Daily Mashriq

پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا 'اسلاموفوبیا' کا مقابلہ کرنے کیلئے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان

پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا 'اسلاموفوبیا' کا مقابلہ کرنے کیلئے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان

پاکستان سمیت مسلم دنیا کے دو اہم ممالک ترکی اور ملائیشیا نے ایک ساتھ مل کر اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا گئے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا اعلان سماجی روابط کی ویب ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کیا۔

اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ صدر اردوان، وزیراعظم مہاتیر محمد اور میں نے آج ملاقات کی اور فیصلہ کیا ہم تینوں ممالک مل کر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے، جو 'اسلاموفوبیا' سے جنم لینے والے چیلنجز کے مقابلے اور ہمارے عظیم مذہب 'اسلام' کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مختص ہوگا۔

صدر اردگان، وزیراعظم مہاتیر محمد اور میں نے آج ملاقات کی اور فیصلہ کیا کہ ہم تینوں ممالک ملکر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے جو "اسلاموفوبیا" سے جنم لینے والے چیلنجز کے مقابلے اور ہمارے عظیم مذہب "اسلام" کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے مختص ہوگا۔

ایسی تمام غلط فہمیوں،جو لوگوں کو مسلمانوں کیخلاف یکجا کرتی ہیں،کا ازالہ کیا جائےگا؛ توہین رسالت کے معاملے کا سیاق و سباق درست کیاجائے گا؛اپنے لوگوں کیساتھ دنیا کی تاریخ اسلام سے آگہی/واقفیت کیلئے سیریز/فلمیں تیار کی جائیں گی اور میڈیا میں مسلمانوں کے وقف حصے کا اہتمام کیا جائے گا

 عمران خان نے اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے مزید لکھا کہ ایسی تمام غلط فہمیاں جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف یکجا کرتی ہیں، ان کا ازالہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے معاملے کا سیاق و سباق درست کیا جائے گا، اپنے لوگوں کے ساتھ دنیا کی تاریخ اسلام سے آگہی، واقفیت کے لیے سیریز یا فلمیں تیار کی جائیں گی اور میڈیا میں مسلمانوں کے وقف حصے کا اہتمام کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے مغربی ممالک کے سربراہان سمیت مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

اسی حوالے سے ترکی اور پاکستان کے تعاون سے 'نفرت انگیز گفتگو' کے خلاف ایک کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اروان نے شرکت کی۔

تقریب سے اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا تھا کہ ’تاریخ گواہ ہے کہ پسماندہ طبقے کے پسے ہوئے لوگوں نے خود کش حملے کیے، نائن الیون سے قبل 75 فیصد خود کش حملے ہندو تامل ٹائیگرز نے کیے، دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے امریکی جنگی جہازوں پر خود کش حملے کیے، وہ تمام خود کش حملے مذہب کے لیے نہیں تھے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب خود کش حملوں کی اجازت نہیں دیتا‘۔

وزیراعظم نے کہا تھا بدقسمتی سے مغربی ممالک کے رہنماؤں نے انتہا پسندی اور خود کش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا،’دنیا میں کم و بیش تمام دہشت گردی کی کڑیاں سیاست سے جڑتی ہیں، سیاست کی ناانصافیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات دہشت گردی کو تقویت بخشتے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ’مغربی میڈیا پر ’اعتدال پسند، بنیاد پرست، شدت پسند اسلام‘ جیسی اصطلاحات سنتے ہیں جبکہ اسلام صرف ایک ہے جو محمد ﷺ کا ہے اور اس پر ہی یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ’اقوام متحدہ کا فورم بہت اہم ہے جہاں مسلمان اور مسلم ممالک کے قائدین کو اس امر کی ضرور وضاحت کرنی چاہیے کہ اسلام اور دہشت گردی دو مختلف چیزیں ہیں‘۔

وزیراعظم عمران خان نے دہشت گردی اور خود کش حملوں کو مذہب سے جوڑنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ممالک توہین رسالت اور دہشت گردی سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں اور ہر چند سال بعد پیغمبراسلام ﷺ کے حوالے سے کوئی گستاخی کی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’دنیا میں جتنے بھی جرائم دیکھ رہے ہیں ان کے پیچھے یہ نفرت انگیز تقاریر ہیں جس کا کوئی ٹھوس جواز نہیں

متعلقہ خبریں