Daily Mashriq


احتساب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں

احتساب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب نوٹسز کے خوف سے حکومتی مشینری نے کام چھوڑ رکھا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ضروری نہیں کہ نیب کی کہی ہوئی ہر بات درست ہو، انتظامیہ کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال سے ملکی ترقی کی پالیسیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیب کی جانب سے مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کا ریکارڈ دینے کا خط مسترد کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ نیب جب چاہے کچھ مانگ لے یہ کوئی طریقہ نہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کہا کہ نیب کا اداروں سے ریکارڈ مانگنے کا باقاعدہ طریقہ ہونا چاہیے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیب کو ریکارڈ کی فراہمی کا طریقہ وضع کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ ہوں گے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹرکے مبینہ غیر قانونی استعمال کی انکوائری کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کرانے بغیر پروٹوکول نیب خیبرپختونخوا میں پیش ہوگئے ۔ نیب خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کو پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے استعمال میں لانے اور مالم جبہ اراضی سکینڈل کی انکوائری کررہاہے۔ نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں سوالنامہ مل چکا ہے اور جلد ہی اس کے جوابات جمع کروائیںگے ، خود کو احتساب سے مبرا نہیں سمجھتا، ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے نیب کے حوالے سے تحفظات کس حد تک درست ہیں اور کس حد تک نہیں اس سے قطع نظر ملک میں احتساب کے ادارے کے حوالے سے حکمران وقت کا لب و لہجہ مناسب نہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ میں الفاظ کے چنائو اور خیالات کے ابلاغ میں نرم مرچ تیز کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن من حیث المجموع وزیر اعظم سے کوئی ایسا بیان منسوب کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے جس کا کوئی وجود اور بنیاد نہ ہوں علاوہ ازیں اجلاس کی روداد کی وضاحت اور تردید بھی دم تحریر نہیں آئی۔ ایک جانب وزیر اعظم کا نیب کے حوالے سے نیب سے عدم تعاون کا عندیہ ملتا ہے تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے نیب میں پیش ہونے کا بالکل بھی برا نہیں منایا اور وہ احتساب کا خیر مقدم کرتے ہوئے نیب کے سوالوں کا جواب دے کر تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب میں پیشی اور نیب کا کسی اعلیٰ عہدیدارسے پوچھ گچھ اور تحقیقات کے لئے طلبی کا بد قسمتی سے یہ مطلب لیا جانے لگا ہے کہ مطلوب پر گویا بد عنوانی ثابت ہوگئی حالانکہ ایسا نہیں یہ ایک معمول کا عمل ہے اور اسے اس حد تک ہی اہمیت دینے کاوتیرہ اختیار کیا جائے اور نیب میں پیشی کو لازمی بدعنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال سے جوڑنے کا رویہ ترک ہونا چاہئے۔ اس قسم کی کیفیت پیدا کرنے کی ذمہ داری اولاً مخالف سیاسی جماعتوں اور دوم میڈیا پر عائد ہوتی ہے یہ نہیں دیکھا جا تا کہ جس طرح عام عدالتوں میں لوگوں کی مقدمات کے لئے پیشی معمول ہے اسی طرح ہی کسی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں نیب اور احتساب عدالتوں میں پیش ہونا بھی غیر معمولی بات نہیں۔ عدالتوں اور نیب کو اس طرح کے منفی تاثرات کا باعث بننے والے معاملات کو کم سے کم کرنے کے لئے ضروری ہدایات جاری کرنی چاہئے اور طلب کنندگان کے عزت نفس کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ جاری صورتحال کا ایک منفی تاثر خود متعلقہ عدالت اور احتسابی ادارے کے حوالے سے بھی پیداہوتا ہے جس میں عوام اور رائے عامہ معاملے کی تفصیلات جانے بغیر اس رائے کا بر ملا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ بدعنوانی میں ملوث عناصر کو عدالتیں چھوڑ دیتی ہیں اور نیب کوئی موثر ادارہ نہیں بلکہ دکھاوا اور مقتدرین وقت کے ہاتھ کا کھلونا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے نیب اگر علی الاعلان طلبی کا طریقہ کار ترک کرے اور متعلقہ فریق کے نوٹس کواس فریق ہی کی حد تک رکھے تو خاصے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اگر کسی فریق کو نیب کا نوٹس ملنے پر اس کا وہ از خود افشا کرتا ہے تو پھر اس فریق کا اپنا معاملہ ٹھہرے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں احتساب کو پروپیگنڈا نہیں حقیقی بنانا ملک و قوم اور ہم سب کے مفاد میں ہے۔ ممکن ہو تو ملزمان کے بھی میڈیا سے مقدمے کے حوالے سے بات چیت پر پابندی لگا دی جائے اور صرف وکلاء کو مقدمے کے حوالے سے بات کرنے کی اس وقت اجازت ہو جب ایساکرنا اشد ضرورت ہو۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز میں نیب کی تحقیقات میں اداروں کو تعاون کا پابند بنائے نہ کہ مشکلات کھڑی کی جائیں تاہم نیب کو بھی اپنے کردار و عمل کاجائزہ لینے کی ضرورت ہے اور جہاں غیر ضروری طور پر نیب قوانین یا ادارے کو بروئے کار لانے کے امکانات کے معاملات ہیں اس کی روک تھام یقینی بنا کر احتساب کے قومی ادارے کی ساکھ کا تحفظ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا خوش دلی سے نیب سے تعاون کا عندیہ خوش آئند ہے اور ذمہ داری کا تقاضا بھی‘ قوم حقیقی احتساب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والوں سے بلا امتیاز احتساب کی توقع رکھتی ہے جسے پورا کرنے کی قومی ذمہ داری نبھانے کی سرکاری مشینری سمیت سبھی کو تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ نیب کے وقار کا تقاضا ہے کہ وہ قوم کو احتساب کے معاملے میں پوری طرح مطمئن کرنے کی سعی کرے اور غلط فہمیوں کی افزائش کا موقع نہ دے۔

متعلقہ خبریں