Daily Mashriq


امریکی وزیر خارجہ سے مختلف انداز کی ملاقات

امریکی وزیر خارجہ سے مختلف انداز کی ملاقات

امریکی وزیر خارجہ ریکسن ٹلر سن کی چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آمد‘ افغانستان میں بگرام ائیر بیس پر افغان صدر سے ملاقات اور ایک روزہ دورے پر بھارت چلے جانا اس امر کااندازہ لگانے کے لئے مشکل نہیں کہ اس خطے میں کس ملک کی کتنی اہمیت و وقعت ہے اور امریکہ اس خطے میں کسے اتحادی کاعملی درجہ دیتا ہے۔ پاکستانی قیادت کا امریکی وزیر خارجہ کا پہلی مرتبہ وزارت خارجہ کے ایک اوسط درجے کے افسر کے ذریعے استقبال اور حکومت اور عسکری قیادت کی الگ الگ ملاقاتوں کا وقت طے ہونے کے باوجود اکٹھے ملاقات جہاں قیادت کے متحد ہونے کاایک خاص پیغام ہے وہاں امریکہ کو الگ الگ ملاقاتوں سے الگ الگ معاملات طے کرنے کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے۔ ان سارے معاملات سے پاک امریکہ تعلقات میں پاکستان کی طرف سے پہلے کی بہ نسبت برابری کی بنیاد پر تعلقات کا عندیہ ملتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے امریکہ سے مرعوب تعلقات پر نظر ثانی اور کھری بات کا بھی تاثر قائم ہوتا ہے۔ یقینا یہ ایک مشکل اور جرأتمندانہ فیصلہ تھا جو ظاہری اور سطحی اثرات اور تاثرات کاباعث ہے۔ اس کو قوم کا پاک امریکہ تعلقات کو پہلے سے مختلف نظروں سے دیکھنا فطری امر ہوگا اور اس کی وجوہات بھی واضح ہیں۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے امریکہ سے تعلقات کی نوعیت اور فیصلوں کی عوام کی جانب سے مزاحمت اور رد کرنے کا بیان بھی معنی خیز سمجھا جاتا ہے وگرنہ قبل ازیں عوام بے چارے چیختے چلاتے رہ جاتے تھے اور ہر سیاسی حکومت اور عسکری قیادت جو بہتر سمجھتی رہی وہ کرتی آئی ہے مگر اب لگتا ہے اولاً ایسا نہیں ہوگا اور ثانیاً جو بھی ہوگا عوام کے سامنے ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ کے افغانستان میں بیان پر سینٹ کے چیئر مین نے ایوان میں آکر آگاہ کرنے کی جو ہدایت کی ہے اس کے بعد ایوان میں حکومتی موقف کی مزید وضاحت ہوگی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا فقدان راتوں رات ختم نہیں ہو گا۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات کے بعد بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں گزشتہ کئی برسوں میں برف اتنی جم گئی ہے اس کو پگھلنے میں وقت لگے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت جو کوششیں ہو رہی ہیں اس سے ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں اور اس سے بہتر صورتحال پیدا ہو گی۔امریکہ کے پاکستان پر افغانستان کے معاملے پر پائے جانے والے خدشات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ پرانی دوستی یاری کے نتائج پہلے سے ہی بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ستر ہزار جانوں اور اربوں ڈالر کا کا نقصان اٹھا لیا ہے، ہمارا پرامن کلچر اور برداشت پر مبنی معاشرہ تھا، وہ سب برباد ہو گیا اور اس سے برے نتائج ہمیں امریکہ کیا بھگتوائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ باتیں دھمکی کی زبان سے نہیں صلح کی زبان سے طے ہوں گی۔ ہمارا محفوظ ٹھکانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان (طالبان) کے پاس افغانستان میں 45 فیصد علاقہ ہے اور یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے کارناموں اور کارکردگی کی وجہ سے انہیں مہیا کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ امریکہ کو بھی سوچنا چاہیے کہ اس نے 16 برس میں افغانستان میں کیا کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد پاکستان پر کی جانے والی تنقید سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے، وہیں گزشتہ روز امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کا دورہ پاکستان حالات میں بہتری کی جانب ایک اچھا قدم قرار دیا جارہا ہے۔تاہم اس دورے کے دوران بھی دونوں فریقین کا موقف ماضی سے کچھ مختلف نہ رہا اور ریکس ٹلرسن نے ایک مرتبہ پھر قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کو کمزور کرنے کے لیے اپنے اسی مطالبے کو دوہرایا۔تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ بظاہر امریکی حکام کے پاکستان میں اس طرح کے دوروں سے لگتا ہے کہ امریکا، پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے مسلسل دبا بڑھا رہا ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اگر ایسا ہوگا تو افغان طالبان کی توقعات کم ہوجائیں جس سے وہ مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں۔ امریکی سیکریٹری ریکس ٹلرسن کے حالیہ دورے میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے رہنما اپنی رائے پر ڈٹے رہے جبکہ پاکستان نے مسلسل اس بات سے انکار کیا کہ یہاں پر دہشت گردوں یا حقانی نیٹ ورک کے کوئی محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں سے بہتری کی ایک امید پیدا ہوئی ہے اور ساتھ ہی امریکی صدر کی افغان پالیسی کے بعد بیان سے جو تعلقات میں برف جمی تھی وہ بھی کچھ حد تک پگھلتی نظر آرہی ہے۔افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی پاکستان اور امریکا کی رائے مختلف رہی ہے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو دونوں میں اعتماد کو کم کرتی ہے۔ اگرچہ سخت بیانات کسی حد تک تنا ئو کی صورتحال کو جنم دیتے ہیں، لیکن دونوں ہی ممالک چاہتے ہیں کہ تعلقات مکمل طور پر ختم نہ ہوں کیونکہ اکیلے رہ کر امریکا افغان میں اپنے مقصد کو پورا نہیں کرسکتا۔

متعلقہ خبریں