Daily Mashriq

متاثرین زلزلہ کی امداد میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے

متاثرین زلزلہ کی امداد میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے

اگرچہ حالیہ زلزلہ چودہ سال قبل آنے والے زلزلے کی طرح شدید اور تباہ کن تو نہ تھا لیکن اس کے باوجود قیمتی جانوں کا ضیاع اور املاک کی تباہی ہوئی8اکتوبر2005ء کے زلزلے کی تباہ کاریوں کا اندازہ پہلے روزنہ ہو سکا دن گزرتے گزرتے اور میڈیا اور امدادی ٹیموں کی رسائی ہوتے ہوتے تباہ کاریوں کی تفصیلات سامنے آئیں بہرحال موجودہ زلزلہ اس شدت سے اور تباہ کن تو نہیں اس کے باوجود متاثرین تک پہنچنے ان کو امدادی اشیاء پہنچانے اور آفٹر شاکس کیلئے لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنے کا عمل جس قدرسرعت کے ساتھ مکمل ہواتناا چھا ہے۔قدرتی آفات اتنی طاقتور اچانک اور شدت کی حامل ہوتی ہیں کہ ان کے سامنے ٹھہرنا انسانی بس سے باہر ہے2005ء کے زلزلے کے بعد ایراور این ڈی ایم اے کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی صوبائی سطح پر پی ڈی ایم اے بھی بنائے گئے ریسکیو ون ون ٹو ٹو اور دیگر امدادی ٹیمیں اور بوقت ضرورت پاک فوج کی ٹیموں کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن فوری طور پر اپنی مدد آپ واحد اور بہتر مدد ہے جن علاقوں میں شدید زلزلہ کے باعث تباہی آئی اور لوگوں کو ان حالات کا اندازہ ہے اور جہاں کے نوجوانوں کو مختلف سرکاری وغیر سرکاری اداروں کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے وہاں حکومتی امداد ملنے تک صورتحال سے نمٹنے کی بہتر سعی ہونا فطری امر ہوگا جہاں ہائی سکولوں،کالجوں جامعات اور پیشہ وارانہ کالجوں میں طلبہ کو تربیت کے مواقع فراہم نہیں ہوسکے ہوں تازہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پر توجہ دی جائے اور اس عمل کو تعلیمی سرگرمیوں اور نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے اگر اس تربیت کے حصول پر طلبہ کو رعایتی نمبر دیئے جائیں تو طلبہ کی اس طرف رغبت پیدا ہوگی۔چودہ سال کے دوران ایسی کتنی کوششیںکی گئیں اور کتنے نوجوانوںکو تربیت دی گئی اور اب کیا صورتحال ہے اس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ہمارے ہاں عمومی طور پر کچھ عرصہ بعد ہی کسی پروگرام اور منصوبے کو موقوف کرنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ سلسلہ ہی معدوم ہو جاتا ہے۔آفات سے نمٹنے کے قومی اور صوبائی اداروں کو ایک مرتبہ پھر متحرک ہونے اور کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک امدادی سرگرمیوں کا تعلق ہے بد قسمتی سے اس شعبے میں بھی نہ صرف ہماری کارکردگی احسن نہیں بلکہ اس طرح کے مواقع کو کمائی کا موقع گردانا جاتا ہے جن متاثرین زلزلہ یاسیلاب وقدرتی آفات کے متاثرین کی پہلے سے مدد ہونی چاہیئے بعض خداناترس عناصر ان کے حق میں بھی ڈاکہ ڈالتے ہیں معاشرے میں یقیناً قابل صد افتخاراورتقلید لوگوں کی بھی کمی نہیں جو متاثرین کی ہر ممکن برموقع وبعد ازاں اور ان کی بحالی کے کاموں میں اپنا خطیروکثیر حصہ ڈالنے میں بخل سے کام نہیں لیتے یہی لوگ معاشرے کا حسن اور انسانیت کا حقیقی چہرہ اور نمائندے ہیں بطور مسلمان یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہم حتی المقدور دکھی اور متاثرہ لوگوں کی دلجوئی ومدد کریں اور ان کو مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑیںاگرچہ حالیہ زلزلے کی تباہ کاریاں اتنی نہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگوں کے مکانات کاروباری مقامات اور املاک کا نقصان ہوا ہے جن کی تعمیرومرمت کیلئے ان کی دست گیری کی ضرورت ہے اس سے بھی قبل جو لوگ بے گھر اور زخمی ہوئے ہیں ان کا علاج معالجہ اور ان کیلئے پناہ گاہوں کا بندوبست متعلقہ اداروں کا تو فرض ہے ہی اس کے ساتھ یہ بطور مسلمان اور بطور پاکستانی ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم بلا امتیاز ان کی مدد کو آگے آئیں اور ان کی صحت یا بی وبحالی میں ان کی پوری مدد کریں جہاں انفرادی طور پر مدد ممکن ہے وہاں انفرادی اور جہاں اجتماعی امداد کی ضرورت اور موقع ہو وہاں اس سطح کی مدد لینے اور امداد کی بہم رسائی کی سعی کی جائے۔آفات سماوی وارضی قدرت کی طرف سے بھی ایک انتباہ ہیں جس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کردار وعمل کی اصلاح پر توجہ دیں گناہوں اور بد عنوانیوں سے توبہ کر کے مالک حقیقی کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

متعلقہ خبریں