Daily Mashriq

مقتول خود گراتھا خنجر کی نوک پہ

مقتول خود گراتھا خنجر کی نوک پہ

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سانحہ ساہیوال کیس کے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنا قانونی معاملہ ہے ۔گواہان کی جانب سے ملزموں کی شناخت سے انکار یا عدم شناخت کسی دبائو کا نتیجہ تھا یا نہیں پولیس نے عدالت میں چالان میں اپنے پیٹی بندوں کو بچانے کیلئے قانونی نکتے چھوڑے تھے یا نہیں کیس میں ایسی کیا کمزوریاں تھیں اور اسے ثابت کرنے کیلئے استغاثہ نے کتنی سعی کی ان سارے قانونی نکات کا مقدمے اور اس کے فیصلے پر اثرات تو مرتب ہوئے ہوں گے اور نہ ہی یہ پہلا واقعہ ہے جس میں دن دیہاڑے قتل کے ملزمان بچ نکلے ہوں صورتحال جو بھی ہو انصاف کے نظام پر جو سوال اٹھ گیا ہے اس کا جواب اب نہیں تو کبھی نہ کبھی تو دینا پڑے گا۔سوال یہ ہے کہ دن دیہاڑے ایک معصوم خاندان کا سڑک کنارے قتل ہوتا ہے منظم قتل کے ایک عینی شاہد کو بھی گواہی دینے اور قاتلوں کو شناخت کئے جانے کے ڈر سے قتل مزید کیاجاتا ہے مگر اس کے باوجود لہو بولتا ہے اور معصوم بچے خوفزدگی میں سب کچھ بھول جانے یا پھر ادہر ادہر کی ہانکنے کی بجائے ایسا قانونی بیان دیتے ہیں کہ شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی،دن دیہاڑے سارے خاندان کا قتل ہو موقع کی ویڈیوموجود ہو قاتلوں کی ایک ایک حرکت ایک ایک ظلم کی اور لہو رنگ مقتولین کے قتل کے لمحات اور ان پر بیتی ہوئی ظلم کی ویڈیو موجود ہوتی ہے مگر قانون شہادت کے مطابق اسے تسلیم نہیں کیا جا تا قانون کے تقاضوں اور اندھے قانون کی حکمرانی کو سمجھنا ان ذہنوں کیلئے ممکن نہیں جنہوں نے سانحہ ساہیوال کی ویڈیو ملا حظہ کی ہودکھ کی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم نے قطرکے دورے کے بعد نہ صرف قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل نہ ہوا بلکہ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت کی وزارت داخلہ کے انچارچ مشیر نے ایوان میں قاتلوں کو نشان عبرت نہ بنانے پر استعفیٰ کا بھی اعلان کیا تھا لیکن جتنی اونچی چھلانگ لگائی گئی اونچا اڑنے والے اتنا ہی بلندی سے پاتال میں جاگرے اور انصاف یہ ہوا کہ قاتل بری کر دیئے گئے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کا دستیاب شواہد اور مقدمہ ثابت نہ ہونے پر ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق ہی ہے اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر اس لئے عائد ہوتی ہے کہ حکومت نے مظلوموں کا مقدمہ پوری طرح لڑنے کی زحمت نہیں کی قاتلوں کے خلاف ٹھوس ثبوت مہیا کرنا مشکل نہیں تھا حکومت صرف گواہوں کو تحفظ واعتماد فراہم کرتی اور مقتولین کے خاندان کو بالا دستوں کی دھمکیوں اور لالچ سے بچا یا جاتا اس مقدمے کے فیصلے کے بعد کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ مدعی کو با مر مجبوری یا پھر کسی لالچ اور دبائو میں فیصلے کو تسلیم کرنا پڑا عالم یہ کہ خود وزیراعظم کے ترجمان نے میڈیا میں اس امر کا کھلا اعتراف کیا کہ انصاف نہیں ہوا مقتولین کے خاندان کو انصاف نہیں ملا جب عدالتوں اور عدالتی نظام سے لوگ ناامید ہوجائیں تو معاشرے میں''ٹوپک زما قانون'' کے قانون سے انصاف لینے کو انصاف سمجھا جاتا ہے۔لوگ انصاف کیلئے اجرتی قاتلوں سے رجوع کرتے ہیں۔حکومت اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے میں کتنی دلچسپی لیتی ہے اور ایسے کیا ٹھوس اقدامات کرتی ہے کہ مقتولین کے ورثاء اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں یا پھر ریاست ہی اس مقدمے کا مدعی بنے مدینے کی ماڈل ریاست میں سڑکوں پر بہتے خون اور مقتولین کی واضح شناخت ہونے کے باوجود اگر یہ خون رائیگاں گئے تو روزقیامت تو پوچھ گچھ،حساب کتاب اور انصاف تو ہونا ہی ہے کیا انصاف ہوگا یا انصاف کے دن کا انتظار کیا جائے۔

متعلقہ خبریں