Daily Mashriq


ترکی بہ ترکی‘ کوئی کمال نہیں

ترکی بہ ترکی‘ کوئی کمال نہیں

وطن عزیز کے مقتدر عہدیداروں کے ایک دوسرے کے حوالے سے ریمارکس سے کسی اچھی صورتحال کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ ایک جانب سے اندھا دھند فائر نگ کی سی کیفیت پیداہونے پر دوسری جانب سے جوابی وار ترکی بہ ترکی کے زمرے میں تو شمار نہیں ہوتا تنگ آمد بجنگ آمدکی اس کیفیت سے قوم کے اعصاب پر منفی اثر پڑنا فطری امر ہے۔ معاشرے میں اگر مقتدرین غیر محتاط اور بے مقصد گفتگو اور جوابی گفتگو کرنے لگیں۔ بات کچھ اور رد عمل و تبصرہ کچھ کی کیفیت پیدا کردی جائے تو حکومتی و عدالتی امور کا متاثر ہونا فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضرورت صرف عدل و انصاف اور قانون ہی کی نہیں اخلاقیات‘ رواداری اور تول کر بولنے جیسے امور پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ کرنا خود اپنے عہدے کو بے توقیر کرنے کا باعث امر بن سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت کچھ اس قسم کی سی کیفیت ہے۔ جہاں ٹھہرائو ہونا چاہئے وہاں تنائو ہے جہاں متانت ہونی چاہئے وہاں ٹکرائو کی کیفیت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قاعدہ و دستور اور اپنی اپنی راہ پر گامزن ہو کر ذمہ داریاں نبھانا ہر دو کے مفاد میں ہے۔ یہ فطری امر ہے کہ ہوا میں کچھ اچھالا جائے تو اس نے واپس ہی آنا ہوتاہے۔ ترکی بہ ترکی کوئی کمال نہیں کمال برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے جس کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ ہم سب کو ایک لحظہ ٹھہر کر اپنے اپنے رویے اور انداز فکر و نظر پر غور کرنے اور اصلاح پر توجہ کی ضرورت ہے۔

احسن اقدام

جراحی کے اصولوں اور معیار کو نظر انداز کرنے پر تاریخ میں پہلی بار لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر پر سزا کے طورپرایک ماہ کیلئے آپریشن تھیٹر کی حدود میں داخلے کی پابندی عائدکیا جانا صوبے میں طبی ماہرین کو قانون کے دائرے کا احساس دلانے کی اچھی کوشش ہے۔خیبر پختونخوا میں پہلی بار ایک ڈاکٹر کو جراحی اصولوں کو نظر انداز کرنے پر سزا دی گئی ہے۔دیگر شعبوں میں غفلت و لا پرواہی سے ہونے والے نقصان کا کسی نہ کسی طور ازالہ ممکن ہے۔ لیکن انسانی جان اور صحت کو غفلت و لا پرواہی سے ہونے والے کسی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں طبی اخلاقیات اور قوانین سے عدم واقفیت کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو قسم قسم کی مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا تو ہے ہی اور اگر شعور و آگہی ہو بھی تب بھی کم ہی اس قسم کی کوئی نظیر قائم ہوتی ہے جو لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں قائم کی گئی ہے۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے غفلت اور شکایت نہ سننے کے باعث ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج اور مظاہروں تک نوبت آجاتی ہے اور یہ تقریباً معمول بن چکا ہے کہ ڈاکٹر و متعلقہ طبی عملے کی غفلت سے کسی معصوم کی جان چلی جاتی ہے اور ورثاء اسے مالک حقیقی کی منشاء و مرضی گردان کر برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ طبی قوانین و اخلاقیات کا درس میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کو گھونٹ کر پلانے کی ضرورت ہے اور ہسپتالوں میں اس پر عملدرآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ہی مریضوں پر توجہ اور درست علاج معالجہ ممکن بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئے روز اس قسم کی غفلت کے ارتکاب کی شکایات پر کسی ہسپتال کی انتظامیہ کیوں ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی اور ہر تحقیقاتی رپورٹ میں ڈاکٹروں کو کلیئر کیوں کردیا جاتا ہے۔ ہر شکایت غلط نہیں ہوسکتی اگر حقیقی معنوں میں تحقیقات کی جائیں تو آدھی نہیں تو کچھ کم شکایات میں شکایت کنندہ کے موقف کا درست ثابت ہونا بعید نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بعد صوبے کے دیگر تدریسی ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں بھی اس قسم کا رویہ اپنا یا جائے گا اور ڈاکٹروں کو اس امر کا عملی احساس دلایا جائے گا کہ اب ان کو غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کرکے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر ان کو بھی اس قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سزا کو بھی علامتی سزا تصور کیا جانا چاہئے وگرنہ ڈاکٹروں کے پریکٹس اور علاج معالجہ کرنے پر مکمل پابندی کی سزا بھی کسی سنگین غفلت میں کم سزا ہوتی ہے۔ ان کو بھاری ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث وہ مریض کا علاج احتیاط اور ذمہ داری سے کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بہر حال یہ ایک خوش آئند تنبیہہ اور بارش کا پہلا قطرہ ہے جس سے صوبے میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو اس امر کا احساس ہوگا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے اور جو نسخہ وہ لکھ دیں یا تشخیص کریں اس کا متعلقہ فورم پر دفاع بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں