Daily Mashriq

یوٹرن اور عمران خان

یوٹرن اور عمران خان

اس کو کہتے ہیں بال کی کھال اُتارنا۔ وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن کی بات جس تناظر میں کی ہے اسکو سمجھنے کی بجائے خواہ مخواہ کی تنقید کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما میاں شہباز شریف نے بھی یوٹرن کا ذکر کیا اور کہایوٹرن لینے والوں پر دنیا اعتبار کیسے کرے گی۔ اپوزیشن رہنما کے بیان پر حیرت ہوئی کہ انہیں بد عہدی اور رجوع کرنے کے درمیان فرق کیوں محسوس نہ ہوا۔ عمران خان ایک با اصول سیاستدان ہیں اور عہد کی پاسداری کرنے والے ہیں ، یوٹرن سے انکی مراد اپنی غلطی پر رجوع کرنا ہے جو ہر ذی شعور اور ہوشمند انسان کا طرہ امتیاز ہونا چاہیئے ۔ عارف کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ انسان غلطی سے نہیں غلطی پر اصرار سے تباہ ہو تا ہے۔ جہاں غلطی کا احساس ہو وہاں فوراً اصلاح کرتے ہوئے اپنی غلطی سے رجوع کرنا چاہیئے۔ واپس پلٹ آنا منفی نہیں مثبت طرز عمل ہے۔ غلط وہ ہوگا جب واپس مڑنے کی بجائے غلط راستے پر آگے بڑھتا جائے گا۔ عمران خان اور ان کے مخالف سیاسی رہنمائوں کے طرز عمل میں بنیادی فرق یہی ہے۔ عمران خان اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور نادم ہونے کی بجائے اپنی پالیسیوں کو بدلتے ہیں جبکہ انکے ہم عصر سیاستدانوں کی اکثریت اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے والی ہے ، اس طرز عمل سے ملک کا بھی نقصان ہوا اور ان کی سیاست بھی تباہ ہوئی۔ اس کے مقابلے میں عمران خان کامیاب ہوتے گئے ، آج وہ مملکت خداداد پاکستان کے وزیراعظم ہیں جبکہ انکے سیاسی حریف اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔جب وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یوٹرن لینا عظیم قیادت کا طرہ امتیاز ہے تو ان پر بغیر سوچے سمجھے تنقید کی گئی حالانکہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب عظیم رہنمائوں نے اپنی پالیسیوںپر یوٹرن لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے روسی صدر سٹالن کو ہٹلر مخالف کیمپ میں خوش آمدید کہا تو ان پر کڑی تنقید ہوئی کہ چرچل نے اپنی کمیونسٹ پالیسی پر 180درجے کا ٹرن لے لیا ہے ۔ چرچل نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے خلاف اگر اُسے شیطان کو بھی اپنی صفوں میں خوش آمدید کہنا پڑا تو وہ اُسے خوش آمدید کہیں گے ۔ چرچل نے جو کیا وہ اُس وقت کی ضرورت تھی۔ چرچل اگر یہ قدم نہ اُٹھا تے تو آج شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی ۔ چرچل بیسیویں صدی کے عظیم رہنما کہلوائے تو اس کی وجہ دوسری جنگ عظیم میں ان کی فتح تھی اور یہ فتح روس کے ساتھ باہمی تعاون واتحاد کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی۔شہباز شریف یوٹرن اور بد عہدی میں فرق ملحوظ خاطر رکھتے تو انہیں آئینے میںاپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ قدم قدم پر قوم سے جھوٹ بولتے رہے‘ ان کے دو چہرے تھے‘ ایک چہرہ بیرونی آقائوں کو دکھانے کے لئے اور دوسرا عوام کے لئے۔ دوغلا پن حکمرانوں کا شیوہ رہا ورنہ کیا پاکستانیوں کی حالت زار اب تک یوں ابتر ہوتی۔ قوم نے ان کی بد عہدی کی بھاری قیمت ادا کی البتہ یہ رہنما اپنے بیرونی آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ان سے کئے گئے وعدے پورے کرتے رہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اقتدار میں آنے کے لئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے بیرونی آقائوں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کیا کیا وعدے نہ کئے۔ بعض عہد ناموں سے تاریخ پردہ اٹھا دیتی ہے جبکہ بعض راز میں رہتے ہیں۔ حکمرانوں کے طرز عمل سے مگر آشکار ہوتا ہے کہ در پردہ انہوں نے کچھ وعدے کئے ہوئے جن کی تکمیل کے لئے وہ خاص ایجنڈے پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ کونڈا لیزا رائس کی کتاب جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے پاور شیئرنگ فارمولے کی داستان بیان کرتی ہے۔ امریکہ نے یہ ڈیل بروکر کی اور بدلے میں پیپلز پارٹی نے امریکیوں سے کیا عہد و پیمان کئے اس کی تفصیل جاننے کے لئے کسی کتاب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف 2008ء اور 2013ء کے درمیانی عرصے کے واقعات پر ایک نظر ڈال لیجئے بات سمجھ میں آجائے گی۔ پیپلز پارٹی کے اس پانچ سالہ عہد میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کیا طرز عمل اختیار کیاگیا۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی امریکیوں سے عہد و پیمان کرنے میں کب پیچھے رہنے والی تھی۔ نواز شریف اپنی ٹیم کے ہمراہ رچرڈ ہالبروک سے با جماعت ملاقات کے لئے امریکی سفارت خانے جا پہنچے۔ وہ مسلم لیگ(ن) جو جنرل مشرف کے دور میں افغان جنگ کو امریکی جنگ قرار دیتی رہی اس نے اپنی پالیسی پر 180 درجے کا ٹرن لیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا۔ پاکستان کے مفادات کا تقاضا کیا ہے اس بارے میں سوچنا مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہمیشہ دوسری ترجیح رہی ہے۔ ان کی اصل ترجیح اپنا اقتدار اور اس کا تحفظ ہے۔بیرونی آقائوں کی خوشنودی عمران خان کے قدموں کی زنجیر نہیں ہے۔ مغربی رہنمائوں سے ان کی لا تعلقی واضح ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر جیسا رد عمل دیا ہے کیا میاں شہباز شریف‘ نواز شریف یا آصف علی زرداری سے اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔ عمران خان کی شہرت ایماندار اور با اصول سیاستدان کی ہے چنانچہ امریکی یا دیگر مغربی قیادت ان سے ماضی کے ’’ٹو ڈی حکمرانوں‘‘ کی طرح برتائو نہیں کرسکتی۔ عمران خان کے بیرون ملک کوئی اسٹیکس نہیں جو امریکہ یا اہل مغرب کو کسی طرح کی ’’لیوریج‘‘ مہیا کرسکے۔ جیسا کہ ہمیں آصف زرداری یا میاں برادران کے معاملے میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی قوم بخوبی اس بات سے آگاہ ہے کہ آج کا پاکستانی حکمران اپنی قوم سے سچ بولنے والا ہے۔ ماضی کے حکمرانوں کے برعکس اس کا صرف ایک چہرہ ہے۔ وہ جیسا اندر ہے ویسا ہی باہر دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں سے انکار کرنے والا نہیں بلکہ ان کی اصلاح کرنے والا ہے۔ اس کے مخالفین جس یوٹرن کو منفی انداز سے دیکھتے ہیں وہ دراصل ایک مثبت طرز عمل ہے۔

متعلقہ خبریں