Daily Mashriq

ماں نے مدتوں نہیں دھویا دوپٹہ اپنا

ماں نے مدتوں نہیں دھویا دوپٹہ اپنا

ماں ایک عظیم ہستی ہے اتنی عظیم کہ اس کے پائوں کے نیچے جنت ہے وہی جنت کہ جس کیلئے انسان ساری عمرعبادات کوشش و محنت کرتاہے یہی نہیں بلکہ یہ ماں ہمارے لئے دنیا میں بھی جنت سے کم نہیں دنیا جہاں کے غم لے کر جب ہم اپنی ماں کی گود میں سر رکھ لیتے ہیں تو گویا ہم دنیا جہان کے غم سے آزاد ہوجاتے ہیں یوںلگتاہے کہ ساری دنیاسورہی ہے اور ہر طرف سکون ہی سکون ہے۔ دنیا تو دہشت زدہ اورغموں سے بھری ہے ہر طرف افراتفری ہے ہر کسی نے دشمن پال رکھے ہیں اور دوسرے کا خونی دشمن بنا ہوا ہے اور اپنے ہی بھائی کے خون سے ہاتھ رنگنے کیلئے بے تاب ہے لیکن ان سب غموں سے سکون دینے والی ذات ماں ہے ماں کی گود دنیا میں جنت ہے اس کا ہرگز مطلب نہیں ماں بھی اسی سکون سے گزر رہی ہوتی ہے بلکہ وہ سارے غموں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ماں کی شان میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردوادب کے مشہور شاعر منور رانا کہتے ہیں کہ

یہ ایسا قرض ہے کہ میں اداکرہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں ماں سجدے میں رہتی ہے۔

میں نے روتے ہوئے پونچھے تھے آنسو

ماں نے مدتوں نہیں دھویا دوپٹہ اپنا

ماں ہمیں سکون دینے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتی اپنی نیند کی قربانی دے کر وہ ہمارے لئے پرسکون نیند کا سامان کرتی ہے۔ خود تو خون کے آنسو روتی ہے لیکن ہمیں خوش رکھنے کے لئے بہلاتی ہنساتی ہے۔ ماں کے ہمارے اوپر اتنے احسان ہیں کہ میں اگر لکھنے بیٹھوں تو الفاظ کم پڑجائیں گے میراکالم پورے صفحے کو بھر دے گامگر اس کی عظمت کے قصے پورے نہیں ہوں گے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے اپنی والدہ کو اپنے کندھوں پر اُٹھاکر حج کروایا سارے کے سارے مناسک حج اس نے اپنی والدہ کو اُٹھائے رکھا اور خوشی خوشی حضور پاک ﷺ کے پاس آیا اور سارا قصہ سنانے کے بعد کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺمیں نے اپنی ماںکا حق اداکردیا تو سرور کائنات حضرت محمد ﷺنے فرمایا ابھی تو نے اپنی ماں کے ایک رات کا قرض اتارا ہے کہ جب تو نے بستر پر پیشاب کردیا توماں اس گیلی جگہ پر سو گئی اور تجھے خشک جگہ پر سلادیا۔یہ شان ہے میری ماں کی آپ کی ماں کی اور سارے دوستوں کی ماں کی۔میرے انہی دوستوں میں سے ایک دوست آج اس عظیم سائے سے ایک بے نظیر قوت سے اس بے حساب محبت سے اس ناختم ہونے والی مہربانیوں سے محروم ہوگیا ہے ۔اس موقع پر ہم سب دوست احباب ان کی والدہ کے جنازہ میں شریک ہوئے مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے دعائیں کی اور رسماً ڈاکٹر صاحب کو صبر کرنے کی تلقین کی لیکن یقین مانئیے اتنے بڑے سانحے کے بعد صبر کیونکر آئے گا اور اب وہ صبر دلانے والی ہستی ہی نہیں رہی جب دنیااسے رلاتی تھی تو ماںاسے ہنستاتی تھے جب دنیااسے دکھ درددیتی تھی توماں کی گود اسے سکون دیتی تھی لیکن اب وہ ماں نہیں رہی اب وہ کس کندھے پر کس گود میں سررکھ کر سکون ڈھونڈے گا ۔اب ڈاکٹر صاحب کو صبر کیونکر آئے گا۔ اسی موقع پر برصغیر کے عظیم شاعرمرزا اسد اللہ خان غالب نے اپنے ایک چاہنے والے کی والدہ کی وفات پر خط لکھا غالب نے کہا کہ میں تجھے نہیں کہہ سکتا کہ صبر کر اور یہ بھی نہیںکہوں گا کہ اپنے آنسوئوں کوروک لوانہیں سنبھال کررکھ لیکن وہ یہ آنسو اب کیونکر سنبھالے کس کیلئے رکھے اس سے بڑا حادثہ اس کے زندگی میں نہیںآئیگا۔یہ آنسوہم رکھتے ہی اس موقع کیلئے ہیں کہ جب اپنا کوئی اپنے سے زیادہ چاہنے والاہم سے جدا ہوتاہے تو ہم یہ قیمتی موتی اس کیلئے بہاتے ہیں۔یہ قیمتی موتی یونہی نہیں بلکہ جان سے زیادہ پیارے لوگوں کیلئے مخصوص ہوتے ہیں۔ پھر ماں سے زیادہ محبت کرنے والی اور ماں سے زیادہ ان آنسوؤںکا حقدار کون ہے، غالب نے اسے تلقین کی کہ وہ روئے بلکہ پھوٹ پھوٹ کرروئے کہ اس کی ساری متاع لٹ چکی ہے ،اس کی ساری ہستی تباہ ہوگئی اس کی ماں مر گئی ہے۔اردوادب میں شعراء وادباء نے بہت کچھ لکھا۔ماں کے حضورایک شاعر کاعقیدت نامہ ہے کہ ماں نے ہم کو چاند ستاروں سے باتیںکرنا سکھایا، شہزادوں اور پریوں کے قصے سنائے ، باتوں سے بہلایا۔ جیون کے جادونگری کا ایک ایک راز بتایا، جیسے ہم خود شہزادے ہوں ‘ ایسا رنگ چڑھایا، ہم نے ماں سے دانائی کی باتیں ، نادانی میں سیکھیں۔ روز اک نیا خواب وہ لاکردیتی تھیں، کھیلنے کو وہ مہتاب لاکردیتی تھیں۔

متعلقہ خبریں