Daily Mashriq


بھارت کا باؤلاپن

بھارت کا باؤلاپن

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کو گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم بہت جلد ایک اور سرجیکل سٹرائیک کرنے والے ہیں کیونکہ دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے ایک اور سرجیکل سٹرائیک ناگزیر ہے لیکن تاحال سرجیکل سٹرائیک کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستان معمول کے تعلقات اور سرحد پر امن کا خواہاں ہے تو فوری اقدامات کرے۔بھارتی فوج کی طرف سے دھمکی نئی بات نہیں۔ ابھی تو صرف دھمکی ہی دی گئی ہے قبل ازیں بھارتی فوج نے سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا اور فرضی دعویٰ بھی کیا تھا۔ مبینہ سرجیل سٹرائیک کی حقیقت کچھ اس طرح تھی کہ خود اس کے دعویدار کو اس مقام اور آپریشن کا علم نہ تھا ان کے اس دعوے کو پاکستان کی طرف سے مسترد کرنا تو فطری امر تھا ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور مبصرین نے بھی اس کا مذاق اُڑایا تھا۔ بہرحال بھارت کی تازہ گیدڑ بھبکی کی حقیقت بھی جلد واضح ہوگی۔ ایک ایسے ایٹمی ملک کیخلاف کوئی حماقت اتنا آسان نہیں جس کے ایٹمی ہتھیار لے جانیوالے میزائلوں کے نشانے پر پورا بھارت ہو اور ہندوستان کو اس کا علم بھی ہو کہ اس طرح کے کسی امکان کو مسترد کرنا بھی ہمارے تئیں مناسب اظہار نہ ہوگا۔ بنابریں اس امکان سے ہی قطع نظر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ایک ایسے ملک کے ہمسایہ ہیں جس کی فوجی قیادت خواہ مخواہ بڑھکیں مارکر پڑوسی ملک سے تعلقات خراب کرنے کا عادی ہے۔ ہمیں اس امر پر بھی افسوس ہے کہ ہم ایک ایسے ملک سے مذاکرات کے خواہشمند ہیں جسے امن اور ہمسائیگی سے کوئی سروکار نہیں۔ جہاں تک ملکی دفاع اور سلامتی کا تعلق ہے ہمیں اس سلسلے میں کسی تردد کا سامنا نہیں۔ ہم ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جس کے مسلح افواج ہی جذبہ شہادت کی آرزو نہیں رکھتے بلکہ بطور مسلمان ہم میں سے ہر ایک کو شہادت کی موت ہی مطلوب ہے۔ اہل وطن کو اس امر کا اعتماد ہونا چاہئے کہ پاکستان کا دفاع مالک ارض وسماء کے کرم سے مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اپنے کسی بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کے ان گیدڑ بھبکیوں سے خطے کے امن کو لاحق خطرات کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہئے اور عالمی برادری کو بھارت کو ہوش میں رہنے کا بروقت مشورہ دینا چاہئے۔ پاکستان نے پہلے بھی اس قسم کے حالات میں تحمل اور بردباری سے کام لیا ہے اب بھی تحمل صبر اور برداشت ہی بہتر جواب ہوگا۔

ناقابل معافی حرکت

سیدو شریف ہسپتال میں ایک اور خاتون کا عملہ کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے گائنی وارڈ کے باہر نالے کے قریب بچہ کو جنم دینا انتہائی افسوسناک واقعے کا اعادہ ہے۔ جس کی نئے پاکستان میں گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ سرکاری ہسپتالوں میں یہ معمول بن چکا ہے کہ درد زہ میں مبتلا خواتین کو داخل کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ تازہ واقعے میں بھی ایک شخص نے اپنی اہلیہ کو سیدو شریف تدریسی ہسپتال کے گائنی وارڈ میں لایا جہاں ان کی اہلیہ کو شدید تکلیف کے باجود بھی علاج سے انکار کیا گیا جس کے بعد خاتون نے گائنی وارڈ کے باہر گندے نالے کے قریب بچے کو جنم دیا۔اس طرح کے واقعات کا سب سے افسوسناک پہلو طبی عملے کی روایتی غفلت اور بے حسی کی انتہا تو ہے ہی ہمارے نزدیک اس سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہسپتالوں میں اس قسم کے واقعات کا ذمہ دار عملہ خواتین ڈاکٹروں اور طبی عملہ ہوتا ہے جو اپنے ہی ہم صنف کی تکلیف کی حالت میں نہ صرف مدد نہیں کرتے بلکہ جس مقصد کیلئے ان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں وہ بھی پوری کرنے سے انکار کر کے عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے کے محاورہ کو حقیقت کا رنگ دیتے ہیں۔ درد زہ کی تکلیف اور علامات ایسے نہیں جن کو سمجھنے کی غلطی کی جائے اس طرح کی تکلیف اور حاملہ کی صورتحال کا لیڈی ڈاکٹرز تو کیا بزرگ خواتین بھی بآسانی اندازہ لگا سکتی ہیں۔ تجربہ کار دائی اور ڈاکٹرزکو تو مہینے قبل ہی متوقع وقت ولادت کا درست اندازہ ہو جاتا ہے کجا کہ ایک شدید تکلیف کی حالت میں خاتون ہسپتال لائی جائے اور اسے اس حالت میں دھتکار دیا جائے کہ برآمدے میں بچے کی ولادت کی نوبت آئے۔ اس شرمناک واقعے کا وزیراعلیٰ اور وزیرصحت کو نہ صرف سختی سے نوٹس لینا چاہئے بلکہ فوی طور پر ہسپتال انتظامیہ کو معطل کر کے ذمہ داروں کیخلاف فوری انکوائری مکمل کر کے قانون کے تحت سزا دی جائے۔ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے اسمبلی سے سخت قوانین منظور کئے جائیں، اس ضمن میں خواتین اراکین اسمبلی کو ایک جامع مسودہ قانون ترتیب دیکر اسمبلی سے منظور کرایا جائے تاکہ عملے کو ایسی سزاء کا خوف ہو کہ تاخیر اور بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت ایسے اقدامات یقینی بنائیگی جس سے اس قسم کی صورتحال کا دوبارہ امکان بھی باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں