Daily Mashriq

کیاچین دنیا کی قیادت کر سکتاہے؟

کیاچین دنیا کی قیادت کر سکتاہے؟

پچھلی سات دہائیوں سے دنیا بھر پر مغربی قوتوں کی بالا دستی رہی ہے۔ اس دوران انہوں نے کمیونزم اور سویت یونین کی بظاہر ناقابل شکست سمجھی جانے والی عسکری طاقت کا جس طور مقابلہ کیا، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان طاقتوں کے تشکیل کردہ مالی اداروں نے مغربی یورپ کو ایک مرتبہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے، معاشی استحکام لانے اور جاپان اور جنوبی کوریا جیسی اپنی ہم خیال سرمایہ دارانہ ریاستوں کو ایک نئی روح بخشنے کا کام بخوبی کیا ہے۔ اس نئی عالمی ترتیب کو کامیاب کرنے کے لیے امریکہ کے تمام صدور سمیت آزاد دنیا کی سبھی ریاستوں کے سربراہان نے یکسو ہو کر کوششیں کی ہیں۔ یہ ان کا اتحاد ہی تھا جس نے سوشلزم کے طوفان کو بخوبی جھیلا اور اسے اسی کے اواخراور نوے کی دہائی کے آغاز تک چاروں خانے چت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مغرب کے اس سرمایہ دار اکٹھ نے سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی اپنااتحاد قائم رکھااور اسے بیشتر مواقعوں پر منفی اور استحصالی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا۔اس اتحاد نے دنیا کی ایک بڑی اور ترقی یافتہ سوشلسٹ ریاست یوگوسلاویا کو جیسے اپنے مفاد کی خاطر مل کر راکھ کیا،یہ اس کی واضح مثال ہے۔ 1992 کے بعد اس اتحاد نے اپنی جڑیںپھیلانا شروع کیں اور ماضی کی سوشلسٹ ریاستوں کی خاطر خواہ تعداد کو نیٹو کے پرچم تلے اپنانا شروع کر دیا۔ان کا یہ اقدام سویت یونین کے آخری سربراہ سے ان کے کیے گئے زبانی وعدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس کے بعد ’’آزاد دنیا‘‘ کے ان علمبرداروں نے عراق کا کویت پر سے قبضہ چھڑانے کی خاطر اس پر حملہ کر دیاجس کے نتیجے میں اس عرب ملک کا ایک بڑا حصہ بربادی کا شکار ہو ا اور اس پر ایسی معاشی اور غیر انسانی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا جس کا نتیجہ وہاں کے پانچ لاکھ معصوم بچوں کی ہلاکت کی صورت نکلا۔ اس کے بعد ان جمہوریت کے چیمیئن ممالک نے جمہوریت کو برآمد کرنے کی ٹھانی اور اس کی آڑ میں انہوں نے عراق پر قبضہ کیا، لیبیا میں بد امنی کے بیج بوئے اور شام میں جہادیوں کی پشت پناہی شروع کی۔اگرچہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد عرب آمروں کو تخت سے اتارنا تھا مگر اس شورش میں ان ممالک نے یوکرائن اور وینزویلا میں حکومتیں پلٹنے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ انہی ممالک نے روس میں اندرون خانہ بد امنی پھیلانے کے لیے بھی سازشیں رچائیں۔ یہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں ایک ایسا سیاستدان بطور صدر آکر براجمان ہوگیا جو نہایت غیر تجربہ کار اور کھلنڈرے مزاج کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دور حکومت میں تحفظ پسندی کی انتہا کر دی۔ اس نے اپنے سیاسی حمایتیوں کا رخ بھی تبدیل کیا اور دشمنوں کو ناراض کرنا تو ایک طرف، اپنے حامیوں کو بھی دنگ کر دیا۔ اس نے نیٹو افواج کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے بھی زور ڈالااور دوسری طرف کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ تجارتی معاہدے میں نظر ثانی کا غیر متوقع فیصلہ بھی کر دیا۔ ایوان صدر کا اپنے یورپی حامیوں کی طرف رویہ بھی خاصہ سخت رہا ہے۔ اس سب کے بعد یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اب امریکہ اپنے عالمی رہنما کے طور پر مقام رفتہ رفتہ کھوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ایک قیادت کے خلاء کو جنم دیا ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ چین اس خلاء کو پر کر سکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ چین ابھی امریکہ جتنا طاقتور نہیں اور عسکری قوت کے لحاظ سے تو وہ امریکہ کے قریب بھی نہیں جس کے پاس اس وقت چھ ہزار ایٹمی ہتھیار اور بیڑے ہیں۔ دور حاضر میں امریکہ عالمی جی ڈی پی میں پچیس فیصد کا حصہ دار ہے کہ دنیا میں ارب پتیوں کی اکثیریت امریکی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں بھی امریکہ سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ اس سب کے باوجود یہ سمجھا جا رہا ہے کہ چین عنقریب اس قابل ہو جائے گا کہ وہ عالمی سطح پر قیادت کے خلاء کو پر کرسکے گا۔ اس کے نو سو ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اسکی دنیا پر غلبہ پانے کی ترکیب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بیجنگ اسے ایک سو چھپن ممالک اور دو ارب سے زائد لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے منصوبے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس قدر بڑے منصوبے نے کئی ممالک کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اٹلی، برطانیہ، جرمنی اور کئی وسط ایشیائی ریاستوں نے کمیونسٹ چین کے اس منصوبے کی حمایت کر دی ہے۔ بی آر آئی منصوبے کے تحت ایک ہزار کے قریب ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن کے باعث ابھی سے عالمی برادری میںخاصا جوش پیدا ہوگیا ہے۔ اب یہ تاثر زور پکڑ تا دکھائی دیتا ہے کہ بیجنگ عالمی سطح پرنئی قیادت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ چین کو اپنی سرمایہ کاری سے انسانی فلاح کے بہت بڑے منصوبے کے ساتھ سامنے آنا ہوگا۔ مثال کے طور پر ترقی پذیر ممالک میں بسنے والے تمام افراد کے لیے صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات اور صفائی کا نظام درست کرنے کے لیے صرف پچاس ارب ڈالر درکار ہیں اور اوزون لیئر کی مرمت کرنے کے لیے پچاس ارب یوروز کی ضرورت ہے۔ کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ چین کی جانب سے اپنے اس قدرعظیم منصوبے میں ان مقاصد کے لیے بھی کچھ رقم مختص کر دی جاتی کہ اس سے نہ صرف غریب ممالک بلکہ دنیا بھر اور چین کا اپنا بھی بہت فائدہ ہو تا۔ ایسے اقدامات کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا چین کو ایک عالمی رہنما کے طور پر دیکھنے لگے۔

(بشکریہ : دی نیوز، ترجمہ خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں