Daily Mashriq

ہمارا تعلیمی نظام اور وقت کے تقاضے

ہمارا تعلیمی نظام اور وقت کے تقاضے

قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمارے معاشی اور سیاسی مسائل کے علاوہ تعلیم بھی بہت بڑا مسئلہ تھا۔ یہ مسئلہ اتنا بڑا' پیچیدہ اور گمبھیر ہے کہ اب تک بھی پاکستان کے بڑے اور اہم مسائل میں شمار ہے۔ اس تناظر میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام اپنے ہر بندے کے لئے حصول تعلیم کو لازمی قرار دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی اہمیت اور فضیلت کی وضاحت اور ثبوت کے لئے یہ ذکر ہی کافی ہے کہ خاتم النبیینۖ کی نبوت کی ابتداء اقراء (پڑھ) کے ساتھ ہوئی ہے۔ گویا مسلمان امت کے ہر فرد کے لئے بنیادی اور ضروری تعلیم کا حصول واجب ہے' لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ دنیاوی تعلیم کا مسئلہ تو رہا ایک طرف جو کہ حل ہونے کا نام نہیں لیتا' اسلام کے نام پر قائم ہوئے ملک کی آبادی کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ستر اسی فیصد لوگوں کو قرآن کریم کا ناظرہ نہیں آتا۔ بیس فیصد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے انداز اور لہجے و زبان میں پڑھتے ہیں۔ اس کا ایک معاشرتی و سماجی اثر یہ دیکھئے کہ نماز' روزہ' زکوٰة' حج ، نکاح و طلاق اور دیگر اسلامی شعائر' عبادات اور معاملات و معمولات کے بارے میں عام آدمی اتنا بھی نہیں جانتا کہ ایک محفوظ اسلامی زندگی آسانی کے ساتھ بسر کرسکے۔ نتیجتاً قدم قدم پر غیر مستند مولویوں اور لوگوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں اور راہ حق سے بھٹکنے کے خدشات میں مبتلا ہو جاتے ہیں جو وطن عزیز میں فرقہ واریت کے چند بڑے اسباب میں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے ہر حکومت اس میں کوشش میں رہی ہے کہ '' مدارس کو قومی دھارے میں'' لانے کیلئے منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کی پشت پر دو باتیں ہوتی ہیں پہلی یہ کہ ہمارے مدارس کی وجہ سے ہم پر 9/11 کے بعد ہمیشہ غلط یا صحیح ایع دبائو رہا ہے لیکن اس سے ہٹ کر پاکستان کے اندر قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہماری تعلیم ' سکول' کالج ، یونیورسٹی اور مدارس کے دو متوازی دھاروں میں ایسی تقسیم ہوئی ہے جس سے قومی و ملی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچتا رہا ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں' علماء ، حکمرانوں اور سیاستدانوں بالخصوص سیکولر اور لبرل طبقات کے درمیان ایک ایسی بحث و کشمکش جاری ہے جس کے مظاہر وقتاً فوقتاً بعض اوقات ریاست کے استحکام کے لئے چیلنج بننے کے علاوہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لئے بہانہ بن جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں لاٹھی بردار ملیشیا کی خبر کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور وطن عزیز کے اندر ایک بڑے ہیجان کا سبب بنی ہوئی ہے۔

مدارس اور ریاست ہمیشہ سے ایک متنازع فیہ مسئلہ رہا ہے۔ سیکولر سیاستدان سیاست میں مذہب اور علماء کی مداخلت و کردار کو بالکل برداشت کرنے کے قائل نہیں جبکہ مذہب پسند طبقات علماء کی شمولیت کے بغیر سیاست کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں علماء کی اہمیت اور ناگزیر کردار سے انکار ممکن ہی نہیں۔ ہندوستان کی آزادی اور قیام پاکستان میں ان کے شاندار کردار پر تاریخ گواہ ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انگریز سے آزادی کے لئے برپا تحریک میں علماء کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اس سے مسلمانان ہند و ما بعد پاکستان کو بڑا نقصان ہوا۔

دنیا کے سارے اسلامی ملکوں بالخصوص مصر' سوڈان' تیونس' الجزائر' بنگلہ دیش' ترکی' عراق' شام' افغانستان وغیرہ میں اسی کشمکش کے سبب آزمائشوں اور آلام سے گزر رہے ہیں عوام پر اس بات کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ جب علماء سیاست میں مذہبی اقدار اور اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض دنیوی سیاست اور مفادات کاکھیل کھیلنے لگتے ہیں۔ اسلام کی دعوت و اشاعت پر بھی اس کے ناخوشگوار اثرات پڑتے ہیں اور نوجوان طبقات اپنے دین و مذہب سے دور ہوئے لگتے ہیں۔ یہی حال کم و بیش اس وقت ہمارے سکولوں' کالجوں اور جامعات کا ہے۔ گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے تعلیمی نظام پر جو تجربات کئے گئے اس کا نچوڑ اور حاصل یہ ہے کہ آج تک ہم یکساں نصاب و نظام تعلیم سے محروم ہیں۔ یکساں نصاب و نظام کو ایک طرف کردو' ہم تو آج تک یہ حساب کتاب بھی نہ کرسکے کہ ہمیں وطن عزیز کے کس کس شعبے کے لئے کتنے اور کیسے افراد کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاغذ کی ڈگریاں بغیر کسی ہنر و مہارت کے حصول کے تقسیم ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹروں اور انجینئرز کی اتنی بہتات ہے کہ روزگار نہیں ملتا' لیکن ان تعلیمی اداروں میں اس وقت جو سب سے بڑا بحران ہے وہ اساتذہ اور طلبہ کا اخلاقی اقدار کا ہے۔ معاشرے کی ہر خرابی میں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل لوگوں کا کہیں نہ کہیں کوئی کردار ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں ہمارے تعلیمی نظام ' نصاب اور اساتذہ کا بنیادی کردار ہے۔ اہل مدارس اور جامعات کے کرتا دھرتا کو آج کے ملکی اور عالمی تقاضوں کے پیش نظر ضرور سوچنا ہوگا کہ ہم ان خامیوں اور کوتاہیوں کو کیسے دور کرکے وطن عزیز کو اس کردار کے قابل بنائیں جس کے لئے اس کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے تمناک

نہ زندگی نہ محبت' نہ معرفت نہ نگاہ

متعلقہ خبریں