Daily Mashriq


ایم پی او کے تحت گرفتاریاں

ایم پی او کے تحت گرفتاریاں

میں تحریک لبیک کے لیڈر خادم حسین رضوی اور تقریباً گیارہ سو افراد کی گرفتاری کے ساتھ ہی جمعہ کی شب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی دو سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خادم حسین رضوی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں امن عامہ تحفظ کے قانون کے تحت ایک ماہ کے لیے حفاظتی حراست میںلیاگیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان کے بارے میںبھی تاثر ہے کہ انہیں اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ خاد م حسین رضوی نے ایک اور دھرنے کی کال دی تھی۔ اس سے پہلے انہوں نے اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم پر جو دو دھرنے دیے تھے ان میں عوام کو جن دقتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ قارئین کی معلومات میںہیں۔ ان دھرنوںکے دوران خصوصاً پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی ٹریفک بند کر دی گئی تھی اور پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں توڑ پھوڑ ‘ لوٹ مار‘ سڑکیں بند کرنا اور اشتعال انگیزی بھی شامل ہے۔ اس لیے یہ سمجھنے میںکوئی دقت نہیں کہ خادم رضوی اور ان کے ساتھ کئی سو افراد کو اندیشہ نقص کے باعث گرفتار کر کے حفاظتی حراست میں رکھا گیا ہے۔ حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کو مزید دھرنوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے اس بیان سے بھی اس خیال کو تقویت پہنچتی ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی اور ان کے ساتھ پنجاب میںگیارہ سو افراد کو اندیشۂ نقص امن کے تحت ایک ماہ کے لیے نظر بند رکھا جائے گا تاکہ یہ لوگ مزید دھرنے نہ دے سکیں اور ان دھرنوں کے دوران جو غیر قانونی کارروائیاں کی گئی تھیں ان کا اعادہ نہ ہو سکے۔ پنجاب حکومت نے ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی لگا دی ہے۔ امن عامہ برقرار رکھنے کے قانون کے تحت گرفتاری ایک انتظامی اقدام ہے جس کے تحت ایسے افراد کی نقل و حرکت محدود کر دی جاتی ہے جن سے امن عامہ میں خلل کا اندیشہ ہو۔ اور بیان کی گئی مدت کے بعد ان کی نظر بندی ختم کر دی جاتی ہے۔ اس طرح انتظامیہ نقص امن کے احتمال سے تو بچ جاتی ہے لیکن یہ امکان باقی رہ جاتا ہے کہ وہ لوگ جن سے نقص امن کا خدشہ تھا رہائی کے بعد دوبارہ اپنی کارروائیاں شروع کر دیں۔ شاید اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ نظر بندی کے عرصے میں معاشرے میں وہ فضا ختم ہو جاتی ہے جس میں گرفتار شدہ لوگ دوبارہ امن عامہ میںخلل پیدا کر سکیں۔ لیکن یہ فضا دوبارہ بھی تو پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر خادم حسین رضوی اور تیرہ سو افراد کی گرفتاری اس اندیشے کے تحت کی گئی جو خادم رضوی کی 25نومبر کی دھرنے کی کال کے باعث پیدا ہوا تو وہ تاریخ تو ٹل گئی۔ اس اقدام سے البتہ یہ بات ضرور ثابت ہوئی کہ خادم حسین رضوی کی دھرنے کی کال کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیںتھی۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ان کی گرفتاریوں پر کوئی عوامی احتجاج نہیںہوئے اور دفعہ 144کی کوئی قابل ذکر خلاف ورزی نہیںہوئی۔ خیبر پختونخوا کے اضلاع میں اگرچہ دفعہ 144کا نفاذ واضح خبر نہیں ہے تاہم جن اضلاع سے تحریک کے مقامی لیڈر اور ان کے ساتھ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہاں بھی ان کی گرفتاری کے خلاف کوئی قابلِ ذکر احتجاج نہیںہوا۔ لیکن یہ اندازہ لگانا کہ ان حفاظتی حراست کے اقدامات سے آئندہ پرتشدد دھرنوںکا خطرہ ختم ہو گیا ہے‘ ممکن ہے سو فیصد صحیح ثابت نہ ہو۔ کسی مقصد کی خاطر گرفتار ہونا یا گرفتاری دینا ہمارے ملک میں انگریز کے دور سے مقبولیت عامہ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے‘ جب آزادی کے لیے جدوجہد کی جاتی تھی اور انگریز سرکار اسے دبانے کے لیے امن عامہ برقرار رکھنے کے قانون ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سمیت متعدد حربے استعمال کرتی تھی۔ اب جب ایک ماہ کی حراست کے بعد یہ لوگ رہا ہوں گے تو ممکن ہے ان کا ہیروؤں کے طور پر خیر مقدم کیا جائے ‘جلسے منعقد کیے جائیں‘ جلوس نکالے جائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ احتجاج جاری رکھنے کے اعلان کیے جائیں۔ ممکن ہے کہ ان کی حفاظتی حراست کے دوران حکومت انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہو کہ پرتشدد احتجاج‘ ہسپتالوں ‘ تعلیمی اداروں اور روزگار کے لیے جانے والوں کے رستے روکنا۔لٹھ بردار لوگوںکوجمع کرنا۔ اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا راستہ کسی مذہب اور قانون کے تحت مناسب نہیںہے۔ ممکن ہے ان سے اس حوالے سے وعدے بھی لیے جا رہے ہوں کہ مستقبل میں وہ نامناسب رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ گرفتار طلبہ کے والدین سے ضمانت نامے بھی حاصل کیے جاتے رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ ان لوگوں میں ایسے افراد بھی شامل ہوں جنہوں نے سابقہ دھرنوںمیں پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لیا ہو۔لیکن یہ احتمال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ بڑی تعداد میں یکجا گرفتاریوں کے باعث ان سب کو کسی بڑے مقصد کے داعی کا درجہ حاصل ہو جائے۔ جب کہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی ماضی کے دھرنوں کے دنوں میں پرتشدد کارروائیوں کے حوالے سے نشاندہی ہو چکی تھی۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ ان میںسے ایسے لوگوں کو منفرد کیا جائے جن کے بارے میں حکومت کے پاس پرتشدد کارروائیوںمیںملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور اس حوالے سے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور جو افراد محض حمایتی یا متفق ہونے کی بنا پر گرفتار ہوئے ہیں انہیں ایک ایک دو دو کر کے رہا کر دینا قرین مصلحت ہو گا۔ پنجاب کی حکومت اپنے گیارہ سو گرفتار شدہ افراد کی رہائی ایک ماہ کے بعد ایک دن کرتی ہے یا کوئی اور طریقہ اختیار کرتی ہے اسے بھی بیان کیے گئے احتمالات پر غور کرنا چاہیے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں کیونکہ دھرنے نہیں دیے گئے تھے اور صوبے میں ایسی پرتشدد کارروائیاں نہیںہوئی تھیں جیسی پنجاب میں ہوئیں اس لیے خیبر پختونخوا کی حکومت کو چاہیے کہ محض ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جن کے بارے میں پرتشدد کارروائیوں یا اشتعال انگیزی کے شواہد موجود ہیں باقی افراد کو تشدد سے لاتعلقی کے وعدوں پر رفتہ رفتہ رہا کر دے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے ایم پی او کے تحت عارضی نظر بندی کا اقدام غالباً اس لیے کیا ہے کہ اس طرح معاملہ دب جائے گا ۔ لیکن جیسے کہ سطور بالا میںکہا گیا ہے کہ یہ احتمال اپنی جگہ رہتا ہے کہ معاملہ نہ دبے بلکہ ابھرے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ معاملہ عدالتوں میں بھی جائے اور اسمبلیوںمیں بھی اس پر بحث ہو۔ اگر عدالتوں اور اسمبلیوں میں بحث کے دوران احتجاج کیے جاتے ہیں تو عوام کے سامنے یہ حقیقت ہو گی کہ عدالتوں اور اسمبلیوں میں کارروائی ہو رہی ہے اس لیے احتجاج کی گنجائش نہیںہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں