Daily Mashriq

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ٹی وی چینلزاپنے پروگراموں میں قسمت کا حال بتانے والوں کے ہاتھ کی ریکھائیں دیکھ کر پیشگوئی کرنے والوں ،اور ستارہ شناسوں کے ساتھ ساتھ ٹیلی کارڈ والوں کے ذریعے آنے والے دنوں کے بارے میں اپنے اپنے علم کے حوالے سے عوام کو حالات کے بارے میں آگاہ کرتے تھے مگر اب یہ کام سوشل میڈیا پر ہورہا ہے ،کیونکہ اب ٹی وی چینلز والے کسی خاص''شخصیت'' کے بارے میںٹاک شوز میں بھی''آزادی''سے کچھ کہنے کی جرأت نہیں رکھتے تو بھلا قسمت کا حال بتانے والوں کی جانب سے کسی بھی''خطرناک یا تشویشناک'' پیشگوئی کو کیسے نشر کر کے اپنے لیئے مصیبت مول لینے پر تیار ہو سکتے ہیں۔یہاں ایک لطیفہ نما واقعہ جو روایتی طور پر بیان کیا جاتا ہے یاد آگیا ہے،کہتے ہیں کسی بادشاہ نے ایک جوتشی سے اپنے مستقبل کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے اپنے علم کے مطابق کچھ ایسی باتیں بتائیں جن سے دربار میں سناٹا چھا گیا ،بادشاہ نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے جوتشی سے پوچھا ،یہ بتائو تمہاری آنے والی زندگی کتنی اور کیسی ہوگی؟جوتشی نے کہا کہ میں طویل عرصے تک زندہ رہوںگا اور کامیابیاں سمیٹوں گا،بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ جوتشی کا سرتن سے جدا کردے،چند لمحوں بعد جوتشی راہی ملک عدم ہو چکا تھا،بادشاہ نے درباریوں میں جوتشی کی بادشاہ کے حوالے سے پیشگوئیوں کے اثرات کو پلک جھپکنے میں غلط ثابت کرکے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے خاص طور پر ان لوگوں کو خبردار کردیا جو بادشاہ کے خلاف سازشوںمیں مصروف تھے ،گویا بادشاہ نے ستاروں کی چالوں کو یہ کہہ کر غلط ثابت کیا کہ

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خواروزبوں

سو وہ پہلے ٹی وی چینلزکی سکرین پر ستارہ شناسوں کا ایک میلہ سجا ہوتا تھا اب چینلز والے اس قسم کے میلے سجانے کا رسک لینے کی''عیاشی'' کے متحمل نہیں ہوسکتے،اکا دکا پروگرام اگرچہ اب بھی نشر ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم جس طرح پہلے موقع بے موقع ماہرین کو اکٹھا کر کے مختلف معاملات پر آنے والے دنوں کے حالات معلوم کئے جاتے تھے ،اب اس سے احتراز برتا جارہا ہے ،حالانکہ جس طرح کے سیاسی حالات ان دنوں چل رہے ہیں ان کے حوالے سے تو یقینا پیشگوئیاں کرنے والوں کو بلوا کر صورتحال پر روشنی ڈالنے کی دعوت دی جا سکتی تھی،مگر جب''پابندیوں'' کا موسم چل رہا ہو،تو کس کو یہ یارا ہے کہ وہ کسی خاص''شخصیت'' اور ملکی سیاسی حالات کے بارے میں رائے معلوم کر سکے البتہ سوشل میڈیا پر کئی ستارہ شناس،ٹیلی کارڈز پڑھنے والی ایک خاتون،علم جفر پر دسترس رکھنے والے تو اتر کے ساتھ بڑے ہی محتاط انداز میں جو تبصرے کر رہے ہیں ان میں بظاہر تو کسی ممکنہ خطرے سے بچ کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم''بین السطور''اپنے تبصروں میں''خطرات''کی نشاندہی بھی کرتے رہتے ہیں ان کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ اگر فلاں تاریخ تک حالات نارمل طریقے سے گزر گئے تو آگے سستے خیراں والی بات ہوگی۔مگر اصل مسئلہ تو''فلاں تاریخ''کا ہی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس فلاں مہینے کی فلاں تاریخوں کا تذکرہ لگ بھگ تمام ماہرین ''فلکیات'' کے بیانات میں سامنے آرہا ہے جس سے اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہے کہ اصل خطرات انہی تاریخوں کے آس پاس پائے جاتے ہیں،ان خطرات میں پاک بھارت تعلقات خصوصاً کشمیر کے حوالے سے صورتحال بھی شامل ہے،جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال بھی زیر بحث رہتی ہے ،اس لیئے اب تو بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سیاسی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ ملک کو درپیش مسائل اور مشکلات کا ادراک کر کے ہاتھ ہولا رکھیں اور فوری طور پر جن مشکلات کا ہمیں سامنا ہے ان پر باہم گفت وشنید سے اتحاد واتفاق کی فضا قائم رکھنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے نہ صرف اندرونی مسائل کا حل ڈھونڈ نکالیں بلکہ ایک مٹھی ہو کر بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے میں بھی کامیابی حاصل کریں اور پھر صورتحال ایسی بنے کہ ہمارے دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ عجیب قوم ہے جو اپنے دشمنوں کو پیغام دے دیتے ہیں کہ

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

ویسے بحیثیت ایک مسلمان قوم ہمیں ان باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیئے،یہ جو ستاروں کی چال کے حوالے سے لوگ پیش گوئیاں کر کے''گمراہی''پھیلاتے ہیں،کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پہلے مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں کرتے تھے اور بڑے بڑے دعوے کرتے تھے،اب ان کا وتیرہ بھی تبدیل ہوچکا ہے اور ایسے ماہرین بھی اب کوئی حتمی حکم صادر نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ وہ اسے ایک سائنس کے طور پر لیتے ہوئے صرف تجزیہ کر کے اور حالات کا جائزہ لیکر کچھ نتائج اخذ کرتے ہیں،اب وہ بھی یہی بات تسلیم کرتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے ،مگر ستاروں کی رفتار سے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کر کے بعض باتیں جو ان کے مشاہدے میں آجاتی ہیں ان کا تذکرہ کردیتے ہیں تاکہ لوگ احتیاط سے کام لیتے ہوئے متوقع خطرات سے نمٹنے کیلئے پیش بندی کر سکیں، واللہ اعلم بصواب

متعلقہ خبریں