Daily Mashriq


چیئر مین نیب کا عزم اور توقعات

چیئر مین نیب کا عزم اور توقعات

قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس(ر) جاوید اقبال کادعویٰ ہے کہ اب نیب میں تبدیلی اور احتساب ہوتا نظر آئے گا۔ یہ نیب کے نئے چیئرمین کے حق میں نیک شگون ہی سمجھا جائے گا کہ نیب نے سندھ کے سابق وزیر اطلاعات کو اربوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ نیب لوگوں کو گرفتار تو کرتی ہے ان پر الزامات سن کر کانوں کو ہاتھ بھی لگایاجاتا ہے لیکن بالآخر ان ملزمان کو سزا نہیں ملتی۔ سندھ ہی میں ڈاکٹر عاصم اس کی زندہ مثال ہیں۔ شرجیل میمن کی کرپشن چونکہ اربوں میں ہے اور وہ سندھ کی حکمران جماعت کے اہم رکن ہیں اس بناء پر اس خدشہ کا اظہار بے جا نہیں کہ کہیں اس کیس کا حشر بھی ڈاکٹر عاصم کے مقدمے کا جیسا نہ ہو۔ نیب کی بارگیننگ ‘ کمزور تفتیش اور ہواکھڑا کرکے آخر میں عدالت کے سامنے شواہد اور گواہ پیش کرنے میں ناکامی سے نیب پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہمارے تئیں ان کمزوریوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ نیب کے چیئر مین کو چاہئے کہ وہ نیب کے اہم مقدمات کو سیاست زدہ اور میڈیا زدہ ہونے سے بچانے کی سعی کریں ۔کسی سیاستدان کے کرپٹ ہونے پر احتساب کو سیاسی انتقام نہ گردانا جائے اور نہ ہی میڈیا کرپشن کے بڑے ملزم کو ہیرو بنا دے ۔ کہا جاتا ہے کہ سیاستدان پر الزام گویا انعام ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عدالت سے چھوٹ جانے والے ہی نہیں بلکہ سزا بھی ہو جائے تب بھی سیاستدان کی بھلے بھلے پر حرف نہیں آتا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے معاشرے میں بد عنوانی اور بد عنوانی کے الزام میں گرفتاری یہاں تک کہ سزا بھگتنے کو بھی زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے معمولات کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ لوگوں میں اگر کسی برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا جائے تو اس معاشرے میں احتساب کا عمل یقینا مشکل بن جاتا ہے۔ بہر حال جسٹس(ر) جاوید اقبال ایک اچھی شہرت کی حامل شخصیت ہیں جن پر اہم قومی معاملات بارے سبھی کا اتفاق ہوا ہے اور اب بھی چیئر مین نیب کے طور پر ان کی تقرری کی کسی بھی جانب سے عدم مخالفت ان پر قومی اجماع کا مظہر ہے جس کی بناء پر ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہمیں نیب کی مشکلات کا بھی احساس ہے اور اس امر کا بھی کہ وائٹ کالر جرائم کو ثابت کرنا اور اس کے ملزمان کو سزا دلوانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ چیئر مین نیب نہ صرف معلوم بدعنوان عناصر کی بدعنوانیوں پر گرفت کرتے ہوئے ان کو سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ ایسے عناصر کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کریں گے جن پر نظر نہیں پڑتی۔ جس نیب کو خود عدالتوں نے مردہ قرار دے رکھا ہو اس کااحیاء اور اس کی کارکردگی کوئی آسان کام نہیں لیکن چیئر مین نیب کی شخصیت عزم اور یقین دہانی سے امید ہو چکی ہے کہ وطن عزیز میں بد عنوان عناصر کا احتساب ضرور ہوگا اور قوم چھوٹے بڑے بلکہ بڑے چھوٹے لٹیروں کو بے نقاب دیکھ سکے گی اور نیب پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔

بے تکی بیان بازی کاحاصل؟

پاکستان تحریک انصاف کی منحرف رکن عائشہ گلالئی کو قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرنے کے مقدمے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مخالفت اور اسے خلاف آئین قرار دینے کی قانونی اور اخلاقی طور پر تو گنجائش نہیں لیکن اگر اس معاملے سے صرف نظر بھی کرلیا جائے تو قومی اسمبلی کے اجلاس سے عائشہ گلالئی کو روکنے کی تحریک انصاف کی دھمکی کی کوئی گنجائش نہیں اس وقت بھی تحریک انصاف کے قائد عمران خان الیکشن کمیشن کی توہین کرنے پر مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف از خود ایسے اقدامات میں ملوث ہوتی ہے جس کی بناء پر اس کو خواہ مخواہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر اداروں کو دبائو میں لانے اور اپنے حق میں فیصلے قبول کرنے اور مخالف فیصلہ پر آسمان سر پر اٹھانے کاالزام لگتا ہے۔ جس طرح عائشہ گلالئی کو بے تکے الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہئے اسی طرح تحریک انصاف کی قیادت کو بھی معمول کے معاملات پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کا حق ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے اور عدالت میں اسے غیر آئینی اور غیر قانونی ثابت کرے مگر میڈیا میں ایک ادارے کی تضحیک و توہین کے باعث بیانات نہ دئیے جائیں۔ عائشہ گلالئی کے بے تکے بیانات سے قطع نظر ان کے بعض انکشافات کو گھر کے بھیدی کے انکشافات قرار دینے کی گنجائش موجود ہے۔ بہر حال بہتر ہوگا کہ آپس کی چپقلش میں آئینی اداروں کو مطعون نہ کیاجائے اور مناسب فورم پر ہی معاملات اٹھائے جائیں اور تحفظات کااظہار کیا جائے تاکہ ان کا کوئی نتیجہ سامنے آئے۔

متعلقہ خبریں