Daily Mashriq


پانی کا بحران اور ہمارے قائدین

پانی کا بحران اور ہمارے قائدین

پانی کا بحران سر پر آن پہنچا ہے ۔ اس کے باوجود کہ اقوام متحدہ کے ادارے اور ملک کے اپنے ماہرین ایک عرصہ سے اس کا انتباہ کر رہے تھے ، بہت سے لوگ اس سے باخبر ہونے کے باوجود بے پروا ہیں۔ شہروںمیںرہنے والے جو ڈھیروں پانی نلکا کھلا چھوڑ کر ضائع کر رہے ہیں۔ کار واش والے جو پائپوں میں بہنے والے تیز رفتار پانی سے (پینے کے صاف پانی سے) کاریں دھوتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اس سے عملاً باخبر بھی ہیں جن کے علاقوںمیں زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے۔ کنویں سوکھ گئے ہیں اور کچھ علاقوں کے لوگ پانی کی کمی کی وجہ سے نقل مکانی پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن نہ کوئی فردِ واحد زیرِ زمین پانی کی سطح کو اوپر لا سکتا ہے اور نہ کوئی اکیلا شخص کسی کو یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ کاریں دھونے میں صاف پانی ضائع نہ کرو۔ بحران قومی مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بحران کی سنگینی سے باخبر بھی ہے ۔ ایک تو وہ جن کے علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے ‘ دوسرے وہ کروڑوں کسان جنہیں گزشتہ خریف کی فصل کیلئے ضرورت کی نسبت 35 فیصد کم پانی ملا۔ یہ مسئلہ قومی مسئلہ کی صورت اختیار کر چکا ہے ‘ اس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے قومی سطح کی نہ صرف باخبری کی ضرورت ہے بلکہ قومی سطح پر ایسے اقدامات کی بھی جو اس سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ ہمارے قومی سطح کے قائدین بھی اس سے کچھ اتنے بے خبر نہیں ہیں۔ سینیٹ کی آبی وسائل سے متعلق سب کمیٹی میں گزشتہ روز یہ مسئلہ زیرِ غور آیا لیکن اس وقت جب ربیع کی بوائی شروع ہونے میں محض چند دن باقی ہیں۔ سب کمیٹی کو بتایا گیا کہ ربیع کی فصل کے لیے پچاس فیصد پانی دستیاب ہو گا ۔ یہ اجلاس 24ستمبر کو منعقد ہوا ۔ یکم اکتوبر تک اس ایک ہفتے میں سینیٹ کی آبی وسائل سے متعلق سب کمیٹی کیا کر سکتی تھی۔ کون سی ایسی تجاویز پیش کر سکتی تھی جن سے اس پچاس فیصد پانی کی عادلانہ تقسیم ہو سکے۔ کون سے علاقوں کو کتنا پانی دیا جائیگا۔ موگھوں کے آخر میں واقع زمینوں کو کس طرح پانی سپلائی کیا جائیگا۔ فصلوں کا انتخاب کیسے کیا جائے کہ پانی کم ہونے کے باوجود فصل حاصل ہو سکے۔ اگر یہ تجویز دی جائے کہ آبپاشی بہنے والے پانی کی بجائے فواروں سے کی جائے تو اس ایک ہفتے میں کیسے اس تجویز پر عمل کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال یہ اجلاس ہوا۔ اس میں یہ دل دہلا دینے والی رپورٹ پیش کی گئی کہ فصل ربیع کیلئے صرف پچاس فیصد پانی ملے گا۔ یہ بھی بتایاگیا کہ ملک کے آبی ذخائر میں اس وقت پانی کی کل مقدار سات اعشاریہ 78ملین ایکڑ فٹ ہے جب کہ گزشتہ سال اسی موسم میں یہ مقدار دس اعشاریہ چار ملین ایکڑ فٹ تھی اور گزشتہ دس سال کے دوران یہ مقدار اوسطاً گیارہ اعشاریہ تیس ملین ایکڑ فٹ رہی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر ہے ماہرین اور انجینئروں نے فراہم کیے ‘ لیکن سینیٹ کی سب کمیٹی نے کیا کیا۔ ایک انگریزی معاصر نے ذرا تفصیل سے اس اجلاس کی کارروائی شائع کی ہے۔ اس کے مطابق بلوچستان کے سینیٹروں نے کہا کہ 1991ء کا پانی کی تقسیم کا ایوارڈ مناسب نہیں تھا اس پر نظر ثانی کی جائے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ 1991ء میں پانی کے ذخائر میں اوسطاً پانی کی مقدار گیارہ اعشاریہ چار ملین ایکڑ فٹ تھی ، آج سات اعشاریہ 86ملین ایکڑ فٹ ہے۔ آج جو تشویش ناک صورت حال ہے جس میں کسانوں کو ربیع کی بوائی کیلئے پچاس فیصد کم پانی ملے گا اس پر کون غور کریگا‘ کون اس سے عہدہ برآء ہونے کی تجاویز لائیگا لیکن سینیٹ سب کمیٹی کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیاگیا کہ 1991ء کے پانی کی تقسیم کے ایوارڈ پر نظر ثانی کر لی جائے۔ ایک صاحب نے کہا کہ گزشتہ 27سال سے کوٹری سے جنوب کی طرف دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں تحقیقی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی اور بے جا طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی کا ایک بڑا حصہ سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے۔ اس پر اجلاس کے دوران ہی انہیں بتایا گیا کہ یہ تحقیق 2005ء میںمکمل کر لی گئی تھی اور اس کی سفارشات پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ معزز سینیٹر یہ تیاری کر کے آئے تھے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ جس رپورٹ کے نہ آنے کا گلہ کررہے ہیں وہ تیرہ سال پہلے آ چکی تھی ۔ البتہ ایک بڑی نادر تجویز سامنے آئی کہاگیا کہ واپڈا کو براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے کنٹرول میںدیدیا جائے تاکہ اس ادارے میں سرخ فیتہ یعنی افسروں اور اہلکاروں کی غفلت اور سست روی کی روایت ختم ہو جائے۔ اس تجویز کے پیش کرنے والوں میں خود چیئرمین واپڈا بھی شامل تھے۔ چیئرمین واپڈا کی یہ تجویز دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ واپڈا کے اہلکاروں اور افسروں کی غفلت اور سہل پسندی کو ختم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں ۔ چیئرمین واپڈا سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ خود کسی پھاوڑا اٹھا کر نہروں کی بھل صفائی کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنے محکمے کے افسروں اور اہل کاروں سے ان کی مطلوبہ استعداد کے مطابق کام لیں اور یہ یقینی بنائیں کہ ان کے افسر اور اہلکار اپنے فرائض کی بجاآوری غفلت اور تساہل کی بجائے مستعدی اور تیز رفتاری سے کریں گے۔ کسی ادارے کے سربراہ کا منصب یہی تو ہوتا ہے۔ پتہ نہیں اس تجویز سے وزیر اعظم عمران خان خوش ہوں گے یا سینیٹ کی آبی وسائل سے متعلق سب کمیٹی میں جس سطح کی بحث ہوئی ہے اس پر حیرت زدہ ہوں گے۔ تاہم وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ پانی کا بحران سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے تو آبی بحران کے پیش نظر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ بھی قائم کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس فنڈ کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل بھی کی ہے۔ لیکن بحران بہت سنگین اور بہت بڑا ہے۔ اس پر ملک گیر سطح پر غور کیا جانا چاہیے اور نہ صرف آبی وسائل کے نئے منصوبے بنانے اور انہیں زیر عمل لانے بلکہ پانی کے استعمال کے حوالے سے نئی عادات اپنانے کی ‘ نئی فصلیں ‘ نئی پودے دریافت کرنے کی فوری ضرورت ہے کہ پانی زندگی ہے۔

متعلقہ خبریں