Daily Mashriq

ترکی کے صدر کی کشمیریوں کے درد کی حقیقی ترجمانی

ترکی کے صدر کی کشمیریوں کے درد کی حقیقی ترجمانی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ہے، اگر اس معاملے پر سب خاموش بھی ہوگئے تب بھی ترکی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جبری پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا کر نہ صرف بطور مسلمان ملک اپنا کردار ادا کیا بلکہ کشمیر کے علاوہ فلسطین میں مظالم پر بھی دنیا کے دوغلے پن کی مذمت کی ساتھ ہی پناہ کی تلاش میں ڈوبنے والے شامی بچے ایلان کردی کی تصویر لہرا کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ ترکی کے صدراوروزیراعظم پاکستان نے حقیقت حال پوری طرح عالمی برادری کے سامنے رکھنے کی ذمہ داری تو ادا کردی ہے مگر اقوام متحدہ کا فورم اور دنیا کے ممالک کا ضمیر تقریروں اور پریس کانفرنسز میں جھنجھوڑنے سے بیدار ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں ۔عالمی برادری کم از کم اگر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور محاصرے کی صورتحال ہی کا خاتمہ کروانے میں کردار ادا کرے تو یہ بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سننے میں شمار ہوگا دنیا اگر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز نہیں بن سکتی تو کم از کم ان کو اپنے حق میں آواز اٹھانے کا حق ہی ملنا چاہیئے ترکی میں خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی مرکزیت کو جو زوال آیا تھا ترکی کے صدر نے اپنے دبنگ خطاب میں ایک مرتبہ پھر اس کی یاد تازہ کردی ایران سعودی عرب اور دیگر بڑے اسلامی ممالک بھی اگر ترکی کی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی آواز بنیں اور اس ضمن میں مختلف سفارتی وعالمی فورمز پرکشمیر اورفلسطین،روہنگیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنے وسائل اور اثر ورسوخ کو بروئے کار لائیں تو کامیاب نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں امت مسلمہ کا المیہ ہی یہ ہے کہ آج اسلامی ممالک خود ہی دست وگریباں ہیں۔ترکی کے صدر نے مظلوم کشمیریوں سے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے اس پر مقبوضہ کشمیر اور پاکستان بھر کے عوام ان کے مشکور ہیں او ردیگر اسلامی ممالک سے بھی اسی طرح کے کردار کی توقع ہے۔

مضر صحت گھی اور تیل کی بڑے پیمانے پر فروخت

پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) نے ملک میں فروخت ہونے والے 103 خوردنی تیل اور بناسپتی گھی کے برانڈز کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دے دیا۔اتھارٹی نے ان برانڈز کی پیداوار اور ڈسٹریبیوشن کو اس وقت تک روک دیا ہے جب تک یہ کمپنیز کھانے کے معیار پر پورا نہیں اترتیں، اس کے ساتھ ساتھ پی ایف اے نے مارکیٹ سے ان برانڈز کا 68 ہزار 120 کلو گھی اور تیل بھی ہٹا دیا۔لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ کے جائزے میں 56 نمونے معیار کی متعین مقدار جبکہ 47 حفاظت کے پیرامیٹرز پر پورا نہ اترسکے، اس کے علاوہ 211 برانڈز ایک نشان تک پائے گئے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جن کمپنیوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے ان کی مصنوعات صرف پنجاب میں نہیں بلکہ خیبر پختونخواسمیت پورے ملک میں ان کی مصنوعات کا استعمال ہوتی ہیں بعض کمپنیوںکا تیار کردہ گھی اور خوردنی تیل بے پناہ اشتہار بازی کے باعث صوبے کے گھر گھر میں استعمال ہوتا ہے اور مقبول عام ہے۔ چونکہ ایسا ہونے میں اشتہار بازی کا بڑا عمل دخل ہے اس لئے اس حوالے سے ایک ایسی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ صرف معیاری مصنوعات اس کے معیار کی سند کے ساتھ ہی مشتہر کر سکیں گی عوام کو ان کے اپنے مفاد میں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان مصنوعات کی فہرست حاصل کر کے اس گھی اور خوردنی تیل کا استعمال بند کردیں جن کو مضر صحت اور غیر معیاری قراردیا گیا ہے۔یہ فوڈ اتھارٹی خیبر پختونخوا کے حکام اور اس کی ٹیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی فوری طور پر اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور پنجاب کی طرح ان تمام مصنوعات کی فروخت روک دی جائے۔جو حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس تیارہو کر بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں۔

بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال

آٹیزم کی ایک قسم ایسپر جرز میں مبتلا سویڈن کی طالبہ گریٹا تھنبرگ نے آب وہوا کی تبدیلی کا علم اٹھا کر اور عالمی رہنمائوں کو براہ راست للکار کر اور خبردار کرتے ہوئے آگاہی کا جو آغاز کیا ہے وہ قابل تعریف ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تقلید بھی ہے سکول کی اس طالبہ کی ماحولیاتی معاملات میں سنجیدگی کا یہ عالم کہ وہ ہوائی جہاز کے مقابلے میں بحری راستے کا محض اس لئے انتخاب کرتی ہیں کہ بحری جہاز کے ماحول پر اثرات کم ہوتے ہیں۔آب وہوا کی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ اگرچہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے لیکن ہمارے خطے اور ملک میںماحولیاتی آلودگی کامسئلہ بطور خاص سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے جس کا ہمیں اس درجے کا ادراک نہیں جس کی ضرورت ہے کجا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ہمارے ہاں تو ابھی تک پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال ممنوع قرار دیئے جانے کے باوجود جاری ہے جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کوڑا کرکٹ اور ہسپتالوں سے برآمد ہونے والے طبی فضلات کو ٹھکانے لگانے کا معقول بندوبست ضروری نہیں سمجھا جاتا ایسے میں ایک سکول کی طالبہ کی بات کو ہم شاید ہی اہمیت دیں یورپ میں یہ مسائل اتنے سنگین نہیں مگر اس کے باوجود اس پرخاطر خواہ توجہ دی جارہی ہے ہمیں بھی ان سے رہنمائی لینے اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے کم از کم کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے بادلوں اور کارخانوں سے نکلنے والے آلودہ پانی ہی کی ٹریٹمنٹ ہی سے ابتداء کی جائے تو بھی غنیمت ہوگی۔

متعلقہ خبریں