Daily Mashriq

ڈی ایٹ کو فعال بنانے کی ضرورت

ڈی ایٹ کو فعال بنانے کی ضرورت

یورپی ممالک کی ایک تاریخ یہ بھی ہے کہ یہ ممالک سالہا سال تک آپس میں لڑتے رہے ہیں ،انہوں نے طویل عرصہ تک ایک دوسرے کا کشت و خون کیا ہے اور جب آپس کی لڑائی سے تھک ہار گئے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ کشت و خون کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ہمیں لڑائی کے بجائے مل کر کام کرنا چاہئے سو ان ممالک نے ایک دوسرے کے لئے اپنی سرحدیں کھول دیں اور کرنسی مشترک قرار دے کر باہمی ترقی کو فروغ دیا ،آج یورپ کی ترقی ہمارے سامنے ہے اس کے برعکس مسلم ممالک کی زبوں حالی ہے ۔ مسلمان رہنماؤں نے بھی خطے کی تقدیر بدلنے کے لئے اپنے تئیں کو شش کی لیکن یہ تمام کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں ،انہی میں سے ایک کوشش ڈی ایٹ تنظیم بھی ہے ۔ڈی ایٹ تنظیم میں ترکی، ایران، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ 20 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے تنظیم کی صدارت سنبھالی۔ پاکستان 2012 سے ڈی ایٹ ممالک کی سربراہی کر رہا تھا۔ڈی ایٹ کی بنیاد ترکی کے سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی کوششوں سے 1997 میں رکھی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد ترقی پذیر اسلامی ممالک کے درمیان زراعت،صنعت، تجارت، مواصلات اور سیاحت کے علاوہ دیگر شعبوں میں قریبی تعاون کے ذریعے ان ممالک کی مجموعی معیشت میں بہتری لانا تھا۔موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظرمیں ڈی ایٹ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے درست نشاندہی کی کہ ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کو باہمی تعاون کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے ،استنبول میں تین مختلف براعظموں میں پھیلے 8اسلامی ملکوں کی تنظیم ڈی۔ایٹ کی سربراہی کانفرنس ایک ایسے ماحول میں منعقد ہوئی ہے جب اس تنظیم میں شامل بیشتر ممالک داخلی انتشار اور بین الاقوامی سیاسیات کے وسیلے سے باہمی عدم تعاون کا شکار ہیں۔ یہ روح فرساحقیقت ہے کہ مسلمان معاشروں میں غربت ، محرومیوں اور استحصال کی مختلف صورتوں کے خاتمے اور باہمی تعاون و اتحاد کے فروغ کیلئے قائم کم وبیش تمام سیاسی تنظیمیں غیر فعال ہیں۔ڈی ایٹ کے قیام کو 20برس کا عرصہ گزر چکا۔مگر زراعت ، صنعت ، تجارت ، سیاحت ، انرجی ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔

خطاب میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ تنظیم کے اہداف کے حصول کیلئے رکن ملکوں کو باہمی تعاون مضبوط بنانا ہوگا۔ لیکن اسلامی ملکوں کی تنظیم بھر پور ترقی کی طر ف تیز رفتار سفر جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھری ہوئی معیشتوں کی اس تنظیم کے بیشتر رکن ممالک داخلی انتشار کا شکار ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمین کے خلاف جنرل فتح السیسی کی کارروائیاں ، بنگلہ دیش میں 40سال پرانے مقدمے کھول کر پاکستان نوازی کے الزام میں جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیوں سے وابستہ سیاستدانوں کی پھانسیاں ، ترکی میں صدر اردوان کا تختہ الٹنے کی باغیوں کی ناکام شورش کے بعد (ایف ٹی او)فتح اللہ ٹیررسٹ آرگنائزیشن سے وابستہ افراد کے خلاف جاری آپریشنز اور پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین جاری مہم نے ڈی ایٹ کے ملکوں کے داخلی استحکام کو کمزور کیا ہے۔ڈی ایٹ میں شامل ممالک کی معاشی صورتحال تقریباً یکساں ہیں سوائے ترکی کے کیوںکہ ترکی نے گزشتہ دس سالوں میں اپنی معاشی قوت میں اضافہ کیا ہے ،ترکی کی اس ترقی کی مثالیں صرف اپنے ہی نہیں بلکہ یورپی ممالک بھی دیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ڈی ایٹ میں شامل ممالک یورپ کی طرح ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا کر پورے خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔موجودہ دور میںداخلی آزمائشوں نے ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کی توجہ اقتصادی ترقی اور عام آدمی کو سہولتوں کی فراہمی کے ایجنڈے سے ہٹا کر داخلی انتشار میں الجھا رکھاہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں ایک ارب سے زائد آبادی ، دنیا کے بہترین قدرتی وسائل سے مالامال ڈی ایٹ کے ان ملکوں کی قیادتیں اپنی صلاحیتیں باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطے کی آبادی کیلئے بہتر سہولتوں کی فراہمی پر صرف نہیں کر رہی ہیں۔ اسلامی معاشروں میں غربت کے بعد سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس کی وجہ سے مغرب میں اسلام کا تشخص ہی بگاڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں ڈی ایٹ سمیت تمام اسلامی تنظیموں کیلئے یہ کڑی آزمائش کا دور ہے۔ ان کیلئے یہ وقت قیام ہے کہ سینہ تان کر اور ڈٹ کر دہشت گردی کی حامی قوتوں کا یکسوئی سے مقابلہ کرکے انہیں شکست فاش دی جائے۔ خطے میں امن اور سلامتی کے قیام کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا جب تک ڈی ایٹ سمیت اسلامی تنظیمیں متحد ہو کر دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ نہیں کرتیں۔

اداریہ