Daily Mashriq


بم پھٹے، خون بہا شہر لٹے

بم پھٹے، خون بہا شہر لٹے

آج ستمبر کے مہینے کی 26تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمہ کا دن منایا جا رہا ہے۔ جوہری ہتھیار ان ہتھیاروں کو کہتے ہیں جن میں جوہری توانائی استعمال ہوتی ہے۔ بڑے کام کی چیز ہے یہ جوہری توانائی، لیکن جب اسے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ نہایت خوفناک اور تباہ کن صورت میں سامنے آتی ہے، گویا سانپ بھی ہے سانپ کا من بھی۔ آگ بھی ہے اور یخ بستہ موسموں میں اس کی من بھاتی حدت بھی۔ آگ نہ ہوتی تو ہم مزے مزے کے کھانے کیسے پکاتے۔ سخت سردی کے موسم میں کمروں اور اردگرد کے ماحول کو کیسے گرم رکھتے۔ اللہ بچائے، آگ کی ایک چنگاری جب شعلوں کا روپ اختیار کرتی ہے تو اس کی افادیت خوفناک تباہی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ آناً فاناً پورے کے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جس کے پیش نظر، لغت نگار ہر آناً فاناً پھیلنے والی خبر کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والی خبر سے تشبیہ دینے لگتے ہیں۔ آگ کی دہشت اور خوف اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ تعلیمات دین اسلام میں عذاب الٰہی سے ڈراتے وقت یا برائیوں سے روکتے وقت جہنم کی آگ سے ڈرایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ٹربائن کارخانے اور سٹیم انجن چلتے ہیں آگ کی حرارت سے۔ جوہری توانائی بھی حرارت ہی پیدا کرتی ہے لیکن پٹرول گیس، خاشاک یا اس قبیل کے ایندھن سے جلائی جانے والی آگ سے ہزاروں گنا طاقتور ہوتی ہے، جس کی چنگاری ایک معمولی سے ذرے کے دل میں چھپی ہوتی ہے۔ شاعر مشرق نے ایسے ہی یہ بات نہیں کہہ دی کہ

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو یا نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

گویا ہر شے کے ذرے کا ایک دل ہوتا ہے اور اس میں خورشید یا سورج کا خون موجود ہوتا ہے اور جب اس کو چیرا جاتا ہے تو اس میں سے خورشید کا لہو ٹپکنے لگتا ہے۔ کسی ذرے کو چیرنے کے بعد خورشید یا سورج کا جو لہو ٹپکتا ہے اسی کو جوہری توانائی کہتے ہیں اور جب اسی جوہری توانائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے اور ان کے استعمال پر مکمل بندش لگانے کی خاطر اقوام عالم نے متفقہ قرارداد منظور کرکے ہر سال 26ستمبر کو جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمہ کا دن منانے کا عزم کیا اور یوں ہم پر واجب ہوگیا آج کے دن کے حوالے سے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت میں بات کرنے کے فرض کا قرض ادا کرنا۔ شاعر مشرق نے جوہری توانائی کو خورشید کے لہو سے تشبیہ اسلئے دی کہ خورشید یا سورج کی سطح پر ہر ہر لمحے جوہری دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ دھماکے، جن کی گرمی اور روشنی ہماری زمین پر کم وبیش آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے تو ہمارے دریاؤں میں چاندی بہنے لگتی ہے، ہمارے کھیت سونا اُگلنے لگتے ہیں۔جب یہی جوہری توانائی جوہری ہتھیار بن کر دنیا کے امن وسکون کو تاراج کرنیوالوں کے ہاتھوں میں آتی ہے تو وہ ساری دنیا کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچا دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جوہر، ہیرے کو بھی کہتے ہیں اور جوہری، ہیرا شناس کو بھی کہا جاتا ہے۔ کسی کی صلاحیت یا رتبہ کمال کو بھی جوہر کہہ کر پکارا جاتا ہے مگر ہم جس جوہر کی بات کر رہے ہیں وہ انسانی آنکھ تک کو نظر نہ آنیوالے نہایت چھوٹے سے ذرے کا نام ہے، اگر آپ اپنی چشم تصور سے اس کی جسامت یا حجم کے متعلق جاننا چاہیں تو آپ کی عقل کو دنگ کرنے کیلئے اتنا کہنا کافی ہے کہ ایک سوئی یا پیپر پن کی نوک پر کروڑوں کی تعداد میں ایسے ذرے آجاتے ہیں جنہیں اردو فارسی اور عربی میں جوہر کہا جاتا ہے جبکہ انگریزی میں ایٹم کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ہر جوہر یا ایٹم کا ایک مرکز ہوتا ہے جسے نیوکلیس کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے نیوکلیس یا ایٹم کے مرکزے کو ذرے کا دل کہا ہے، جس کو اگر چیر دیا جائے تو خاکم بدہن اس کے اندر سے خورشید کا لہو ٹپک کر دنیا کے ذرے ذرے کو تہس نہس کرکے رکھ سکتا ہے، نیوکلس کے اندر پروٹون اور نیوٹرون ہوتے ہیں جبکہ ان کے گرد الیکٹرونز اپنے اپنے مداروں پر اسی طرح گھومتے رہتے ہیں جس طرح زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے یا چاند زمین کے گرد گردش کر رہا ہے، اللہ اللہ، سبحان اللہ وبحمدہ، گویا مالک کن فیکون کی عقل کی حدوں کو پار کر جانیوالی اس وسیع وعریض کائنات کی طرح، ہماری بینائی کو نظر نہ آنیوالے ذرے میں بھی قائم ہے ایک کائنات، جو قائم رہنے کیلئے وجود میں آئی ہے اور جب جضرت انسان کی کسی شرارت کے سبب اسے چھیڑا جاتا ہے تو وہ بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، ناگا ساکی اور ہیروشیما کی تباہی جوہری ہتھیاروں کے ہی نتیجے میں سامنے آکر رہتی دنیا تک کیلئے نشان عبرت بن گئی، مگر اس کا کیا جائے کہ اس کیخلاف وہی لوگ مگرمچھ کے آنسو بہار رہے ہیں جو ان ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا باعث بن کر بھی، آج 26ستمبرکے اخباروں میںجوہری ہتھیاروں کیخلاف چیخ رہے ہیں

بم پھٹے، خون بہا، شہر لٹے

اور کیا لکھا ہے اخبار میں

متعلقہ خبریں