احتساب ، اب کے مذاق کی گنجائش نہیں

احتساب ، اب کے مذاق کی گنجائش نہیں

نیب نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کو عدالت سے گرفتار کر لیا ہے۔شرجیل میمن پر محکمہ اطلاعات میں پانچ ارب کی کرپشن کا الزام ہے ۔ملک میں اس وقت احتساب کا غلغلہ بلند ہے ۔نیب کے تن مردہ میں جان پڑ چکی ہے ۔سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈاور دبنگ جج جسٹس جاوید اقبال نیب کے چیئرمین کا منصب سنبھال چکے ہیں اور وہ احتساب کے حوالے سے دوٹوک انداز میں اپنے ارادوں اور عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔شرجیل انعام کی گرفتاری کے روز ہی نیب نے پی آئی اے کے جہاز کو اونے پونے ایک اسرائیلی کمپنی کو فروخت کرنے اور ملتان میٹرو بس کے منصوبے میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ پاکستان کا گردوپیش ہی نہیں زمانہ بدل رہا ہے ۔ایک نیا عالمی منظر تشکیل پارہا ہے ۔قومیں اگلے ایک سو سال یا اس سے آگے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں جیسے امریکہ اور بھارت کے درمیان سو سالہ دفاعی شراکت داری کا معاہدہ۔دنیا میں یہ موڑ اور یہ مراحل صدیوں اوردہائیوں کے بعد آتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے ہمنوا جن میں اسرائیل ،بھارت اور یورپ کا کچھ حصہ اورجاپان شامل ہے ایک طرف کھڑے دکھائی دے رہے ہیںجبکہ روس اور چین الگ مقام پر کھڑے نظر آرہے ہیں ۔ایران ،ترکی اسی جانب لڑھک رہے ہیں جلد یا بدیر سعودی عرب کے پاس بھی اسی جانب رخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔اس بلاک میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے ۔پاکستان دنیا کی تیزی سے وسعت پذیر معیشت چین کا ہمسایہ ،قریبی اتحادی ہی نہیں بلکہ دنیا کی وسعتوں کی سمت چین کے لئے کھلنے والی کھڑکی ہے ۔یہ تازہ ہوا میں سانس لینے کے لئے چین کے پاس واحد اور قابل اعتماد ذریعہ ہے ۔ سرد جنگ کے بدترین دنوں اور مختلف سمتوں میں سفر کرنے کے باوجود پاکستان نے چین کے لئے یہ کھڑکی کھولے رکھی اب تو منظر ہی بدل گیا ہے ۔چین اب محصور ،تنہائی پسند اور اپنی دنیا میں گم ملک نہیں رہا بلکہ دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنے اقتصادی پر پھیلا چکا ہے ۔وہ ایک ملک سے زیادہ ایک عالمی تہذیب کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے ۔اس کی زبان ،کھانے اور رواج ہر غالب ہونے والی قوم کی طرح دنیا میں فروغ پا رہے ہیں۔یہ اس زمانے سے قطعی مختلف دور ہے جو پاکستان ستر برس میں گزار چکا ہے ۔تب امریکہ او ر مغربی ادارے پاکستان کو سٹریٹجک معاملات میں استعمال کرنے کے عوض یا سوویت یونین کے ساتھی بھارت پر نظر رکھنے اور اس کی دُم پر پائوں رکھنے کے لئے نقد امداد دے کر بری الذمہ ہوتے تھے ۔ انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ رقم کسی ذاتی جیب میں چلی جاتی ہے یا جائز مقاصد کے لئے خرچ ہوتی ہے پاکستان کا کام بھی چلتا تھا اور سوویت یونین اور بھارت کی مخبری کے لئے ا مریکہ کے مقاصد بھی پورے ہوتے تھے ۔ اب یہ پوزیشن یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب امریکہ کے ہاں یہ حیثیت بھارت نے اختیار کر لی ہے ۔چین پاکستان کو امداد نہیں دے گا اوریہ چین کا سٹائل بھی نہیں۔ جیسے کہ عام طور کہا جاتا ہے کہ چین مچھلی پکڑ کر نہیںدیتا مچھلی پکڑنے کا طریقہ بتاتا ہے عین ممکن ہے کہ مچھلی پکڑنے کا جال اور راڈ وغیرہ خریدنے میں کچھ مدد دے ۔چین پاکستان کو عالمی طاقت بننے کی دوڑ میں اپنے ساتھ چلانے کی کوشش کرے گا ۔چین اگر ایک طاقتور انجن کی حامل جدید گاڑی ہے تو پاکستان کا حال وقت گزیدہ اور انجر پنجر کار جیسا ہے ۔اس انجر پنجر نے اگر چین کے ساتھ نہیں تو کم ازکم اس کے قریب قریب رہ کر دوڑنا ہے اور اس کے لئے پاکستان کے نظام کو سریع الحرکت ،شفاف اور واضح بنانا ناگزیر ٹھہرا ہے ۔ پاکستان کا استحکام،نظام کی شفافیت چین کے لئے حددرجہ اہم ہے۔سی پیک کی صورت میں چین نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کے جہاں اپنا بہت کچھ دائو پر لگارکھا ہے وہیں پاکستان میں خواہشات اور اخلاقی اقدار کے پروانے کے آگے ساکھ اور دیانت اور امانت کاچراغ سجا کر رکھ دیا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ وقت کی ایک ضرورت اور مجبوری نے ہمیں دوبارہ احتساب جیسے نعروں اور اقدامات کی طرف موڑ دیا ہے حالانکہ یہ مجبوری کا معاملہ نہیں ہوتا قوموں کی زندگی کا لازمی حصہ ہوتا ہے ۔امانت اور دیانت ،قومی املاک اور اثاثوں کی رکھوالی کسی قوم کے تادیر زندہ رہنے میں اہم کردار کرتی ہیں ۔ یہ من حیث القوم پاکستانیوں کے لئے ایک امتحان بھی ہے کہ وہ ماضی کے طور طریقے بدل کر دنیا کی بڑی طاقت کے اعتماد پر پور ا اترتے ہیں یا اپنی روایتی کہولت اور سستی کو سینے سے لگائے قیامت کی چال چلنے والے زمانے سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔چین امریکہ نہیں کہ وہ پاکستان کو قلیل المدتی مقاصد کے لئے استعمال کرکے اپنے ساتھ گھسیٹتا رہے۔چین اور پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں اورپاکستان چین کے لئے آزاد دنیا سے آکسیجن کے حصول کا ذریعہ ہے ۔اس لئے بدلے ہوئے وقت کے ساتھ پاکستان کو بدلنا ہوگا ۔اس تبدیلی کا پہلا تقاضابدعنوانی سے پاک سسٹم ہے ۔بدقسمتی سے بدعنوانی پاکستان میں ایک عمومی سماجی رویہ ،مزاج اور عادت بن چکی ہے ۔عام فرد سے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں تک کوئی بھی شخص اس قباحت سے پاک نہیں۔اس بات کی ماضی کی طرح احتساب کی اصطلاح اور نعرے سے مذاق کی گنجائش ہر گز نہیں اس بار ہم پیچھے رہ گئے تو زمانہ بہت آگے نکل جائے گا چین عالمی طاقت بنے گا اور بھارت اس کے مخاصمانہ تعاقب میں آگے نکل جائے گا اور ہم ان دونوں کو حسرت ویاس سے دیکھتے رہی جائیں۔

اداریہ