Daily Mashriq

مسوڑوں کے امراض اور فشار خون کے درمیان تعلق دریافت

مسوڑوں کے امراض اور فشار خون کے درمیان تعلق دریافت

اگر آپ کے مسوڑے اکثر مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں تو بہتر ہے کہ اکثر بلڈپریشر کو چیک کرانا بھی عادت بنالیں۔

درحقیقت مسوڑوں کے امراض جتنا زیادہ ہوں گے، فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں مختلف شواہد کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا گیا کہ مسوڑوں کے امراض جیسے دانتوں کے گرد موجود جھلی کی سوزش کے شکار افراد میں بلڈ پریشر کے مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

جھلی کی سوزش جتنی شدید ہوگی، فشار خون کا خطرہ بھی اتنا زیادہ ہوگا اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہائی بلڈ پریشر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں مسوڑوں کے امراض اور فشار خون کے درمیان تعلق کو دریافت کیا جاچکا ہے تاہم اس حوالے سے نتائج زیادہ واضح نہیں تھے۔

اس تحقیق میں 26 ممالک میں پیش کی جانے والی 81 تحقیقی رپورٹس کے شواہد پر نظرثانی اور تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ دانتوں کی جھلی میں سوزش کے شکار افراد میں شریانوں کا بلڈپریشر اوسطاً کافی زیادہ ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ بلڈ پریشر ناپنے کے 2 پیمانے ہوتے ہیں ایک خون کا انقباضی دباﺅ ( systolic blood pressure) جو کہ اوپری دباﺅ کے نمبر کے لیے ہوتا ہے جو کہ دل کے دھڑکنے سے خون جسم میں پہنچنے کے دوران دباﺅ کا بھی مظہر ہوتا ہے۔

دوسرا خون کا انبساطی دباﺅ (diastolic blood pressure) ہوتا ہے جو کہ نچلا نمبر ہوتا ہے یعنی اس وقت جب انسانی دل دھڑکنوں کے درمیان وقفہ اور آرام کرتا ہے۔

اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مسوڑوں کے امراض کے شکار افراد میں ان دونوں پیمانوں میں خون کا دباﺅ صحت مند مسوڑوں کے مالک افراد کے مقابلے میں لگ بھگ 5 ایم ایم ایچ جی زیادہ ہوتا ہے۔

محقین کے مطابق یہ فرق نظرانداز کردینے والا نہیں، کیونکہ بلڈ پریشر میں اوسطاً 5 ایم ایم ایچ جی اضافہ ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ 25 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ دانتوں کی جھلی میں عام سوزش سے فشار خون کا خطرہ 22 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ سوزش زیادہ شدید ہو تو یہ خطرہ 49 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مسوڑوں کے امراض کے شکار افراد کو اس خطرے سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور طرز زندگی میں تبدیلیوں جیسے ورزش یا صحت بخش غذا وغیرہ کا مشورہ دینا چاہیے تاکہ ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام کی جاسکے

متعلقہ خبریں