Daily Mashriq


تبدیلی، تعلیم، خصوصی افراد اور عوام

تبدیلی، تعلیم، خصوصی افراد اور عوام

قارئین کرام کی جانب سے ملنے والے برقی پیغامات جہاں حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں وہاں بعض اوقات اس امر کی سمجھ نہیں آتی کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی یہ نہیں سمجھتے کہ اس کالم میں اپنے معروضات وشکایات کیسے بھیجیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ آخر میں درج نمبر پر میسج کیا جائے، کچھ دلچسپ قسم کی کہانیاں بھی ہیں جن کا تذکرہ پھر کبھی۔ فی الوقت ایک معذور شخص جسے میں معذور نہیں لکھنا چاہتی تھی لیکن انہوں نے خود لکھا ہے کہ وہ جسمانی طور پر معذور ہیں، نے معذوروں کی مشکلات کے حوالے سے کچھ لکھنے کا کہا ہے۔ میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں صحت مند افراد کی بھی مشکلات کچھ کم نہیں، بعض اوقات تو زندگی ہی عذاب لگنے لگتی ہے ان کی حالت ذرا دیکھ کر۔ بہرحال اس سے قطع نظر معذور افراد کے مسائل اور مشکلات چونکہ دیگر افراد کے مقابلے میں مزید خاص نوعیت کے ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے کا یہ طبقہ حساس بھی واقعہ ہوا ہے، یہاں تو حساس ہونا اور سوچ رکھنا غور وفکر اور جینے کے حق کی سوچ ہی سب سے زیادہ مسائل کا باعث ہے۔ اس طرح کہ ’اس جینے کے ہاتھوں مر چلے‘ کی نوبت آجاتی ہے ایسے میں معذور افراد کا جینا کتنا مشکل ہوگا اس کا اندازہ زیادہ مشکل نہیں، دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں اور ہماری حکومت کی نظر میں تو معذور افراد کو جینے کا بھی حق نہیں کہ ان کے بارے میں کچھ سوچا جائے اور ان کو بھی زندگی کی دوڑ میں شامل کیا جائے۔ معذور افراد کو معاشرے میں پہلی ترجیح دی جانی چاہئے مگر یہاں ان کو سرے سے معاشرے کا حصہ ہی تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس پر لکھیں تو کیا لکھیں سوائے نوحہ کے۔ نوحہ گری کے اس ماحول میں اچھی بات یہ ہے کہ میانوالی سے ہمارے قاری ضیاء کا برقی پیغام ہے تبدیلی آگئی ہے۔ تبدیلی آئی ہوگی مگر ابھی اتنی تبدیلی بھی نہیں آئی کہ اسے تبدیلی آنا قرار دیا جائے۔

میانوالی وزیراعظم کا حلقہ ہے اسلئے تبدیلی کا آغاز بھی وہیں سے ہونا بنتا ہے۔ میانوالی میں تبدیلی آگئی ہے تو آہستہ آہستہ دیگر علاقوں اور صوبوں میں بھی پہنچے گی، اس کا آنا شرط ہے پھیلے گی خود بخود ہی۔

درویش سیاستدان عابد جان کا پشاور سے شکوہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو تو تیغ پہ رکھا جا رہا ہے مگر پرویز مشرف کی باقیات کی کابینہ اور وزیراعظم کے دعوؤں کی کھلتی حقیقت بارے کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ شکوہ بجا مگر ابھی حکومت کے دن ہی کتنے ہوئے ہیں خاطر جمع رکھئے جو بھی حکمران عوام سے دغا کا مرتکب ہوا ہے معتوب اور راندۂ درگاہ ہی ٹھہرا ہے، دیر یا سویر سے۔ حکمرانوں کو اس قسم کے خیالات کے اظہار کا موقع نہیں دینا چاہئے اور کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔ سچی بات یہ کہ تبدیلی وہی کہلائے گی جسے عوام سمجھیں اور سراہیں، محض حکمرانوں کے دعوؤں سے تبدیلی آنے سے رہی۔ رہی تھی بات گزشتہ کالم میں تعلیمی نظام اور سرکاری سکولوں میں داخلوں کی۔ ایک قاری نے بڑا اچھا پیغام بھیجا ہے کہ جو اساتذہ قوم کے بچوں کا خیال نہیں کرتے ان کے اپنے بچے بھی اچھی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور وہ بھی کسی لائق ہی نہیں ہوںگے۔ میں آپ کی بات کی صرف تصدیق ہی نہیں کرتی بلکہ عام مشاہدے میں یہی آیا ہے۔ اساتذہ کرام خود استاد ٹھہرے ان کو اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ کہنے کو تو یہ ایک قاری کا مختصر پیغام ہے مگر جہاں کا فلسفہ اور حقیقت لئے ہوئے ہے۔ واقعی مالک کائنات اور مخلوق خدا سے سچی محبت نہ ہو تو اس قوم میں تبدیلی آنا ممکن ہی نہیں۔ کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن اس بحث میں پڑے بغیر تذکرہ کرتے ہیں دیر ببیار سے فواد دانش کے برقی پیغام کا جس کے مطابق ان کے علاقے ببیار میں تعلیم کی کمی ہے اور تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ 2011ء میں حکومت نے یہاں کالج کے قیام کی منظوری تو دی تھی مگر تاحال کالج نہ بن سکا۔ جہاں تعلیمی ادارے موجود ہیں وہاں بجلی، پانی اور فرنیچر موجود نہیں۔ علاقے کے بنیادی صحت مرکز میں ڈاکٹر ہیں نہ ہی ادویات ملتی ہیں۔ علاوہ ازیں بھی علاقہ پسماندگی اور مشکلات کا شکار ہے۔ دیر کے لوگوں نے ایک دینی جماعت کا جس طرح عرصے تک ساتھ دیا اس کے باوجود بھی اس قسم کے مسائل حل نہ ہو سکے حالانکہ اس علاقے سے کامیاب ہونے والے حکومتوں کا حصہ رہے۔ اب دیر کے عوام نے فیصلہ تبدیل کیا، نئی قیادت سے توجہ کی توقع ہے۔ سالوں کے مسائل دنوں میں ختم تو نہیں ہو سکتے لیکن ابتداء تو ہونی چاہئے۔ ختم تو میں نے گزشتہ کالم میں سرکاری سکولوں میں بڑے بڑوں کے بچوں کو داخلے کا موضوع ناممکن قرار دیکر کر دیا تھا۔ مگر ایک قاری نے پھر سے اسے موضوع بنانے کی درخواست کی ہے۔ گزشتہ کالم کے مد میں اساتذہ کرام اور سرکاری سکولوں میں درپیش مسائل کے حوالے سے بڑے مدلل اور چشم کشا اعداد وشمار بھی ارسال کئے۔ ایک کلاس میں سو ڈیڑھ سو بچوں کی موجودگی کا بھی تذکرہ آیا۔ تسلیم مسائل ومشکلات بھی ہیں لیکن پھر بھی حکومت پرعزم ہے کہ سرکاری سکولوں ہی میں بچے پڑھیں گے۔ ایسا ہی ہونا چاہئے، ماں باپ کو شوق تو نہیں کہ ہزاروں روپے فیس دیکر بچوں کو پڑھائیں اور سکول والوں کے نخرے بھی اُٹھائیں مگر کب تک۔ سرکاری سکولوں کو اس معیار تک لانا کہ لوگ راغب ہوکر اپنے بچوں کو وہاں داخلہ دلوائیں اپنی جگہ مگر جو لوگ سرکار کی نوکری کرتے ہیں، رہائش سرکار کی دی ہوئی ہے، مراعات سرکاری، گاڑی سرکاری، تنخواہ سرکار کی اور بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں بھاری فیس دیکر پڑھاتے ہیں۔ حکومت کو تو حکما سرکاری ملازمین کے بچوں کو سرکاری اداروں میں منتقل کروانا چاہئے مگر یہ ہوگا نہیں ناممکن سی بات ہے مگر حکمران کہتے ہیں تو دیکھتے ہیں بیل منڈھے کب چڑھتی ہے۔

متعلقہ خبریں