Daily Mashriq

پرچہ آؤٹ، خصوصی فرد اور بند گرلز کالج میرانشاہ

پرچہ آؤٹ، خصوصی فرد اور بند گرلز کالج میرانشاہ

بہت سے قارئین کے ایسے برقی پیغامات ملتے ہیں جن میں مسئلے کی نشاندہی اور اس کا پس منظر تفصیل سے نہیں لکھا ہوتا کہ پیغام پڑھ کر مسئلہ سمجھا جاسکے، جس کے باعث بہت سے پیغامات کالم میں شامل ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ قارئین اپنا نام اور علاقے کا نام بھی نہیں لکھتے جس کی وجہ سے بھی ابہام رہتا ہے، جو قارئین اپنی شناخت کے بغیر مسئلہ چھپوانا چاہیں تو ایسا ہو سکتا ہے بالکل گمنام قسم کے پیغامات کی اشاعت ہوتی ضرور ہے لیکن پہلی ترجیح واضح طور پر بیان کردہ اور نام کیساتھ آنے والے پیغامات کو دی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں یکے بعد دیگرے اساتذہ کی آسامیوں کیلئے ہونے والے ٹیسٹ پرچہ آؤٹ ہونے کے باعث منسوخ ہونے سے اُمیدواروں کی بڑی تعداد نے مایوسی کا اظہار اور احتجاج کیا ہے۔ دو تین ہفتے قبل ٹیسٹ منسوخ کئے گئے اور انکوائری بٹھا دی گئی مگر رپورٹ پندرہ دن گزرنے کے باوجود سامنے نہیں آئی۔ اب کل ہی پرائمری سکول اساتذہ کے ٹیسٹ بھی پرچہ آؤٹ ہونے کے باعث منسوخ کر دیئے گئے، این ٹی ایس ایک مذاق بن چکا، اُمیدوار دوردراز سے سنٹروں میں پہنچتے ہیں اور ٹیسٹ دیتے ہیں۔ اگلے دن پتہ چلتا ہے کہ پرچہ آؤٹ ہوا تھا لہٰذا ٹیسٹ منسوخ کر دیئے گئے۔ اندازہ کیجئے چترال کے اُمیدوار ٹیسٹ دینے اسلام آباد آتے ہیں جو واپسی پر راستے ہی میں ہوتے ہیں کہ ٹیسٹ منسوخ کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک امیدوار نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ ملی بھگت اور ٹیسٹ کی صورتحال پہلے بھی ایسی ہی تھی بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب سوشل میڈیا سب کچھ سامنے لاتا ہے، بات پہلے کی طرح خفیہ نہیں رہتی۔ خیبر پختونخوا میں چھان بین کی جائے تو ماضی قریب کے ڈی ای اوز اور محکمہ تعلیم کے عملے کے گھرانوں کے سوفیصد نااہل افراد ٹیچرز اور کلرکس نکلیں گے۔ صوبے میں تعلیم کا بیڑا غرق انہی لوگوں کے ہاتھوں ہوا، اب جب بی ایس اور اچھے نمبر والوں کو آگے آنے کا موقع مل رہا ہے تو این ٹی ایس میں گھپلے نکل رہے ہیں۔ آخر کب تک تماشا لگا رہے گا، صوبائی حکومت آخر اس کا تدارک کب کرے گی؟ محمد صدیق مجبور خٹک نے بھی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کا ایک تحریر میں رونا رویا ہے کہ NTS اور باقی ایجنسیاں بیروزگار، مجبور اُمیدواروں سے میرٹ کے نام پر پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ وقت سے پہلے ہر جگہ ٹیسٹ پرچہ آؤٹ ہوتا ہے۔ ضلع کرک میں تو ٹیسٹ کی فوٹو کاپی20روپے میں فروخت ہورہی تھی، اس میں قصور کس کا ہے؟ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس ادارے میں جتنے ملازمین ہیں اُن کو بلیک لسٹ کیا جائے، اس ادارے سے ریکوری کی جائے۔ یہ اس کا حل نہیں کہ صوابی والے مردان جائیں اور کرک والے کوہاٹ جائیں، ٹیسٹ سنٹر میں بچوں کو تعینات نہ کیا جائے، کم ازکم ممتحن کی ڈیوٹی سرانجام دینے کیلئے چالیس سال کی عمر کی حد مقرر کی جائے کیونکہ ہال میں جو چھوٹے بچے اینویجیلیٹر کی ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں وہ کسی مذاق سے کم نہیں۔ آخر میں ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ کم ازکم تعلیمی شعبے میں تو میرٹ کا جنازہ نہ نکالا جائے۔ ایک خصوصی فرد کی شکایت ہے کہ معذور افراد کا حکومت اور دیگر اداروں کے پاس درست اعداد وشمار نہیں اور یہ کہ خصوصی افراد کو ہر جگہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتی کہ مشتاق حسین کا یہ خیال درست ہے کہ معذور افراد کا ڈیٹا حکومت اور غیرسرکاری فلاحی اداروں میں سے کسی کے پاس بھی دستیاب نہیں، البتہ خصوصی افراد کو معاشرے میں نظرانداز کرنے اور سرکاری سطح پر ان کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ اس معاشرے میں معذور یا کمزور شخص ہونا سب سے بڑا جرم ہے، یہاں دھونس دھاندلی فراڈ اور دوسروں کو پیچھے دھکیل کر آگے نکلنے والے ہی کامیاب اور معزز کہلاتے ہیں حالانکہ اس کا الٹ ہونا چاہئے۔ گورنمنٹ گرلز کالج میرانشاہ پانچ سال سے بند پڑا ہے جس میں تقریباً ایک ہزار طالبات پڑھا کرتی تھیں، ضرب عضب کے بعد اس کی دوبارہ تعمیر بھی ہو چکی ہے لیکن گرلز کالج میں تعلیم کا سلسلہ بحال نہیں کیا جا رہا۔ کل ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اعلان کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جو خوش آئند امر ہے لیکن پہلے گرلز کالج میرانشاہ تو کھلوائیں، جہاں کی طالبات روایتی ماحول کے باعث گھر سے باہر جاکر تعلیم حاصل نہیں کرپاتیں اور بات صرف روایتی ماحول کی نہیں گھر سے دور ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں، جہاں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج کم ہو وہاں ذرا بھی مشکل پیش آئے تو سمجھو بچی گھر بٹھا دی گئی۔ گرلز کالج میرانشاہ تعمیرنو کے باوجود کیوں بند ہے، تعلیم کا سلسلہ کیوں بحال نہیں ہورہا قابل غور مسئلہ ہے۔ اُمید ہے کہ ایجوکیشن سٹی بنانے والے گورنمنٹ گرلز کالج میران شاہ کو بلا تاخیر کھولنے اور بچیوں کو داخلہ دینے میں مزید وقت ضائع نہیں کریں گے۔ ڈائریکٹریٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے زیرانتظام آفس اسسٹنٹ کی آسامیوں کیلئے 26 اپریل2019ء کو منعقدہ امتحان میں شریک ایک امیدوار نے نام مخفی رکھنے کی استدعا کیساتھ ٹیسٹ کے حتمی نتائج جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ یقیناً ہزاروں امیدوار منتظر ہوں گے۔ اپریل سے ستمبر تک تقریباًپانچ ماہ کی مدت کے بعد بھی پی ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد اور امیدواروں کا انٹرویو بھی ہوچکا جس کے بعد تقرریوں ہی کا مرحلہ ہوتا ہے، اس عرصے میں فیصلہ نہ ہونا تو ممکن نظر نہیں آتا، ممکن ہے ایسا ہو یا پھر اندرخانے تقرریاں کردی گئی ہیں اور امیدواروں کو لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ بہرحال جو بھی صورت ہو مناسب نہیں کہ تمام پروسیجر کی تکمیل کے بعد امیدواروں کو اندھیرے میں رکھا جائے۔اتنی تاخیر کی کوئی وجہ نہیں اگر تاخیر ہوگئی ہے تو مزید تاخیر نہ کی جائے اور اگر تقرریاں ہوچکی ہیں تو فون کرنیوالے امیدواروں کو اندھیرے میں کیوں رکھا جا رہا ہے جو شکوک وشبہات کا باعث بھی بنتا ہے اور امیدواروں کو ذہنی کوفت الگ سے ہوتی ہے۔ بہت سے امیدواروں کی آس ایک نہ ایک دن ٹوٹنی ہے تو کم ازکم انتظار کی سولی پر تو مزید نہ لٹکایا جائے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں