Daily Mashriq


بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کا جلد بندوبست کیا جائے

بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کا جلد بندوبست کیا جائے

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بجلی کے خالص منافع کی مد میں اے جی این قاضی فارمولے پر من وعن عملدرآمد کیلئے وفاق اور صوبوں میں اتفاق خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے تبدیلی کا مژدہ ضرور ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کب اور کیسے کی جاتی ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ اس فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا کے بجلی کے خالص منافع کی مد میں جو اربوں روپے کے بقایاجات ہیں ان کی ادائیگی کیسے ہوتی ہے۔ بجلی کے خالص منافع کی رقم کی تسلسل سے وصولی اور بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی خیبر پختونخوا کی ہر صوبائی حکومت کا ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف اور یہاں کے جملہ عوام کا متفقہ مطالبہ رہا ہے۔ اس کی ادائیگی کیلئے عدالت سے رجوع کر کے احکامات بھی لئے، اسلئے فارمولہ بھی طے کیا گیا مگر تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود وفاقی حکومتوں کا اس ضمن میں خیبر پختونخوا سے سلوک مبنی بر انصاف نہ رہا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ میں قیام امن اور دہشتگردی سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے قومی مالیاتی کمیشن میں مجموعی قومی وسائل سے صوبہ کو ملنے والا ایک فیصد حصہ بڑھا کر 3فیصد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے صوبہ کے جامع کیس پیش کر کے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی ہے۔ صوبائی حکومت نے جس کے تحت مرکز سے قابل تقسیم پول بجلی منافع، بقایاجات اور صوبہ کے پانی کے بقایاجات کے حصول کے معاملات اٹھکانے کی پوری تیاری کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ ساتویں این ایف سی ایورڈ میں خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہونیوالے نقصانات کے ازالے کیلئے مجموعی قومی وسائل میں سے ایک فیصد حصہ دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو اگلا این ایف سی ایوارڈ نہ آنے کی وجہ سے آٹھ سالوں سے جاری ہے، تاہم پی ٹی آئی کی سابقہ خیبر پختونخوا حکومت نے مذکورہ حصہ کو ایک سے بڑھا کر تین فیصد کرانے کیلئے جدوجہد شروع کی تھی جس کیلئے کئی مرتبہ مرکز کو مذکورہ مطالبہ پیش کیا گیا تاہم ایوارڈ جاری نہ ہونے کی وجہ سے اس مطالبہ پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حالیہ حکومت میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور گزشتہ اسمبلی نے بھی اس حوالے سے کافی تگ ودو کی مگر پھر بھی صوبے کو بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی نہ ہو سکی۔ خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کی رقم نہ ملنے کی کوئی آئینی اخلاقی وجہ نہ تھی اس سے انکار سے بھی گنجائش نہ تھی لیکن اس ضمن میں جس قسم کی ٹال مٹول اور طفل تسلیوں سے کام لئے جاتے رہے اس کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ گزشتہ ادوار حکومت میں صوبے اور وفاق میں الگ الگ حکومتوں کی بناء پر وفاق کو ان ادائیگوں میں دلچسپی نہیں تھی۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملک میں ایک ایسی حکومت آئی ہے جس کا سیاسی مرکز خیبر پختونخوا ہے گوکہ اب بھی اربوں روپے کے بقایاجات کی ادائیگی وفاقی حکومت کیلئے آسان نہ ہوگا اور نہ ہی واپڈا کے پاس اتنی رقم ہے کہ وہ صوبے کو ادائیگی کر سکے بلکہ واپڈا توخود خسارے کا شکار اور قرضوں میں جکڑا ادارہ بن چکا ہے جو صارفین سے خیبر پختونخوا کو ادائیگی کیلئے رقم کی تواتر کیساتھ وصولی کے باوجود حساب بے باق کرنے کی بجائے اسے الٹا ہڑپ کر چکا ہے۔ گزشتہ حکومت میں پیسکو کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کی بھی تجویز دی گئی مگر مشکلات کی بناء پر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کی نوبت تک نہ آئی۔ بہرحال اب اس امر کی امید ہے کہ وفاقی حکومت اس مطالبے کو عملی جامہ پہنائے گی جو ان کی جماعت گزشتہ وفاقی حکومت سے کرتی آئی ہے اور جس کا اصولی طور پر بطور سربراہ جماعت خود وزیراعظم عمران خان بھی باربار مطالبات کرتے آئے ہیں۔ اب جبکہ وہ خود اختیار کی کرسی پر آگئے ہیں تو ان کیلئے خیبر پختونخوا کے واجبات کا انتظام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ایک سوال یہ ضرور اُٹھتا ہے کہ صوبے کو اربوں روپے کے بقایاجات کی ادائیگی کیسے کی جائے؟ کیا اس کیلئے آبی بجلی کے نرخ بڑھا کر صارفین سے تین سے چار روپے فی یونٹ اضافی وصول کئے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی سوچ اسلئے احمقانہ گردانی جائے گی کہ اس سے نہ صرف پہلے سے مشکلات کا شکار اور مہنگے داموں بجلی خریدنے والے صارفین بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ یہ عوام سے ایک ہی مد میں رقم کی دوہری وصولی ہوگی۔ بہرحال مشکلات اور مسائل موجود ہیں، اربوں روپے کے بقایاجات کی ادائیگی حکومت کیلئے آسان کام نہیں لیکن اس کے باوجود جبکہ اس کی ادائیگی پر مشترکہ مالی مفادات کونسل میں اتفاق کیا گیا اور وزیراعظم ادائیگی پر آمادہ ہیں تو اس کا انتظام ہونا چاہئے تاکہ خیبر پختونخوا اپنے وسائل سے اپنے مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھا سکے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو بجا طور پر موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ صوبے کے عوام کا حق اُن کو دلانے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کریگی جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے جس طرح این ایف سی کے حالیہ اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ منوایا وہ اس سلسلے کو اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک صوبے کو خالص منافع کے رقم کی وصولی نہ ہو جائے۔

متعلقہ خبریں