے کی غلطی کرے گی تو اس کا خمیازہ لا محالہ اُسے بھگتنا پڑے گا ۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جہاں قرآن و سنت کی بالا دستی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا ہم نے عہد لکھ کر دیا ہوا ہے ۔ یہ عہد بانیان پاکستان نے قرار داد مقاصد کی صورت میں دیا جس کے بعد ازاں 1973ء کے آئین نے تجدید کی ۔ قومی سطح پر بالا اتفاق اس عہد کا اظہار حال ہی میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں بھی کیا گیا ، جس قرار داد مقاصد کو بعض لوگ متنازعہ کہتے تھے اُس کو باضابطہ طور پر آئین کا حصہ تسلیم کیا گیا ، یوں قرار داد مقاصد کا آئین میں داخل کیا جانا اب کسی ڈکٹیٹر کی باقیات نہیں ہے بلکہ یہ قومی جماعتوں کے اتفاق کی بدولت ہے ۔ پاکستان کی اسلامی نظریاتی ریاست کا تشخص اغیار کی نظروں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے چنانچہ وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس تشخص کو ختم کرنے کے درپے رہتے ہیں ۔ یہ ایجنٹ اس تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ معاشرے میں ایسی چیزوں کی حوصلہ افزائی ہو جن سے معاشرے کا اسلامی رنگ کمزور ہواور نام نہاد ماڈرن ازم کا تاثرابھرے ۔ ریاست کی سطح پر بھی یہ لوگ ان قوانین کو تبدیل کر انے کی جستجو کرتے ہیں جو اسلامی تشخص کو اُبھارتے اور تحفظ کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ناموس رسالت ۖ کا قانون اُنکا ہدف رہا ہے ۔ اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کرنے والوں میں جب حکومتیں خود ملوث ہونے لگیں یا کوگوں میں ایسا احساس پیدا ہونے لگے کہ ریاستی سطح پر کچھ ہونے لگا ہے تو پھراسلام آباد دھرنے جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ جب ریاست کا کوئی بڑا اہلکار غیر ذمہ دارانہ گفتگو و حرکات کا مر تکب ہو تو ریاست کو خود حرکت میں آنا پڑتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ریاست خاموش تماشائی بنی رہی ۔ ریاست اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی تو گورنر کی متنازعہ گفتگو اور حرکات کے بعد اس کو مستعفی ہونے کا کہتی لیکن اغیار کی خوشنودی چونکہ پیش نظر تھی لہٰذا گورنر مستعفی ہوئے اور نہ حکومت نے اس کے بیانات سے لا تعلقی کا اعلان کیا۔ اس کے مقابلے میں مصر میں وزیر انصاف توہین رسالتۖ پر مبنی گفتگو کا مرتکب ہوا تو وزیر اعظم نے فوری طور پر اس کا استعفیٰ طلب کیا حالانکہ اس نے ایک دن کے اندر اپنے الفاظ کی معافی مانگی مگر عوامی جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وزیر انصاف کو عہدے سے ہٹا دیاگیا۔ یہ مارچ 2013ء کا واقعہ ہے یعنی جن دنوں پاکستان میں سلمان تاثیر قتل کے تناظر میں بعض لوگ بحث کرتے تھے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے اور جواب میں ہم جیسے عامی اس دلیل پر اپنے موقف کی بنیاد رکھتے تھے کہ '' اس قضیے میں ریاست کہاں تھی؟ اس نے اپنا کردار ادا کیوں نہ کیا؟'' مصر میں ریاست نے اپنا کردار ادا کیا تو وہ کسی بڑے حادثے سے بچ گئی جبکہ ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔ آج کے حکمرانوں نے لیکن اس تاریخ سے کچھ نہ سیکھا ہے!اگر آج کی حکومت تاریخ سے سیکھنے کی کوشش کرتی تو ختم نبوتۖ کے ایشو پر خود سے ایکشن لیتی۔ ناموس رسالتۖ اور ختم نبوتۖ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ ایک لمحے کے لئے اگر کسی نے دانستہ طور پر ختم نبوتۖ کے قانون میں رد و بدل یا حلف نامے کی عبارت کو تبدیل کرنے کی حرکت نہیں بھی کی ہے پھر بھی یہ غفلت بلکہ بد ترین غفلت کے زمرے میں تو آتا ہے۔ کیا ایسی غفلت جو معاشرے میں شدید بے چینی پھیلانے کا باعث بنی ہو کا مرتکب شخص اپنے عہدے پر رہنے کے قابل ہے۔ کوئی بھی معاشرہ حکومتی منصب پر کسی ایسے فرد کو براجمان نہیں رہنے دے گا جو ان کے جذبات خواہ وہ نہ ہی ہوں یا کسی اور حوالے سے ہوں سے کھلواڑ کرے۔ مغربی معاشروں میں ہولو کاسٹ کے حوالے سے لکھنا اور بولنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر وہاں کوئی وزیر اس حوالے سے منفی گفتگو کا مرتکب ہوتو کیا حکومتیں خاموش رہیں گی اور بات محض زبانی کلامی معافی تلافی تک محدود رہے گی۔ ریاست کا ذمہ دارانہ کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو عہدوں سے ہٹا دیتی ہیں۔ اگر حکومت اپنے وزیر قانون کو غفلت کا مرتکب قرار دے کر عہدے سے ہٹا دیتی تو کیا آج اسلام آبادمیں صورتحال یہ ہوتی ۔

اداریہ