Daily Mashriq

صحن چمن میں بہار کا موسم

صحن چمن میں بہار کا موسم

کیا ہم ایک بار پھر اس دور میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جب فیض احمد فیض نے کہا تھا

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغ گلشن وصوت ہزارکا موسم

تب تو ملک پر آمریت مسلط تھی اور نہ صرف ادب پر جمود کی کیفیت تھی،لوگ تجریدی مصوری کی طرح تجریدی ادب تخلیق کرنے پر مجبور تھے، اشاروں ، کنایوں میں بات کرتے ، مزاحمتی ادب تخلیق کیا جارہا تھا۔یہ وہ دور تھا جب اخبارات کے کالموں سے پوری پوری خبریں خارج کردی جاتیں اور وقت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں لکھ دیا جاتا’’چریہ اڑگیا‘‘ یوں وہ جگہ خالی رہتی ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب خبروں کا یہ عالم تھا یعنی معمولی سی مخالفت برداشت نہ ہوتی تو پھر اداریئے، اظہاریئے اور کالموں کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ مگریہ بھی نہیں کہ لوگ لکھنے سے باز آرہے تھے۔ لکھنے والے لکھتے رہے، اور فکاہیہ ادب کی آڑ میں طنز کے ایسے ایسے تیر برساتے رہے کہ بقول ایک فلمی شاعر’’سمجھنے والے سمجھ گئے، نا سمجھے جواناڑی ہیں‘‘۔ فیض نے یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے‘‘۔ اس کا طریقہ بھی خود فیض ہی نے علامتی شاعری کے ذریعے سمجھا دیا تھا اور کہا کہ ہر ایک حلقہ زنجیر میں زبان رکھ دو، اسی دور میں ایک لطیفہ بھی بہت مشہور ہوا تھا۔ چونکہ اس دور میں سوویت یونین کے حوالے سے ایک بات بہت مشہور تھی کہ کمیونسٹ روس نے ایک ایسا نظام رائج کیا ہے کہ اندر کی بات باہر نکل ہی نہیں سکتی، ان دنوں روسی کمیونسٹ نظام کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ روسی معاشرہ ایک آہنی دیوار کے پیچھے ہے جہاں سے کوئی خبر باہر نہیں نکل سکتی ،دراصل وہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے خفیہ ادارے گستاپو کی طرز پر کے جی بی کا اثر بہت زیادہ تھا اس لئے لوگ خوف کی جس کیفیت سے دوچار تھے اسے ہی’’آہنی دیوار‘‘ کا نام علامت کے طور پر دیا گیا تھا، ہاں تو وہ لطیفہ کچھ یوںتھا کہ ایک بار کسی بین الاقوامی سمینار میں امریکی اور روسی صحافی اور دانشور اکٹھے ہوئے اور آزادی اظہار کی بات چھڑی تو امریکی صحافیوں اور دانشوروں نے بڑے فخر سے کہا ہمارے ہاں اظہار رائے کی آزادی کا یہ حال ہے کہ ہم امریکی صدر کے خلاف بھی جو دل چاہے لکھ سکتے ہیں۔روسی صحافیوں اور دانشوروں نے ایک دوسرے کو معنی خیز انداز میں دیکھا اور پھر ایک سینئر صحافی نے مسکراتے ہوئے کہا، یہ کونسی بڑی بات ہے ، ہمیں تو اس سے بھی زیادہ کی آزادی ہے ، امریکی حیران ہوئے اور پوچھا وہ کیسے؟ تو روسی صحافی نے کہا، تم تو صرف صدر امریکہ کے خلاف خبریں اور تبصرے کرنے میں آزاد ہو، ہم تو امریکی صدر کو گالیاں تک دیتے رہتے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں روکتا۔جس دور کی بات اوپر کی سطور میں بیان کی ہے اس دور کے کالم نگاروں نے کبھی حرف شکایات زبان پر لانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی بات قارئین تک پہنچانے کیلئے خود راستے تلاش کرتے رہے ، زیادہ تر فکاہیہ کالم نگاری کا سہارا لیتے رہے اور مزاح ہی مزاح میں دل کی بات قلم کی نوک پر لے آتے ، مگر آج جب کہ سوشل میڈیا آزاد بلکہ احتیاط کی تمام دیواریں پھلانگ چکا ہے ، اور سوشل میڈیا پر ایسی ایسی پوسٹیں سامنے آرہی ہیں کہ بندہ کانوں کو ہاتھ لگا کر رہ جاتا ہے ،مرد تو مرد ، خواتین کے نام پر (ان میں وہ مرد بھی شامل ہیں جو خواتین کے نام پر اکائونٹس کھول کر مغلظات کا کاروبار چلا رہے ہیں) ایسے بے باک تبصرے سامنے آتے رہتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔ اکثر اخبارات نے خود ترحمی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے ، اور اسلام آباد، لاہور، کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات کے ادارتی صفحات جو پہلے کالموں سے بھرے رہتے تھے سمٹ گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان اخبارات کے مقبول کالم نگاروں کو یہ شکایات لاحق ہوگئی ہیں کہ ان کے اخبارات نے ان کا کالم سنسر کردیا ہے اور شامل اشاعت نہیں کیا، پھر یہی کالم ٹویٹر اور فیس بک پر اپ لوڈ کر کے قارئین تک پہنچایا جاتا ہے، جو صرف ان قارئین تک پہنچتا ہے جو سوشل میڈیا سے وابستہ ہوتے ہیں، اس صورتحال نے بہر طور ایک بات کی وضاحت تو کردی ہے یعنی جو لوگ سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ آنے کے بعد یہ دعوے کرتے آئے تھے کہ اب ایک کلک پر پوری دنیا کا لڑیچر آپ کے سامنے آجاتا ہے اس لئے اب پرنٹ میڈیا کی اہمیت وہ نہیں رہی جو پہلے تھی، مگر یہ دعوے کم از کم ہمارے ہاں درست ثابت نہیں ہوئے ایک تو اس لئے کہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہر شخص انٹر نیٹ سے استفادہ نہیں کرسکتا ، دوسرا یہ کہ جو بات اخبار یا کتاب کو ہاتھ میں اٹھا کر پڑھنے میں ہے وہ کمپیوٹر یا موبائل سکرین پر پڑھنے میں نہیں ہے ۔ اس لئے اگر اخبارات میں کالم نگاروں کے کالم شامل نہیں ہوتے خواہ وہ لاکھ ٹویٹر یا فیس بک پر اپ لوڈ کئے جائیں ان کی پہنچ محدود لوگوں تک ہی رہتی ہے ۔ مگر اخبارات بھی کیا کریں، یہاں بھی اس لطیفے والی صورتحال ہے کہ مریض ڈاکٹر کے پاس اس لئے جاتا ہے کہ ڈاکٹر بھی زندہ رہے، پھر کیمسٹ سے دوا اس لئے خریدتا ہے کہ آخر کیمسٹ نے بھی تو زندہ رہنا ہے، مگر یہ سب کچھ کر کے بھی دوا اس لئے نہیں کھاتا کہ اسے بھی مزید زندہ رہنے کی خواہش ہوتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اخبارات ہرکالم شائع کرے گا تو اسے اپنی اشاعت معطل کرنے کے خدشات لاحق ہو سکتے ہیں ، اسی لئے تو احمد فراز نے بھی تو کہاتھا کہ

فراز صحن میں بہار کا موسم

نہ فیض دیکھ سکے تھے نہ ہم ہی دیکھیں گے

متعلقہ خبریں