Daily Mashriq

کرتارپور راہداری معاہدہ

کرتارپور راہداری معاہدہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپورراہداری کھولنے سے متعلق معاہدے پر دستخط یقینا خوش آئند امر ہے پاکستان نے اس کا موقع فراہم کر کے ایک اچھے ہمسائے اور اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عقیدتوں کا احترام کرنے کا ثبوت دیا ہے لیکن بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور لائن آف کنٹرول پر سویلین آبادی کو نشانہ بناکر اس کا جس طرح کا جواب دے رہا ہے وہ حددرجہ افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔بھارتی دہشت گردی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے عوامی جذبات کے احترام پر مبنی اقدامات یقینا بین الاقوامی طور پر سراہے جانے کے قابل میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارت کو مسکت جواب پاکستان کی مجبوری ہے مگر اس کے باوجود بھارتی آرمی چیف کے دعوئوں کو جھوٹ ثابت کرنے کیلئے پاکستان نے غیر ملکی سفارتی نمائندوں کو لائن آف کنٹرول کے متاثرہ مقامات کا دورہ کرایا تاکہ پاکستان کے حوالے سے الزامات کی حقیقت بین الاقوامی برادری کے سامنے پوری طرح واضح ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اس اچھے اقدام سے اگرچہ کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیئے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بالخصوص مسلم برادری یہ ضرور سوچ رہی ہوگی کہ ان پر مظالم ہونے کے باوجود پاکستان بھارت سے اپنے تعلقات کو منجمد رکھنے کی بجائے بہتری لانے کی سعی میں کیوں ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملائشیا کے صدر نے کشمیریوں پر مظالم پر نہ صرف بھارت کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کیا بلکہ کروڑوںڈالر کی تجارت بھی ختم کردی کشمیری زیادہ نہیں تو پاکستان سے ملائیشیاء کے مساوی حمایت کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کرتارپور راہداری کھولنے کو اگر مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خاتمہ اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی ہی شرط رکھ دی جاتی تو نا مناسب نہ تھا۔

توبہ!پانچ سال کے بچوں سے مشقت

ہمارے سپیشل رپورٹر کی یہ خبر چشم کشا ہے کہ صوبے میں ڈیڑھ ہزار سے زائد بھٹہ خشت میںہزاروں کمسن بچوں سے جبری مشقت لینے کا سلسلہ جاری ہے۔چارسال قبل صوبائی اسمبلی سے جبری مشقت پر پابندی عائد کرنے سے متعلق منظور قانون کے تحت تاحال انسپکٹر ز اور نگران کمیٹی کا قیام عمل میں نہ لایا جا سکااور نہ ہی رولز تیار کئے جا سکے۔ خیبر پختونخوامیں جبری مشقت کے خاتمے اور پابندی کرنے سے متعلق قانون( بانڈڈ لیبر سسٹم ایکٹ 2015ئ) کی شق 11کے مطابق انسپکٹرز کا قیام عمل میں لانا تھااس سے بڑھ کر ظلم کی انتہا کیا ہوگی کہ بھٹہ خشت میں5سے15سال کے درمیان کی عمر کے بچوں کو ایک ہزار کچی اینٹ بنانے پر 700 روپے مزدوری دی جاتی ہے۔ازروئے قانون بچوں سے مشقت لینے کی کوئی گنجائش نہیں والدین بچوں کو جبری مشقت کی بھٹی میں کیوں جھونکتے ہیں اور بھٹہ خشت سمیت جہاں جہاں وہ کام کرتے ہیں وہاں نہ صرف ان کو معاوضہ کم ملتا ہے بلکہ ان بچوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں اس سارے عمل سے بخوبی آگاہی کے باوجودخیبرپختونخوا کے متعلقہ محکمے اور اداروں کا جو کردار وعمل ہے وہ ہمارے نمائندے کی رپورٹ سے بخوبی واضح ہے۔حکومت اگر قانون کے نفاذ میں سنجیدہ نہیں تھی تو اسے منظور کر کے دنیا کو دکھانے کی کیا ضرورت تھی ایسے قوانین کی کمی نہیں جن کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں بچوں سے جبری مشقت ان کے عدم تحفظ اور ان کی تعلیم وتربیت کا حرب ایسی تکلیف دہ صورتحال ہے جس پر ہر صاحب اولاد کا دل دکھنا فطری بات ہے حکومتی اداروں کی غفلت اور حکومت کا اس کا نوٹس نہ لینے سے اس امر کا شبہ ہونے لگتا ہے کہ گویا وہ صاحب اولاد نہیں ورنہ قوانین موجود ہوں اختیارات کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہ ہو قانون پر عملدرآمد قانونی اور اخلاقی فریضہ ہو مگر عالم یہ کہ پانچ سال کے بچوں سے بھی مشقت لی جارہی ہے اور نفاذ قانون کے ذمہ داروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو بچوں سے مشقت لینے سمیت تمام لیبر لاز کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے سخت احکامات دے کر ذاتی طور پر اس کی نگرانی کرنی چاہیئے۔

سرکاری ادویات کی فروخت کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت

آغاخان ہیلتھ سروس کے زیر انتظام تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گرم چشمہ چترال میں سرکاری ادویات کی فروخت میں ملوث عناصر کسی اور رعایت کے مستحق نہیں آغا خان ایجوکیشن وہیلتھ سروسز کے زیر اہتمام مراکز صحت اور تعلیمی اداروں کی حسن کارکردگی کے عوام معترف ہیں لیکن گرم چشمہ میں جو واقع پیش آیا ہے یہ اس ادارے کے دامن میں بد نما داغ اور عوام سے سخت نا انصافی ہے جس کا محکمہ صحت اور متعلقہ ادارے دونوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہیئے ڈرگ انسپکٹر نے عوامی شکایات کو درست پانے کے باوجود ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے ڈرگزاینڈ فارمیسی ڈائریکٹوریٹ حکام نے اس بارے کیا کارروائی کی اس حوالے سے رپورٹ طلب کی جانی چاہیئے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیرصحت اس کا سختی سے نوٹس لیں گے اور اس کی روک تھام یقینی بنائیں گے۔

ایک اور ڈنڈا بردار فورس

جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی کے نوٹیفیکشن کے بعد تحریک انصاف کے نوجوانوں کا اسی طرز کا فورس قائم کر کے ان کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ اس لئے بھی قابل نوٹس ہے کہ اولاً اس طرز کی ڈنڈابردار وردی پوش تنظیم کا قیام ہی نہیں ہونا چاہیئے دوم یہ کہ آزادی مارچ کے شرکاء کو روکنا انصاف ٹائیگرفورس کی نہیں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تحریک انصاف لکی مروت سے پارٹی قیادت کو جواب طلبی کرنی چاہیئے کہ وہ ایک نازک وقت میںاس طرح کے اقدام کے مرتکب کیوں ہوئے جسے خود تحریک انصاف کی حکومت غیر قانونی قرار دے چکی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ قانون اور انصاف کا عمل سب کیلئے یکساں اوربلا امتیاز ہونا چاہیئے جہاں تک عملی صورتحال کا تعلق ہے ہر سیاسی جماعت کی ڈنڈا بردار فورس کسی حد تک موجود ہوتی ہے جسے قانونی طور پر تو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر ان کو روکنا مشکل امر ہوتا ہے بہرحال یہ سیاسی جماعتوں کا اپنا طرز عمل ہے لیکن اس بات کی قطعی گنجائش نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان ڈنڈے چلانے کے مقابلے کی نوبت آئے۔

متعلقہ خبریں