Daily Mashriq

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

میں کمبل کو چھوڑتا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ یہ ضرب المثل ہم نے اپنے اسکول کی درسی کتابوں میں ایک نصیحت آموز کہانی پڑھ کر جانی تھی ۔ کہانی کا عنوان تھا لالچ بری بلا ہے۔ اس کہانی کا ایک کردار اپنے دوست کے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ اس کی نظر نہر کے پانی میں تیرتے کمبل پر پڑی۔ دیکھو دیکھو وہ کمبل نہر کے بہتے پانی میں ، بڑا قیمتی کمبل لگتا ہے، تم یہیں ٹھہرو میں پانی میں چھلانگ لگا کر وہ کمبل لاتاہوں۔ اس سے پہلے کہ اس کا دوست کوئی جواب دے پاتا اس شخص نے پانی میں چھلانگ لگادی اور کمبل کی جانب بڑھنے لگا۔ وہ کمبل کے قریب پہنچا اس کو پکڑنے کے لئے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ لیکن یہ کیا۔ وہ کمبل نہیں تھا ایک بھالو تھا جس کی کھال کووہ کمبل سمجھ کر بہتے پانی میں چھلانگ لگا بیٹھا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ بھالو کی کھال کو چھوتا۔ بھالو نے اچک کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا دوست نہر کے کنارے کھڑا اس کے کمبل لیکر پانی سے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی

انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے

اس سے رہا نہ گیا اوراس نے اس کو آواز دی ، ارے بھائی چھوڑو کمبل کواور اب باہر نکل آؤ پانی سے جس کے جواب میں وہ نادان لالچی کہنے لگا کہ’’کمبل کو میں چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا‘‘۔ نصابی کتابوں میں لالچ بری بلا ہے کے موضوع پر بچوں کو پڑھائی جانے والی اس نصیحت آموز کہانی کے کردار ہمارے ارد گرد بے شمار اور ان گنت تعداد میں موجود رہتے ہیں اور ان کمبلوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

کے مصداق بظاہر کمبل نظر آتے ہیں لیکن جب ان سے واسطہ پڑتا ہے تو ہمیں ان کے بھالو یا ریچھ ہونے کا اس وقت احساس ہوتا ہے جب بہت سارا پانی سر سے گزرچکا ہوتا ہے۔ ہم بے شمار اور لاتعدادکمبلوں میں سے صرف اور صرف ایک کمبل کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ ہے آپ کے میرے اور ہم سب کے ہاتھوں میں ہمہ وقت موجود رہنے والا موبائل سیٹ۔ موبائل سیٹ جو گراہم بیل کے ایجاد کردہ ٹیلی فون سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد بہت سی منزلیں طے کر نے کے بعد صرف ہمارے لئے نہیں دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایسے کمبل کا روپ اختیار کر چکا ہے جسے نہ ہم چھوڑنا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ ہمیں چھوڑتا ہے۔ ہم اس کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ کسی وجہ سے اسے کچھ دیر کے لئے بند کردیا جائے تو واویلا برپا کردیا جاتا ہے۔ اس کے بند کردینے سے دل کی دھڑکنیں بند ہوجاتی ہیں، وقت کی نبض رک جاتی ہے اورکاروبار زندگی رک جاتا ہے اور ایک ٹیلیفونک کال کی دوری پر رہنے والے ناقابل تسخیر دوریوں پر جاپہنچتے ہیں۔ وائرلیس سیٹ سے موبائل سیٹ اور پھر اینڈ رائڈ موبائل سیٹ نے تو ہر ہاتھ میں منی کمپیوٹر تھما دیا ہے۔ ویڈیو گیمز، ویڈیو کالز، اور نت نئے متعارف ہونے والے سوشل میڈیا اور ان کے نت نئے ناموں سے متعارف ہونے والی ایپلی کیشنز نے تو دیوانہ کرکے رکھ دیا ہے گلوبل ویلج کے سادے مرادے دیہاتیوں کو۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والا کس و ناکس گردن جھکائے ہاتھوں میں جادو کی ڈبیا تھامے جام جہاں نماکی جادونگری میں گم ہے۔ اس دن توحد ہوگئی تھی جب بھولا باچھا نظریں اپنے موبائل سیٹ کی سکرین پر گاڑھے اپنے دولت خانہ کی بجائے ہمسائے کے مکان میں داخل ہوگیا اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ کر لطف اٹھانے لگا اپنے موبائل سیشن کا ایسے میںہمسایہ ہاتھ میں موبائل تھامے اپنے گھر میں داخل ہوا اور موبائل سے نظریں ہٹا کر بھولے باچھا کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ’’آئی ایم ویری سوری۔ میں اپنے گھر میں داخل ہونے کی بجائے غلطی سے آپ کے گھر داخل ہوگیا۔ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا اور بھولا باچھا اس کی یہ بات سن کر اس کی حماقت پر کھی کھی کر ہنسنے کی بجائے بے وقوف کہیں کا کہہ کر ایک بار پھر فنا فی الموبائل ہوگیا۔

موبائل عہد حاضر کے ہرفرد کے لئے ایسا کمبل بن چکا ہے جسے آپ لاکھ چھوڑنے کی کوشش کریں یہ آپ کو چھوڑنے والا نہیں۔ بظاہر یہ بہت کام کی چیز ہے لیکن اس کے اندر کتنے شیطان چھپے بیٹھے ہیں اس کا کسی کو اندازہ نہیں حال ہی میں ایسے ہی ایک شیطانی سافٹ وئیر کا انکشاف ہوا ہے جوآپ کی اجازت کے بغیر آپ کے نمبر سے کسی کو بھی کوئی سا فحش ، واہیات یا دھمکی آمیز میسج بھیج کر آپ کے سکون کو غارت کرسکتا ہے ، آپ کی سا کھ ہی کو نہیں آپ کی زندگی تک کو داؤ پر لگا سکتا ہے، آپ کو لوٹ سکتا ہے، اللہ نہ کرے آپ کو دہشت گرد ثابت کرسکتا ہے ۔ یہ سنسنی خیز خبر ایک نجی ٹی وی چینل نے جاری کرکے سرا سیمگی پھیلادی اور ہم سوچتے رہ گئے کہ کتنا خوفناک ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا یہ شیطانی کمبل جس کے سامنے پانی میں چھپا بھالو کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ یہ عہد حاضر کی پوری نسل کو اپنی گرفت میں جکڑ چکا ہے جس سے جان بچا کر نکل بھاگنے کی کوئی راہ ہم تو ہم ہمارے چارہ گروں کو بھی نظر نہیں آرہی، ایسے میں ہم اپنے پڑھنے والوں کو مشتری ہوشیار باش کہنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

متعلقہ خبریں