Daily Mashriq

بچوں سے جنسی زیادتی، روک تھام کیسے ہو؟

بچوں سے جنسی زیادتی، روک تھام کیسے ہو؟

چونیاں، قصور میں رواں مہینے کے آغاز میں چار بچوں کے اغواء اور قتل کی خبر نشر ہوئی۔ اس خبر کے رد عمل میںبپھرے ہوئے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کوسر عام، فوری اور مثالی سزا دی جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔ مگر کیا یہ واقعی ایسا ہو سکے گا؟ کیا ایسا ہی کچھ صرف ایک سال پہلے نہیں ہوا تھا جب قصور میں ہی ہونے والے زینب قتل کیس میں مجرم کو موت کی سزا دی گئی تھی؟قتل اور ریپ کے اس مجرم کو ''قرار واقعی'' سزا کے بعد یہ معاملہ آیا گیا ہو گیا۔ سزا اور بھرپور عوامی رد عمل کے باوجود اس قبیح جرم کے واقعات میں کمی نہیں آئی اور ایسی خبروں میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آخر ایسا کیا ہے جو ہم امید کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ نتائج کچھ مختلف ہوں گے؟ یوں معلوم ہوتا ہے کسی ایک بچے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مجرم کو موت کے گھاٹ اتارنے کا نتیجہ چار مزید بچوں کے ساتھ ریپ اور قتل کی صورت نکلتا ہے۔ میرے نزدیک مجرموں کو صرف سزا دے دینا اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ساحل کے مطابق، بچوں سے زیادتی کے واقعات میں سال 2017 کی نسبت سال 2018 میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔قصور میںایسے واقعات کا بارہا سامنے آنا یہاں قائم تین چائلڈ پروٹیکشن بیوروز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔میں واشنگٹن میں بچوں کے تحفظ کے لیے قائم حکومتی ایجنسی کا حصہ رہی ہوں۔ میں نے وہاں فرانزک ماہرین سے یہی سیکھا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کے پیچھے صرف ایک برے شخص کا برا عمل نہیں ہوتا۔ یہ سب اتنا سادہ نہیں۔ یہ جرم اس تہہ درتہہ اور گنجلک مجرمانہ سوچ کاعشر عشیر بھی نہیں جو ایسے کئی جرائم اور اندوہناک واقعات کا سبب بنتی ہے۔ اس ذہنیت کی بیخ کنی کے لیے ہمیں تمام عناصر کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے ایک ہمہ گیر اور مؤثر حل تلاش کرنا ہوگا ۔ اس حل میں ایک ایسی چائلڈ پروٹیکشن فورس کا قیام بھی ہے جو ہمہ تن متعلقہ مہارتوں سے آراستہ ہو کہ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف پولیس پر ہی انحصار نا کافی ہے۔ اگرچہ چار بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعے کا وقوع پذیر ہونا افسوس ناک تھا البتہ پنجاب پولیس کا مجرموں کو فوری ڈھونڈ نکالنا داد کا مستحق عمل ہے۔ اس حوالے سے یہ سمجھ لینا کہ مجرمان کو سزا دینے سے ہی باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہو گی، خاصا غلط ہے۔ حالیہ تاریخ اور واقعات ا س تاثر کی تردید کرتے ہیں۔ حکومت کو ایسے واقعات کی مستقل روک تھام کے لیے اپنے محدود وسائل کے باوجود اس سے کہیں زیادہ اقدامات کرنا ہوں گے ۔ سو اب سوال یہ ہے کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے تو حکومت کو ہاتھ آئے اس موقع کو گنوانے سے بچانا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کی ٹیم کو قصور میں چائلڈ پورنوگرافی کے کیس کی ان تحقیقات کو آگے بڑھانا ہوگا جو گزشتہ برس ادھوری چھوڑ دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ انہیں ایک ایسا سسٹم لاناہوگا جو بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی بیخ کنی کے لیے مؤثر ہو۔ اس وقت قصور میں بچوں کے تحفظ کے لیے تین خودمختار بیوروز قائم ہیں۔ البتہ حکومت کو ان کی اور سیف سٹی جیسے منصوبوں کی کارکردگی، افادیت اور اثر انگیزی کو ٹھیک سے جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیایہ حقیقت میں بھی اپنی تخلیق کا مقصد پورا کر رہے ہیں یا یہ صرف تصویریں کھینچنے اور خانہ پری تک ہی محدود ہیں۔ اداروں کا احتساب اس حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان اس بات کا بارہا اعادہ کر چکے ہیں۔ مگر احتساب صرف لوگوں کو ان کی نوکریوں سے برخواست یا گرفتار کرنے کا نام نہیں ہے۔ احتساب میں یہ تجزیہ بھی شامل ہوتاہے کہ کوئی ادارہ کیسے کام کر رہا ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جو اس کی بہتر کارکردگی کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور کونسی چیزیں ہیں جو غیر مؤثر ہیں ۔ بہتری کے لیے اقدمات کرنا بھی احتساب کی زمرے میں ہی آتا ہے۔ ان تمام باتو ں کو پرکھناایوان وزیر اعلیٰ کا کام ہے۔انہیں ایسے بیوروز میں پائے جانے والے سقموں کی نشاندہی اور بیخ کنی کرنا ہو گی۔ یہاں پولیس اہلکاروں اور ڈائریکٹروں کے علاوہ ایک ایسے ماہر جتھے کی تشکیل کی بھی ضرورت ہے جو باہم متصل اور اثر انگیز نظام وضح کر سکے۔ کیا ایوان وزیر اعلیٰ میں کوئی محکمہ اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے؟اگر نہیں تو لوگوں کو محض اپنے اپنے عہدوں سے برخواست کرنا مایوسی اور بگاڑ کا ہی سبب بنے گا۔ آغاز بہرحال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جانب سے جون میں نامکمل اور پاکستان پینل کوڈ سے متضاد قرار دیے جانے والے زینب الرٹ بل میں اصلاحات لا کر کیا جا سکتا ہے ۔ شکایات درج کروانے کے نظام کے ساتھ والدین کی تربیت بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے جسے کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمیں ایسے لوگوں کی شناخت ، علاج اور روکنے سے متعلق بھی اقدامات کرنا ہوں گے جو ممکنہ طور پر ایسے کسی جرم کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ ہم نے اگر ابھی ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوری اور مناسب اقدامات نہ کیے تو خدا نخواستہ آئندہ کسی بھی ایسے واقعے کی صورت میںہمارے پاس افسوس سے ہاتھ ملتے اور وہی غیر ذمہ دارانہ اور جذباتی باتیں دہرانے کے سوا کوئی راستہ نہ ہوگا جو ہم ابھی کرتے نظر آتے ہیں۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں