اصل کہانی کیا ہے ؟

اصل کہانی کیا ہے ؟

یہ موسم ہی شاید ایسا ہے ۔ تبدیلی کا موسم ۔ ہر جانب تبدیلی ہی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے ۔ جھومتے درختوں کے پتو ں سے گرمی دھیرے دھیرے مٹی کے ساتھ جھڑ رہی ہے اور ایسے ہی ملک کی سیاست سے بد عنوان لوگوں کی مٹی جھڑ رہی ہے ۔ یہ بات کس قدر خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے اس کا شاید ہمیں ابھی تک پوری طرح اندازہ ہی نہیں ۔ ابھی تو ہم اسی پریشانی کا شکار ہیں کہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے کیا حقیقت میں ایسا ہو بھی سکتا ہے ۔ سوچتی ہوں کہ یہ غیر یقینی کیفیت اس ملک کے ہر ایک آدمی کو عجب پریشانی کا شکار کیے ہوئے ہے ۔ لوگ جو کچھ اپنے ارد گرد ہوتے دیکھ رہے ہیں وہ اس پر یقین نہیں کر سکتے ۔ بہت دھوکے بار بار کھانے کے بعد یہی ہو جاتا ہے ۔ انسان کو یقین نہیں آتا کہ جو کچھ ہورہا ہے و ہ حقیقت میں بھی ہو سکتا ہے ۔ ہم نے احتساب کی باتیں تو بہت بار سنی ہیں ۔ بہت بار دیکھا کہ محض ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کو یا سیاسی طور پر انتقام لینے کو کتنے ہی ڈرامے رچائے گئے ۔ بہت بار ایسا بھی ہوا کہ دکھایا کچھ اور گیا ، عنوان کچھ اور تھے اور حقیقی کہانی کچھ اور ۔ اور اس ساری بار بار کی دھوکہ دہی نے یہ یقین ہی ختم کردیا کہ اس ملک میں انہی حالات میں رہتے ہوئے ہمارے ساتھ کچھ اچھا بھی ہو سکتا ہے ۔ جب سے ہم میاں نواز شریف کا ٹرائل دیکھ رہے ہیں ،کسی ایک بات پر بھی یقین نہیں آتا ۔ ایک لمحے کو بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ جو کچھ ہورہا ہے ، سچ بھی ہوسکتا ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص مسلسل اندر کی کہانی سمجھنے کی جستجو میں مبتلا ہے ۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اصل کہانی کیا ہے ؟ میاں نواز شریف کو پاناما لیکس کے ذریعے بد عنوان ثابت کرنے میں اصل کردار کس کا ہے ۔ ہم تو ایک عرصے سے جانتے تھے کہ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ہی بد عنوان ہے ۔ شریف صاحبان کے لیے تو کسی کے دل میں کسی طور کا کوئی ابہام انکے پیروکاروں کے دلوں میں بھی موجود نہ تھا ۔ وہ تو جانے کن مجبوریوں کے تحت کہا کرتے تھے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بد عنوان ہیں ، لٹیرے ہیں ہمار ے مستقبل کے سودے کر رہے ہیں لیکن ہم ووٹ پھر بھی انہی کو ہی دینگے ۔ ہم میں سے کئی لوگ جو مسلم لیگ (ن) کے ووٹر ہونے کے سحر میں مبتلا نہیں تھے ان کی اس منطق پر بہت حیران بھی رہے ، مضحکہ اڑاتے رہے لیکن ان کی مجبوری ہماری سمجھ میںنہ آسکی ۔ اور اب جب کہ میاں نواز شریف پر فرد جرم عائد ہو چکی ہم ابھی بھی اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یلو کیب اور موٹروے سکیم میںانہوں نے بے تحاشا کمیشن کمایا ۔یہی بات میٹرو منصوبے میں دکھائی دیتی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ مختلف ایس آر اوز کے جاری کیئے جانے اور واپس لیے جانے کے درمیان کروڑوں کے گھپلے کیسے آرام سکون سے ہو جایا کرتے تھے ۔ کتنی ہی چیزوں کی طویل فہرستیں ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔ ہم سب جانتے تھے بس یہ نہیں معلوم تھا کہ ان بادشاہوں کا کبھی احتساب بھی ہو سکتا ہے ۔ ہم نے اپنے ملک میں کبھی احتساب ہوتے کہاں دیکھا تھا ۔ ہم نے اپنے آپ کو اتنی بار لٹتے دیکھا ہے کہ اب اگر کوئی ا نہیں لوٹنے سے روکے تو ہمیں عجیب لگتا ہے ۔ ہمیں اس میں سازش محسوس ہونے لگتی ہے ۔ یہ خوف محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید کوئی ہمارے خلاف کسی قسم کی چال چل رہا ہے ۔ شاید کسی نے کوئی جال بنا ہے جس میں ہمیں ہی پھانس لینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہم اس خیال سے مشوش اورپریشان رہتے ہیں کہ کوئی جانے ہماری تباہی کو کیسے لبادے اوڑ ھا کر ، خوشنما بنا کر ہمارے لیے گڑھے کھود رہا ہے ۔ اسی خوف میں ، پریشانی میں اور غیر یقینی میں ہم سوچتے ہیں کہ کسی وزیر اعظم کایوں احتساب بے وجہ نہیں ہو سکتا کہ وہ نا اہل ہو جائیں اور اس ملک میں کوئی سودا نہ ہوا ہو ۔ ہم تو ہمیشہ ارزاں بکتے رہے ہیں ۔اب کی بار بھی یہی ہوگا ۔ اصل کہانی کچھ اور ہوگی ۔ کوئی چال ، کوئی سازش تو ضرور ہی ہوگی ۔ سوچتے سوچتے ہر خیال تھکنے لگتا ہے ۔ سوچ کے قدم بوجھل ہونے لگتے ہیں ۔ ہم اسی گرداب میں اُلجھے رہتے ہیں کہ آخر یہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے ۔ کسی بیرونی سازش کا ہاتھ ہے یافوج اپنا بدلہ لینا چاہتی ہے ۔ لیکن فوج کس بات کا بدلہ لے گی ۔ کہیں سے کوئی سرگوشی میں کہتا ہے یہ سب چین کروا رہا ہے ۔ چین سی پیک کے لیے اس ملک میں ہر قسم کی پریشانی کی راہ ہموار کر نا چاہتا ہے ۔ جب تک پاکستان میں معاملات درست اور ان کی مرضی کے نہ ہوں گے ان کا کام درست طور نہیں چل سکتا ۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی خواہشات کا پلندا ہے جس کا ہر ایک ورق آہستہ آہستہ کھل رہاہے ۔ وہ پاکستان میں سی پیک کو اتنی آسانی سے ہونے نہیں دینا چاہتا ۔ چین اگر پاکستان سے یہ راستہ حاصل کر لے گا تو نہ صرف امریکہ کے خوف سے آزاد ہو جائے گا بلکہ مشرقی وسطیٰ سے اسکی قربت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جو امریکہ کے لیے قابل قبول نہ ہوگا ، پھریہ بھی قابل غور ہے کہ افریقہ میں بے شمار چینی سرمایہ کاری تک بھی چین کی رسائی آسان ترین ہو جائیگی ۔جو امریکہ کے لیے کسی طور قابل برداشت نہیں میاں نواز شریف کی حکومت کا یوں تلپٹ ہو جانا اسی سازش کے سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے کیونکہ چینی کبھی بھی کسی غیر یقینی کیفیت میں سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کرینگے ۔ کتنی ہی کہانیاں ہیں سازشوں کی باتیں ہیں اور سایوں کی موجودگی کا احساس ہے اور اس سب میں اصل بات کہیں گم ہے یا کم از کم ہمیں یہ خوف ہے کہ اصلیت اسی میں کہیں پوشیدہ ہے ۔مگر سوچتی ہوں کہ کیا واقعی محض یہ نہیں ہو سکتا کہ اس سب کی وجہ بہت سادہ بہت معصوم سی ہو ۔ ہمارے اچھے وقت کا آغاز ہوگیا ہو ۔ ہمارے رب نے ہماری سن لی ہو اور وہ جو ہمیں لوٹتے رہے ہیں ، اب ان کے جواب دینے کا وقت ہو ۔ کون جانے یہی اصل کہانی ہو!!۔

اداریہ