Daily Mashriq


میں مطمئن ہوں کہ روشن ہیں آنسوؤں کے چراغ

میں مطمئن ہوں کہ روشن ہیں آنسوؤں کے چراغ

اللہ کرے ایسا ہی ہو، مگر وہ جو کہتے ہیں کہ دودھ کاجلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے تو ہماری تو ایک مدت سے وہی صورتحال ہے، ویسے بھی یہ گنجی کی شادی والا قصہ ہے، کیونکہ جس طرح بے چاری گنجی کے رشتے آتے مگر بیچ میں اڑچھن پڑ ہی جاتی اور کسی نہ کسی سٹیج پر آکر ہر رشتہ ٹوٹ جاتا پختون معاشرے میں یہ گنجی والی شادی خاصی مشہور ہے۔ اس تمہید کا کوئی نہ کوئی تو کارن ہے جس کی وضاحت ہم نے قدیم زمانے سے چلی آنے والی کہانی کی مدد سے کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ کارن یہ ہے کہ ایک بار پھر خیبر پختونخوا کے عوام کو جھنجھنا دے کر بہلانے کی سعی کی جارہی ہے، جس پر خود مجھے اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا ہے

وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں

ہمارے ہاتھ میں پھر جھنجھنے ہوں

جھن جھنے کو پشتو میں چنڑ چنڑے کہتے ہیں جو روتے ہوئے بچوں کو تھما کر ہلایا جاتا ہے اور اس کے اندر گھنگرو بجتے ہیں تو بچے رونا بھول کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں، ایسی کیفیت ہماری گزشتہ برسوں میں کئی بار ہوئی اور مختلف حکومتوں نے یہ سوچ کر کہ

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

ہمارے ہاتھوں میں وعدوں کے گھنگرؤں سے بھرے ہوئے جھن جھنے پکڑا کر وقتی طور پر ہنسانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ بعد میں پتہ چلا کہ ’’کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں‘‘۔ آپ زیادہ مستردد نہ ہوں، بات کی وضاحت کئے دیتے ہیں کہ گزشتہ روز یہ جو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے سلسلے میں اے جی این قاضی فارمولے پر من وعن عمل درآمد کیلئے وفاق اورصوبوں میں اتفاق کی خبریں آئی ہیں تو ماضی میں متعدد بار اس قسم کی خوشخبریاں ہم سنتے رہے ہیں لیکن ان تمام خوشخبریوں کا تعلق آخر میں جا کر گنجی کی شادی کیساتھ بن جاتا تھا اور خیبر پختونخوا کے عوام وعدوں کے گھنگرؤں سے مزین جھن جھنے پکڑ کر وقتی طور پر تو خوش ہو جایا کرتے تھے لیکن بعد میں ان کی اپنی حالت ’’گھنگرو کی طرح بچتا ہی رہا ہوں میں‘‘ والی ہو جاتی تھی اور وہ پشتو ہی میںکہتے ہیں کہ دتبے د تاوا غگیگی، یعنی تیز بخار میں بندہ ہذیان بکنے پر آجاتا ہے تو بعد میں جھن جھنے کے اندر موجود وعدوں کے گھنگرو بکھر کر رہ جاتے تو پھر پوری سیاسی قیادت شور مچانا شروع کر دیتی۔ ہمارا تو اب یہ خیال ہے کہ مرحوم اے جی این قاضی کی روح بھی پریشان ہو رہی ہوگی کہ جب ان کے نام سے منسوب کمیشن کے فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تھا تو انہیں خواہ مخواہ کی زحمت کیوں دی گئی اور وہ اتنی مدت تک نہایت عرق ریزی سے دن رات ایک کئے ایک ایک قطرہ پانی سے حاصل کی جانیوالی یونٹ یونٹ بجلی کا حساب کتاب کرتے رہے۔اے جی این قاضی کمیشن پر واپڈا اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے مابین اتفاق رائے ہوا تھا، کمیشن نے جو فیصلہ دیا اس میں اہم نکتہ خالص منافع کا تعین پاکستانی روپے نہیں بلکہ عالمی اصولوں کے مطابق ڈالر کے قیمت کے حوالے سے کیا گیا، جو ابتداء میں 6ارب سالانہ مقرر کیا تھا، بعد میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رد وبدل کے حوالے سے ہر سال نئی قیمت کا تعین اور سالانہ بنیاد پر منافع میں اضافہ کے اصول بھی لاگو کئے گئے تھے، اس کلئے پر واپڈا نے کبھی عمل نہیں کیا، بلکہ کمیشن کے فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں اٹھا کر لے گئی تھی، جہاں اس نے نہ صرف مقدمہ ہار دیا بلکہ صدر مملکت نے عدلیہ کی ہدایت پر فیصلے کو صدارتی ضمانت بھی فراہم کی، مگر واپڈا کے ٹال مٹول کا سلسلہ نہیں رکا، مختلف صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں اس مسئلے کو مرکز کیساتھ اٹھایا اور مرکزی حکومتوں کی واضح ہدایات کے باوجود خیبر پختونخوا کو اپنی ہی پن بجلی کے خالص منافع میں اضافے کے حصول میں کامیابی مل سکی نہ ہی اپنے حصے کی پوری بجلی دستیاب ہو سکی اور صورتحال ہمیشہ عبدالقوی ضیاء کے اس شعر کی مانند رہی

گھروں میں کوئی چراغاں نہیں، نہ سہی

میں مطمئن ہوں کہ روشن ہیں آنسوؤں کے چراغ

ایک طویل سفر جو اپنے جلو میں امید وبیم کی کیفیات لئے ہوئے تھا، کے بعد ایم ایم اے حکومت کے دوران وفاق میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے خالص منافع میں اضافے کی نوید ملی اور کے پی کے اس دور کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے صوبے کے عوام کو یہ خوشخبری سنائی کہ فوری طور پر بجلی کے خالص منافع کی رقم 6ارب سے بڑھا کر 8ارب کر دی گئی ہے، صوبائی حکومت نے اگلے بجٹ کی تیاری میں 8ارب کی رقم کو مدنظر رکھ کر منصوبہ سازی کی مگر وہی گنجی کی شادی والی صورتحال، کہ عین وقت پر یہ ’’رشتہ‘‘ طے نہ ہو سکا اور صوبائی حکومت کو بجٹ پیش کرتے ہوئے جس کیفیت سے دوچار ہونا پڑا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد اے این پی کی حکومت بھی پوری قوت سے اس معاملے کو نمٹانے میں مگن رہی مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اگرچہ یہاں تحریک انصاف اور اتحادی برقرار رہے جبکہ اتحادیوں میں جماعت بھی شامل تھی جس نے ایم ایم اے کے دور میں اس وقت کے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق کی سربراہی میں جرگہ تشکیل دے کر ہر ممکن کوشش کی تھی اور ناکام رہے تھے، اب بھی ناکام رہی کہ مرکز میں لیگ(ن) برسر اقتدار تھی، اب جبکہ وفاق میں بھی تحریک انصاف ہی اقتدار میں ہے اور اے جی این قاضی فارمولے پر عمل کرنے کا اتفاق کر لیا گیا ہے تو دعا ہے کہ صوبے کو اس کا جائز حق مل جائے اور کم ازکم اب کی بار تو گنجی کی شادی ہو جائے۔

متعلقہ خبریں