Daily Mashriq


اپنے رویئے پر نظر ثانی کیجئے

اپنے رویئے پر نظر ثانی کیجئے

پختون قوم ایک طویل عرصہ سے قربانیاں دے رہی ہے۔ ان کے بڑے لیڈروں کو شہید کیا گیا۔ان میںبشیر احمد بلور ، ہا رون بلور، مولانا سمیع الحق ‘پنجاب کے وزیر داخلہ شجا ع خانزادہ اورہزاروں پختون جن کو بے دردی سے شہید کیاگیا شامل ہیں۔مولانا فضل الرحمان ، اسفند یار ولی خان اور امیر مقام پر قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں۔

کراچی میں نقیب محسود کے قاتل رائو انور کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی گئی حالانکہ وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن سے پہلے نقیب محسود کے والدین کو تسلی دی تھی کہ اقتدار میں آتے ہی نقیب خاندان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔مگر نقیب محسود اوردوسرے بے گناہ لوگوں کے قاتل آزاد پھر ر ہے ہیں۔ وہ قوم جس نے بر صغیر پاک و ہند اور وسطی ایشیاء پر 300 سال تک حکومت کی آج کل غیرتو غیر اپنے ملک کے حاکموں کی نظروں میں بھی دہشت گرد اور انتہا پسند ہے اورمختلف حیلوں بہانوں سے اس جری اور بہادر قوم کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔

خیبر پختون خوا کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ علاقہ ہر دور میں جا رحیت اور تسلط اور بڑی طاقتوں کا میدان جنگ رہا ہے اورمختلف شورشوں کی وجہ سے پختونوں کو بھاری جانی اور مالی نُقصان اُٹھانا پڑا ۔ اس علاقے کے لوگوں کو یہاں حکمرانوں نے وہ مواقع فراہم نہیں کئے جس سے وہ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی حا صل کرسکتے۔ نہ یہاں صنعتی زون قائم کئے اور نہ ان لوگوں کوان تکنیکی علوم و فنون سے بہرہ ور کیاگیا جس سے وہ اپنی اقتصادی حالت بہتر بنا سکتے نتیجتاً بد قسمتی سے یہاں بے روزگاری زیادہ ہے۔ ٍ میرے خیال میں 188 ممالک میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پر پختون اُس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کر دار ادا نہ کرر ہے ہوں اور بھاری تعداد میں زر مبادلہ بھیج رہے ہوں۔ وہ پختون جنکے آبائو اجداد نے اس خطے پر 300 سال تک حکومت کی جو ایک مار شل قوم ہے آج کل وطن عزیز میں ایک ہدف مذاق بنی ہوئی ہے۔ پختونوں کو ملکی ڈراموں ، سٹیج شوز میں ایک بے وقوف کی شکل میں پیش کیا جا تا ہے۔ اور پشتو فلموں کے ذریعے انکے کلچر کو تباہ کیا جارہا ہے۔ پنجاب کے چھوٹے شہرتو ایک طرف اسلام آباد اور پنڈی کے مہذب ترین جڑواں شہروں میں پختونوں کے ساتھ یہاں کی پولیس اور انتظامیہ جس طر ح پیش آتی ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔

اکثروبیشتر پبلک ٹرانسپورٹ اور دوسرے پبلک مقامات پر پختونوں کی جس طرح تلاشی لی جاتی ہے اور اُن کے ساتھ جو سلوک روا رکھاجاتا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور کئی دفعہ تو فیملی سمیت پختونوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔وطن عزیز کی فلموں ، ڈراموں اور سٹیج کے خاکوں میں پٹھانوں کا جس طرح خاکہ پیش کیا جاتا ہے اس سے وہ یہ ظاہر کرنے کی کو شش کرتے ہیں کہ پختون ایک غیر مہذب ، غیر شائستہ اور کم عقل قوم ہے ۔ پختونوں نے دہشت گر دی کی جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دیں مگر پھر بھی اُسی پختون کو دہشت گر د اور انتہا پسند کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقہ جات کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ یہ چاہئے تھا کہ انکے لئے سکول ، کالج، یونیور سٹیاں بنائی جاتیں مگر یہ افسوس کا مقام ہے کہ پختونوں اور بالخصوص قبائلی علاقہ جات کے پختونوں کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔عام طور پر پختونوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند کہا جاتا ہے مگر پختون جتنے محب وطن ہیں شاید ہی کوئی اور قوم ہو۔ جہاں تک خود کش حملہ آوروں کا تعلق ہے ان کے بارے میںتحقیق کاروں کا خیال ہے ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو تا ۔ اُنکا کہنا ہے کہ سال 1980ء سے اب تک سب سے زیادہ خود کش حملے سری لنکا کے تامل ٹائیگر نے کئے ہیںجن کا کوئی مذہب نہیں تھا ۔ڈاکٹر پیپ کہتے ہیں کہ میں نے اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں خود کش حملوں کے 462 کیسوں کا مطالعہ کیا ہے اور ان میں 95 فی صد ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہو تا یعنی وہ سیکولر ہوتے ہیں۔

لہٰذا کسی پر الزام کی بجائے اپنے فرائض دیانت داری اور ایمانداری سے ادا کرکے دہشت گردوں کو پکڑ کے کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقہ جات میں مزید تعلیمی اور روز گار کے مو اقع فراہم کیئے جائیں تاکہ کوئی غُربت اور افلاس کی وجہ سے کسی کا آلہ کار نہ بنے۔ پختونوں کے خلاف امتیازی رویہ روکنا چاہئے۔ اگر اس طرح پختون رہنمائوں اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کے پختون کارکنوں کو اس تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا رہا تو اس سے پاکستان کی سلامتی کو بہت زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں