Daily Mashriq

فنکاروں کی داد رسی یا توہین؟

فنکاروں کی داد رسی یا توہین؟

ترقی تو ہم نے بالآخر کر ہی لی ہے اور اس الزام کو دھولیا ہے کہ ہم مردہ پرست قوم ہیں یہ احساس مجھے اس تصویر کو دیکھ کر ہوا جو منگل24ستمبر کے اخبارات کے شوبز صفحوں میں نظرآئی ہے اور جس میں لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹوڈائریکٹر اور الحمرا کے نمائندے نے لاہور کے نابغئہ روزگار اور عالمی شہرت کے کامیڈین امان اللہ کے گھر جا کر نہ صرف ان کی عیادت کی بلکہ امدادی چیک بھی ان کے حوالے کیا ،امان اللہ گزشتہ دنوں سے عارضئہ قلب میں مبتلا ہیں اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے کے مراحل سے گزر کر اب اپنے گھر میں ہیں،ایک تو ہمارا قومی مسئلہ یااگر یہ کہلایا جائے کہ المیہ یہ ہے ہمارے حکمرانوں سے لیکر اداروں تک کے سربراہان ایک ہی بیماری میں مبتلا ہیں کہ کسی کو سو پچاس،ہزار دوہزار بھی دیتے ہیں تو اس موقع پر تصویر اتار کر اسے میڈیا پر شائع اور نشر کر کے بطور سند استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں اس حوالے سے گزشتہ کئی ادوار سے مختلف وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ،وزراء بلکہ نچلے درجے کے افسران بالا تک کو’’مستحقین‘‘میں زکوٰۃ تک کے چیک تقسیم کرتے وقت شریف لوگوں کی’’پگڑیاں‘‘ اچھالتے یعنی پبلک مقامات پر ان کو چیک دے کر شرمندہ کرتے پوری قوم دیکھتی آرہی ہے،سو اگر امان اللہ جیسے بڑے فنکار کو بھی امدادی چیک دیتے وقت کھینچی گئی تصویر کو میڈیا پر وائرل کردیا گیا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ بے چارہ ایسے موقع پر تصویر اتروانے سے انکار کی تاب کہاں لاسکتا تھا۔اقبال عظیم آبادی نے کہا تھا کہ

جھک کر سلام کرنے میں حرج ہے،مگر

سراتنا مت جھکائو کہ دستار گر پڑے

مگر ان معاملات میں تو’’سائلوں‘‘ کے سر اتنے جھکا دیئے جاتے ہیں کہ بے چارے شرم کے ہاتھوں پھر اسے اٹھانے کی ہمت ہی نہیں کر سکتے اور کسی سے آنکھ ملانے کی جرأت ان میں باقی نہیں رہتی ،خیر جانے دیں بات ہورہی تھی ترقی اورمردہ پرست قوم کا الزام دھونے کی،تو محولہ بالا واقعہ کچھ کچھ اس بات کا ثبوت پیش کرنے کو کافی ہے،حالانکہ جب سے فنکاروں کے وظائف بند ہوئے ہیں تب سے شاید متعلقہ حکام فنکاروںکی’’موت‘‘ کی خبروں ہی کے منتظر رہنے لگے ہیں کہ کب کوئی مرتا ہے اور اس کے لواحقین تجہیز وتکفین کے اخراجات کے کھاتے میں کچھ رقم دے کر حاتم کی قبر پر لات ماردی جائے،حالانکہ باوقار قومیں اپنے اہل کمال کو پہلے تو باعزت روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں تاکہ انہیں روزی روٹی کی کوئی فکر نہ رہے،اور اگر اس کے باوجود ان کے حالات نہیں بدلتے تو پھر ان کی’’دادرسی‘‘ کا اہتمام کیاجاتا ہے،آج دنیا کے مختلف ممالک میں یہ جو ویلفیئر سٹیٹ کا تصور ہے تو اس کی ابتداء بھی اسلام نے کی اور بیت المال سے لوگوں کے وظائف مقرر کر کے ان کو بھیک مانگنے سے نجات دلائی،بلکہ اسلامی ریاست کی پالیسیاں اس مقام تک پہنچ گئیں کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ رہامگر ہم ہر سال زکوٰۃ وصول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر کے اور ان کو چند سو روپوں کی خیرات کے چیک دیتے وقت تصویریں اتروانے پر فخر کرتے ہیں جہاں تک فنکاروں اور اہل علم وفضل کا تعلق ہے تو لاہور اور کراچی میں تو پھر بھی صورتحال مختلف ٹی وی چینلزکے ان پروگراموں نے سنبھال رکھی ہے جن میں طنزومزاح اورموسیقی کے ملے جلے نظارے دیکھنے کو مل جاتے ہیں،ان کے ساتھ وابستہ فنکاروں کی روزی روٹی پھر بھی لگی ہوئی ہے البتہ خیبر پختونخوا میں صورتحال بہت دگرگو ں ہے،ایک پی ٹی وی ہے جہاں پشتو اور ہندکو زبانوں کے پروگرام پہلے کی نسبت اب بہت کم ہو چکے ہیں،پشاورسنٹر سے پہلے اردو ڈراموں کے سیریلیز اور سیریز بھی قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوتے تھے اور ان کی وجہ سے ٹی وی سٹیشن آباد تھا،روزانہ سینکڑوں فنکار اور ڈرامہ نگار رونق میلہ لگاتے نظر آتے تھے،پشتو اور ہندکو ڈرامے،موسیقی کے پروگرام،سٹیج شوزالگ تھے مگر اب صورتحال بہت دگر گو ہوچکی ہے،جبکہ سٹیج ڈراموں اور پروگراموں سے متعلق سرگرمیاں بھی بوجوہ ختم نہیںتو بہت ہی محدود ہوچکی ہیں اور فنکاروقلمکار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں،ایسی صورتحال میں صوبائی محکمہ ثقافت کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر مستحق افراد کیلئے وظیفہ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا تھا،مگر گزشتہ سال اس’’نیکی‘‘ کو بھی بعض افراد نے پراگندہ کردیا جس کے بعد یہ سلسلہ موقوف کیا جا چکا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز پنجاب حکومت نے بھی اپنے ہاں کے مستحق فنکاروں کے وظائف بند کرنے کا اعلان کرکے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا،تاہم ادھر پشاور کی فنکار برادری نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے اور شاید تین یاچار دن پہلے فنکار اتحاد کے ایک اہم عہدیدار نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں یہ خوشخبری دی گئی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت نے فنکاروں کے وظائف بحال کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے،اگر ایسا ہے تو یقیناً یہ ایک خوش آئند خبر ہے،تاہم اس موقع پر میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اب کی بار مستحق افراد کے نام فائنل کرتے ہوئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کی جائیں اور اگر گزشتہ برس اس حوالے سے کوئی کمزوری رہ گئی ہے تو اسے نظر میں رکھتے ہوئے تمام غلطیوں سے مبرا فہرستیں مرتب کی جائیں۔اس حوالے سے پہلے بھی میں اپنے کالموں میں گزارش کر چکا ہوں کہ اگر مستحق افراد کی تعداد میں اضافہ کیا جائے خواہ اس کیلئے وظیفے کی رقم میں مناسب کٹوتی کیوں نہ کرنی پڑے تو شاید ان لوگوں کو بھی فائدہ ہو جائے گا جو پہلے محروم رہے تھے۔

متعلقہ خبریں