Daily Mashriq


کرودھی سیا ست

کرودھی سیا ست

گزشتہ چا ر ساڑھے چا ر سال سے ملک میں ہر سو غصہ ہی غصہ بکھر ا نظر آرہا ہے جس کا آغا ز تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات میں دھا ندلی کے الزام سے شروع کیا ، سیا ست میں نو جوان نسل کا بھی گہر ا اثر ہو ا کر تا ہے چنا نچہ ایو ب خان کے خلا ف بھٹو مر حوم کی تحریک میں بھی نو جو ان اس لیے اٹھ کھڑے ہو ئے تھے کہ ان کو ایو ب خانی دور میں اپنے مستقبل میں سوائے تاریکی کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور وہ بھٹو کے اس دل خوش کن نعرے روٹی کپڑا اورمکا ن کے اسیر ہو گئے تھے۔ آج کی نو جو ان نسل یہ جانتی ہے کہ ملک اور عوام کی بہتر ی اسی میں ہے کہ انصاف اور میرٹ کا بول بالا ہو اس عزم کی طرف عمرا ن خان نے دھکیلا ہے ، لو گو ں کو کا فی امید یں وابستہ ہیں، بھٹو مر حوم اور عمر ان خانی سیا ست میں ایک بات مشتر ک ہے کہ اس زما نے میں بھی بھٹو مرحوم نے نو جو ان نسل کو حصول حقوق کو کرود ھ بنا ڈالا تھا اور انہو ں نے تما م اصولو ں کو بالا ئے طا ق رکھ دیا تھا مگر یہ کھیل سیا سی مید ان تک تھا اس وقت یہ کھیل ملک کے دیگر قومی ادارو ں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے اور ہر طرف چلچلا پن عود کر آیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ جو بہت متحمل مزا ج جا نے جا تے تھے گزشتہ روز انھو ں نے اپنے خلا ف لگائے گئے الزامات کا جو اب جس اند از میں دیا وہ احسن اقبال کا کبھی لہجہ نہیں رہا۔

