Daily Mashriq


فلاحی ریاست کی طرف قدم

فلاحی ریاست کی طرف قدم

اعلیٰ محمود خان کے زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے میں تین نئے شیلٹر ہومز (پناہ گاہیں) قائم کرنے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ صوبے میں موجود گیارہ سراؤں کی بحالی ‘ نشہ کے عادی افراد کے علاج کے مراکز کی بحالی اور گلی بچوں (سٹریٹ چلڈرن ) کے لیے زمونگ کور کی استعداد بڑھانے اور فنکاروںکو اعزازیہ نہ ملنے کی شکایات کے ازالے کے لیے نہایت مستحسن فیصلے کیے گئے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد سے فلاحی ریاست کے تصور کے حقیقت میں بدلنے کی طرف پیش رفت ہو گی۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مسافروں اور بے گھروں کے لیے پناہ گاہیں قائم کی جا رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میںبھی تین نئے شیلٹر ہومز (پناہ گاہیں) قائم کرنے کی طرف وزیر اعظم کے فلاحی ریاست کے تصور کو حقیقت میںبدلنے کی طرف ایک پیش رفت ہے۔ اس کے لیے اجلاس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ رات کو چھت کے بغیر سونے والوںکا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے۔ جو ایک مشکل کام ہو گا کیونکہ رات کو بے چھت سونے والوں میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو مریضوں کے ساتھ ان کے علاج کے لیے شہروں میں آتے ہیں اور علاج کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ آیا بے چھت سونے والے مزدور ہیں یا گداگر۔ مریضوںکے لواحقین کا ڈیٹا وقت کے ساتھ بدلتا رہے گا۔ اور اگر اس حوالے سے گداگروں کی تخصیص کی گئی تو ان میں سے ایک تعداد خوف کے مارے چھپ جائے گی البتہ دیہاڑی دار مزدور سکھ کا سانس لیں گے۔ اس لیے ایک تو صوبے میں پہلے سے موجود سراؤں کے نظام کو درست کرنے کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ دوسرے سردست ہسپتالوں کے قریب خیموں میں پناہ گاہیں قائم کی جانی چاہئیں تاکہ مریضوںکے ساتھ آنے والے ان سے استفادہ کر سکیں۔ سراؤں اور خیمہ پناہ گاہوںمیں شناخت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ‘ ان کے ازالے کے لیے شناختی کارڈ کی شرط کا اعلان کیا جانا ضروری ہونا چاہیے۔ ان سراؤں اور پناہ گاہوںمیں اگر لاہور کی طرح طعام کا بندوبست بھی کیاجاتا ہے تو اس کا سادہ ہونا ضروری ہونا چاہیے تاکہ خوش فکرے ان کا رخ نہ کریں۔ گداگروں کو ان میں قیام و طعام کی سہولت دی جانی چاہیے تاکہ وہاں سے انہیں ایسے مراکز میں منتقل کرنے میں آسانی ہو جہاں انہیں روزگار کے لیے مہارتیں سکھائی جا سکیں۔ ان میں حوائج ضروری اور نہانے دھونے کا اچھا انتظام ہونا جس میں لوگ بوقت ضرورت کپڑے بھی دھو سکیں۔ گداگروں پر پابندی نہیںلگانی چاہیے ان کو سہارا ملے گا۔ زندگی کی بنیادی سہولتیں ملیں گی تو وہ برسرروزگار زندگی کی طرف مائل ہوں گے ۔ ان کے لیے ایسے مراکز کا انتظام کیا جانا چاہیے جہاں وہ کچھ بنیادی مہارتیں سیکھ سکیں۔ ان سراؤں اور پناہ گاہوں کا رابطہ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کے ساتھ ہونا ضروری ہے تاکہ کسی ہنگامی صورت میں علاج معالجہ کی سہولت کا بندوبست کیا جا سکے۔ زمونگ کور کی بحالی اور بہتری نہایت مستحسن اقدام ہے ایسے بچوں کے والدین کی اور ان کو زیرِ کفالت لینے کے خواہش مندوں کی تلاش کی جانی چاہیے اس سے بھی بہتر یہ ہوگا کہ سویٹ ہومز کے ساتھ تعاون کے ذریعے ان کے لیے بندوبست کیاجائے۔

متعلقہ خبریں