Daily Mashriq

ڈو مور کے امریکی مطالبوں کا اصل مقصد؟

ڈو مور کے امریکی مطالبوں کا اصل مقصد؟

اس موضوع پر بات کرنے سے قبل عرض کردوں کے پچھلے کالم ’’زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے‘‘ میں یقینا بہت سارے صاحب و علم و دانش کا تذکرہ نہیں ہو پایا خود مجھے بھی ملال ہے کہ قبلہ مولوی جی حضرت سید امیر حسین شاہ گیلانیؒ کا ذکر نہیں کرپایا۔ وسیع المطالعہ شفیق و حلیم بزرگ تھے۔ ان کی محبت و شفقت اور بعض موضوعات پر رہنمائی آخری سانس تک یاد رہے گی۔ اسی طرح مشرق پشاور کے عہد نو کے بانی اور بزرگ محترم جناب سید تاج میر شاہ صاحب ان کے برادر بزرگ سید ظفر علی شاہ‘ اردو کے بلند پایہ شاعر سید محسن نقوی‘ بلوچی ادب کے چندے آفتاب میر گل نصیر اور دوسرے بہت سارے بزرگوں کاذکر پھر کبھی کسی کالم میں ادھار رہا۔ کالم کے دامن میں گنجائش کم ہوتی ہے۔ سہواً کسی کا ذکر رہ جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ تذکرہ سے گریز کیا۔ ہم سے طالب علم پروان ہی بزرگوں‘ اساتذہ اور صاحبان علم کی جوتیاں سیدھی کرکے چڑھے تو کیسے ممکن ہے کہ اپنے مہربان بزرگوں کو بھلا دیا جائے۔ اب آتے ہیں اصل موضوع پر امریکی وزیر خارجہ نے سوموار کے روز کابل میں کہا کہ ’’ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرے یا پھر نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار رہے‘‘ شدت پسندی سے جنم لینے والی عسکریت پسندی نے جس قدر نقصان پاکستان کو پہنچایا اتنا امریکہ کو پہنچا ہوتا تو سوویت یونین کی طرح بکھر گیا ہوتا۔ لاریب ماضی میں بعض پالیسیاں ملکی اور قومی مفادات کے منافی مسلط ہوئیں کچھ اثرات کی باتیں اب بھی ہوتی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کا سرپرست بھی امریکہ بہادر تھا۔ اسی کی ہلہ شیری پر پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کا شوق پالا۔ ضیاء اور مشرف دور کی پالیسیوں کاخمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ خود امریکیوں کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ نجانے کب اور کہاں وہ الٹی زقند بھرتے ہوئے نئے ملکی مفادات کی مالا جپنے لگیں۔ پاک امریکہ تعلقات کی سات دہائیوں کے سفر میں کج ادائیاں زیادہ ہیں اور مساوی دوستی وہ صرف جاگتی آنکھ کا خو اب جو ہمارے حکمران بھرتے رہے۔ اب بھی خطے میں امریکی ترجیحات کے حوالے سے پچھلے چند دنوں سے تواتر کے ساتھ عرض کرتا چلا آرہا ہوں۔ یہاں ایک سادہ سا سوال ہے۔ پاکستان کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکی دینے والے امریکی وزیر خارجہ ذرا یہ تو بتائیں کہ ان کا ملک ایک طرف تو افغانستان میں داعش کو منظم کر رہا ہے اور دوسری طرف وہ اپنے افغان حریف طالبان سے یکم نومبر کو دبئی میں مذاکرات کے نئے دور سے بھی جی بہلائے گا۔ یہ سب کیا ہے؟ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ پاکستان کو اپنے ملکی اور عوامی مفاد میں فیصلے کرنے دیجئے۔ حکم دے کر تلوار گردن پر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ امریکہ نوازی اور ٹوڈی گیروں کا سفر بہت ہوچکا۔ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوئے انڈے کھائیں کے مصداق معاملات نہیں چلیں گے۔ پاکستان کو موجودہ حالات میں کیا کرنا ہے اورکیا کرنا چاہئے یہ امریکہ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ آنکھیں بند کرکے امریکی احکامات پر عمل کے کم از کم پچھلے چار عشروں کے دوران جو جانی و مالی نقصان پاکستان کا ہوا یہی بہت ہے۔ امریکی خوشنودی کے لئے اپنے صحن میں مزید آگ کے الائو بھڑکانے سے باز آئے ہم۔ امریکی وزیر خارجہ کابل اور منگل کو پاکستان کے دورہ سے قبل ریاض میں تھے وہاں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے دورہ پاکستان کو ان خیالات کے تناظر اور مقاصد کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ خلیج میں جس نئی جنگ کی راہیں ہموار کرنے میں مصروف ہے اس کی خواہش ہے کہ پاکستان بھی اس جنگ میں قربانی کا بکرا بنے اور اپنے اہم ترین پڑوسی ملک ایران کے خلاف امریکی کوششوں‘ مقاصد اور دیگر معاملات کوآگے بڑھائے۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بناء پر عرض کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان پر بے سر و پا الزام تراشی اور ڈو مور کے مطالبوں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ ایران سے ہوئے عالمی ایٹمی معاہدہ کو یکطرفہ طور پر ترک کرنے سے قبل خلیج میں ایران مخالف عسکری اتحاد کی تشکیل کے لئے عجلت میں ہے۔ پاکستان پر بھی ایک طرح سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایران مخالف اتحاد میں امریکہ کا ہمنوا ہو۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان آنکھیں بند کرکے امریکی تابعدار کے طور پر کسی نئے بحران کو گھر کاراستہ کیوں دکھائے۔ ایک ایسا ملک جس کے اپنے مسائل ہی بہت گمبھیر ہیں اسے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کاراستہ اپنا نا چاہئے۔ کوئی ضرورت نہیں کہ کسی دبائو میں آجائے یا اپنے لئے اور مسائل پیدا کئے جائیں۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے کہ پاکستان امریکہ کے نا مناسب مطالبات اور افغان حوالے سے لگی قلا بازیوں کے ساتھ پالیسیوں کے دوہرے معیار اور افغانستان میں داعش کو منظم کرنے کے شواہد کی بنیاد پر روس اور چین سمیت دیگر دوست ملکوں کو اعتماد میں لے تاکہ امریکہ نفسیاتی دبائو بڑھانے کی چال بازیوں اور ڈو مور کے مطالبات سے کچھ وقت نکال کر بدلے ہوئے حالات کو بھی سمجھ سکے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ پاکستانی قیادت کو اپنے مفادات سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں دنیا میں جو ممالک امریکی تابعداروں کی فہرست میں شامل نہیں وہ بھی طویل عرصہ سے زندہ ہیں۔ پاکستان کے پاس تو بہترین متبادل کی صورت میں چین اور روس موجود ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ امریکیوں کے ڈومور کے مطالبات پر سپر ڈالنے کی ضرورت ہر گز نہیں بلکہ دو ٹوک انداز میں اس پر واضح کیا جانا چاہئے کہ ہمیں بھی نفع نقصان اور طویل المدتی مفادات کو مد نظر رکھنے کا حق حاصل ہے۔ امید واثق ہے کہ ستر سال کی باج گزاری سے نجات حاصل کرکے آزاد روی میں پہل کی جائے گی ایسا کیاگیا تو 22کروڑ پاکستانی اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اداریہ