لیکن اب یہ پا کستان میں کلچر بن گیا ہے کہ نہ تو سید ھی بات پسند ہے اور نہ ہی سید ھا پن ، اب جما عت اسلامی اور تحریک انصاف کے ما بین ہو نے والی تلخی کولے لیں جما عت اسلا می کے سربراہ سراج الحق نے ایک بات کہی جو انکشا ف کے زمر ے میں آتی تھی اصول کا تقاضا یہ تھا کہ اس انکشا ف کی حقیقت کے بارے میں کوئی ٹھوس وضاحت آتی جس وقت سراج الحق نے انکشاف کیا اسی لمحہ تحریک انصاف کی تیسر ی قیا دت نے ژولید ہ گفتا ری شروع کر دی کما ل تو وزیر اعلیٰ کے ترجما ن نے کر دکھایا کہ انہو ں نے جما عت اسلا می والو ں کو کہا کہ یہ آستین کے سانپ ہیں ساڑھے چار سال تک اقتدا ر کے مز ے لوٹتے رہے اب مین میخ نکال رہے ہیں حالا نکہ ضرو رت اس امر کی تھی کہ یہ وضاحت کر دی جا تی کہ سراج الحق نے جو اوپر سے حکم آنے کی بات کی ہے اس کی سچائی کیا ہے جن کے حوالے سے بات کی تھی یعنی وزیر اعلیٰ پرویزخٹک انہو ں نے اس بارے میں کئی روز تک زبان بند رکھی پھر چار پانچ روز کے بعد ایک پریس کا نفر نس میں صحافی کی جانب سے اس مو ضوع پر پوچھے گئے سوال کے جو اب میں انہو ں نے وضاحت کی کہ ان کا اوپر سے مقصد بنی گالہ تھا اور وہ بنی گالہ کے بارے میں استعارہ اوپر استعمال کر تے ہی ہیں ، چلیں وہ یہ فرما تے ہیں تو ما ن لیتے ہیں مگر میڈیا سے وابستہ ہر کوئی جا نتا ہے کہ تحریک انصا ف والے یہ استعارہ استعمال نہیں کیا کر تے وہ بنی گالہ سے ملنے والے حکم یا ہدایت کے بارے میں یہ ہی کہتے ہیں کہ خان صاحب کا حکم ہے یا ہد ایت ہے ۔ جہا ں تک بلو چستان سے چیئر میں سینٹ کے انتخا ب کا تعلق ہے تو یہ اچھی روایت ہے کہ ایک چھو ٹے صوبے کو کسی بھی سطح پر نمائند گی دی گئی یا پھر یا د رکھا گیا لیکن بلو چستان میں تبدیلی کا جو کھیل کھیلا گیا وہ واضح ہے کہ وہا ں بھی ووٹ کو عزت نہیں دی گئی عوام نے جن کو مینڈیٹ دیا تھا ان کے ساتھ کیا سازش کھیلی گئی یہ رو ز روشن کی طرح عیا ں ہے ۔پھر جہا ں تک صادق سنجر انی کا تعلق ہے تو ان کے پی پی کے رہنما آصف زر داری کے ساتھ تعلقا ت کوئی پو شید ہ بات نہیں ہے۔ آ صف زرداری اپنی عنا ن حکومت میں سنجر انی کو ایک عمد ہ عہدے سے نو ا ز چکے ہیں اور کہا جا تا ہے کہ وہ تجا رت میںان کے سنگھی بھی رہے ہیں اور بھی شاید ہو ں لیکن اس سے بھی ہٹ کر یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ سنجر انی تو خیر آزاد امید وار تھے مگر سلیم مانڈوی والا تو پی پی کے ٹکٹ پر تھے۔ پر ویز خٹک کا کہنا ہے کہ انہو ں نے اپنی پا رٹی کی کو ر کمیٹی میں یہ تجو یز دی تھی کہ بلوچستان ایک محروم صوبہ ہے چنا نچہ چیئر مین سینٹ بلوچستان کا ہو نا چاہیے اور ڈپٹی چیئر مین فاٹا سے ہو نا چاہیے مگر فاٹا کے نمائند ے اپنے موقف پر نہیں ڈٹ پائے حیر ت ہے کہ تحریک کے سینٹ میں کئی نمائندو ں کا تحریک انصا ف سے تعلق ہے اور وہ اپنا امید وا ر نہ لاسکے چلو نہ سہی مگر پی پی کے مقا بلے میں تو نما ئند ہ کہیں اور سے تلا ش کر سکتے تھے وہ بھی ناکامی رہی۔لیکن وہ ڈپٹی چیئر مین کے لیے ووٹ نہ پو ل کرنے کی سکت تو رکھتے تھے انہو ں نے تو دونو ںاہم عہد ے طشتری میںرکھ کر پی پی کو تحفہ کر دیئے ۔ ان کے بقول مسلم لیگ ن اور پی پی کرپٹ ترین جما عتیں ہیں اور تحریک انصا ف ان کرپٹ لو گو ں کو سڑکو ں پر گھسیٹے گی یہ ہی اپنا منشو ر اب تک بیا ن کیا جا تا ہے وہ صاف ستھر ا معا شرہ قائم کریں گے مگر ہو اکیا کہ چور اچکو ں، ڈاکوئو ں سے سیا ست کو پا ک کر نے کا عزم ادعا کر نے والو ں کی خود کی جما عت سب سے زیا دہ کر پٹ نکلی۔ سینٹ کے انتخا بات میں دوسری جماعت کے چند افراد کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بکے ہیں مگر پی ٹی آئی کا تو پورا اصطبل بک گیا بلکہ اس میںخریدار بھی تھے جن کے بارے میں پوری جماعت دم سادھے ہوئے ہیں۔ سیا ست کے کھیل بھی نرالے ہیں وزیر اعلیٰ کے ترجما ن شوکت یو سفزئی نے جس حقارت سے جما عت اسلا می والو ں کو آستین کے سانپ کہا تھا اور انہیں راہ دکھائی تھی کہ وہ اگر اتنے ہی کھر ے ہیں تو اقتدار سے کوچ کر جا ئیں یہ مشورہ یقینی طورپر جما عت اسلا می کے لیے ایک اہم آزمائش رکھتا تھا لیکن جماعت نے یہ سب کچھ اقتدار کے لیے سہ لیا اور حکومتی عہدے چھوڑنے کے باوجود شریک اقتداررہنے کا فیصلہ کیا حالانکہ اس وقت جو اسمبلی کی صورت سامنے آئی ہوئی ہے وہ فکر انگیز ضرور ہے لیکن جماعت کے پی ٹی آئی کے ساتھ این آراو ہو جانے سے پھرپی ٹی آئی نے انہیں اپنی آستینوں میں پنا ہ گیرکر لیا ہے ، جما عت اسلا می نے کن بنیا د یا کس اوپر والے کی خواہش پر این آر او کیا یہ وہ وہی بتا سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں