Daily Mashriq

جناب وزیراعظم ایک سادہ سا سوال ہے

جناب وزیراعظم ایک سادہ سا سوال ہے

عمران خان نے اچھی بات کہی''سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن میں صدق دل سے نواز شریف کی صحت کے لئے دعا گو ہوں،انہیں یاد ہی ہوگا کہ جب وہ2013ء کی انتخابی مہم کے دوران لاہور میں سٹیج سے جاتے ہوئے گرے اور ہسپتال پہنچے تو نواز شریف انتخابی مہم معطل کر کے ان کی عیادت کے لئے شوکت خانم ہسپتال پہنچے تھے۔کسی نے نہیں کہا تھا کہ عمران خان نے انتخابی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ کیا ہے۔ہر شخص کو ہمدردی ہوئی اور اس نے اظہار بھی کیا۔سیاست کے میدان میں اختلافات ہی سیاست کا رزق ہوتے ہیں جنہوں نے نفرتوں کو رزق بنایا انہوں نے وقت سے سبق سیکھا افسوس کے اس بات کو کچھ لوگ اب بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہم بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں نہیں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں جی رہے ہیں کاش کسی کو سمجھ میں آجائے کہ مالکان کے اشاروں پر خوشنودی کے حصول کی سیاست،وقت برباد کرنا ہے،اس سیاست کو ہوا دینے والے جب ماضی کی معذرت کرتے ہیں لوگوں کا جی چاہتا ہے کہ ان کا منہ نوچ لیں ۔ الزامات اچھالنے اور ثابت کرنے میں فرق ہے۔آصف زرداری کے خلاف سال بھر تک سینکڑوں ارب کے بھی اکائونٹس کی کہانیاں نیب نے پالتو بوزنوں کے ذریعے چلوائیں لکھوائیں اب حالت یہ ہے کہ ڈیڑھ کروڑ تک بات آگئی ہے ساڑھے تین سو ارب ڈیڑھ کروڑ لیکن استغاثہ کاپیٹ بھرنے کے لئے مطلوبہ دستاویزات اور شہادتیں سرتا پائوں چوم لینے کے باوجود عدالت میں پیش کرنے کی ہمت نہیں اُدھرصورت یہ ہے کہ سال1974ء کی ایک شب کراچی کے میٹرو کلب کے ڈانسنگ ہال میں ہوا جھگڑا ایک میڈیا مالک کو اتنا کینہ پرور بنائے ہوئے ہے کہ وہ آصف زرداری کے معاملے میں صحافت کے اصولوں کو روندتا چلا جارہا ہے۔معاف کیجئے گا بات سے بات نکلتے ہوئے کسی اور کتاب کے اوراق اُلٹ لیے۔عرض یہ کر رہا تھا کہ وزیراعظم نے انسانی اقدار کے مطابق کی اچھی لگی لیکن کیا وہ صرف اتنا معلوم کرلیں گے کہ وزیراعظم ہائوس سے ان کے کس خصوصی معاون نے نیب پنجاب کے سربراہ اور آئی جی پنجاب کو فون کر کے کیاکہ''وزیراعظم کا حکم ہے کہ مریم نواز کو فوری طور پر ہسپتال سے جیل واپس بھجوایا جائے''بیمارباپ سے بیٹی کی ملاقات کروانے کا عمل اچھا تھا ہر طرف تحسین ہوئی لیکن وزیراعظم کے ایک خصوصی معاون نے اپنی حکومت کے لئے بنی مثبت فضا میں دھول اُڑادی کیا اگر بیٹی ایک رات باپ کے پاس رہ لیتی تو کوئی قیامت ٹوٹ پڑتی؟۔ہم عجیب کام کرنے کے عادی ہیں۔مثلاً حاجی غلام احمد بلور نواز شریف کی عیادت کے لئے پہنچے تو یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ''آپ کے پاس وزارت داخلہ یا نیب کا اجازت نامہ نہیں''۔مگر اس سے چند لمحے بعد ایک مذہبی سکالر سروسز ہسپتال پہنچے تو پورے پروٹوکول کے ساتھ انہیں نوازشریف کے کمرے میں لیجایا گیا۔

اس تحریر نویس نے سروسز ہسپتال کے ایک ذمہ دار سے اس دو عملی بارے دریافت کیا تو نام نہ بتانے کی شرط پر انہوں نے کہا''اسلام آباد سے ایک بڑے صاحب نے ٹیلیفون پر حکم دیا تھا کہ مولانا صاحب کو نوازشریف سے ملنے دیا جائے۔ تحریر نویس نے سوال کیا یہ حکم آپ کو ملا؟انہوں نے کہا نہیں نیب کے ہسپتال میں موجود افسر اور سیکورٹی انچارج کو فون آئے تھے۔ان دنوں وزیراعظم کے مذہبی اتالیف سمجھے جانیوالے مولانا طارق جمیل کی نواز شریف سے ملاقات نے کہانیوں کو جنم دیا اور یہ کہانیاں بلاوجہ بہر طورنہیں تھیں ۔کچھ تو تھا جس کی پردہ داری مقصود تھی۔کڑوا سچ یہ ہے کہ جناب نوازشریف کی بیماری جس نہج پر ہے یہ صورتحال اگر کسی یورپی ملک میں پیش آتی تو معالجین غلط تشخیص کی بنا پر اب تک جیل میں ہوتے ۔چند دن قبل عرض کی گئی ایک بات مکرر عرض کرتا ہوں۔جناب نوازشریف کے پاس کھونے کو کچھ نہیں مگر کیا ہمارا نظام حکومت ریاست اور سیاسی عمل تینوں طبی قتل کا بوجھ اٹھالیں گے؟۔سوال پر منہ چڑھانے اور پھبتی کسنے کی ضرورت نہیں ان کے علاج کے لئے حکومت کے مقرر کردہ ڈاکٹروں سے سنگین غلطیاںسرزد ہوئیں۔ تحقیقات اس امر کی ہونی چاہیئے کہ ان ڈاکٹرز میں اہلیت کی کمی ہے یا جان بوجھ کر انہوں نے نواز شریف کے علاج میں کوتاہی کی۔

ہم آگے بڑھتے ہیں جناب زرداری کے ساتھ بھی یہی لاپرواہی برتی جارہی ہے لیکن ان کے معاملے میں پنجابی میڈیاتعصب کے مظاہرے میں مصروف ہے عدالتی حکم کے باوجود ان کی بیٹیوں اور بلاول کی ملاقات نہیں کروائی گئی ۔قبل ازیں ایک بار نیب اور پولیس کا عملہ سابق صدر مملکت سے بد تمیزی اور ان کے بچوںکو دھکے بھی دے چکا یہ صورتحال بھی افسوسناک ہے۔آخری بات سانحہ ساہیوال کے مقدمہ کا فیصلہ ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب مقتولین کے ورثا نے کسی پیشکش یا ادائیگی پر بیان بدل لینا تھا تو صاف کہا جاتا کہ فریقین میں ریاست نے صلح کروادی ہے۔لیکن جس انداز میں اس کیس کا اختتام ہوا اس سے عدالتی نظام پر سوال نہیں انگلیاں اُٹھ رہی ہیں ایک پورے ادارے پر عدم اعتماد کا اظہار بہت خوفناک ہے۔ایسا نہ ہو کہ عدالتی نظام سے مایوس ہوئے لوگ مستقبل میں چوراہوں گلیوں میں اپنی عدالتیں خود لگالیں۔استغاثہ صاف بات کرے اور عوام کو پورا سچ بتائے یا پھر اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرے۔کیونکہ ایک مقتول کے بھائی کا ویڈیو پیغام شبہات کو پختہ بنارہا ہے اس سے ریاست یا عدالتی نظام کی ساکھ ہر گز بہتر نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں