Daily Mashriq


بادشاہ سلامت زندہ باد

بادشاہ سلامت زندہ باد

بعض حکایات بڑی حکمت آموز ہوتی ہیں اور ہمارے ہاں حکایات رومی ؒ و سعدی ؒ اسی حوالے سے مشہور بھی ہیں اور سبق آموز بھی ، اب یہ تو معلوم نہیں کہ جو حکایت آگے بیان کی جارہی ہے وہ کس کی ہے اور کتنی مدت سے ہمارے ہاںرائج ہے اور شاید ایک آدھ بار پہلے بھی اس کا تذکرہ میں کر چکا ہوں تاہم جن باتوں میں نصیحت پوشیدہ ہوتی ہے ان کا بار بار تذکرہ بھی گراں نہیں گزرتا ، تو وہ حکایت کچھ یوں ہے کہ کسی زمانے میں کسی ملک کے بادشاہ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ آیا اس کی رعایا خوش ہے بھی یا نہیں ، ذہن میں اٹھنے والے اس سوال کو اپنے وزیروں ، مشیروں کے آگے رکھ دیا ، بڑی بحث و تمحیص کے بعد ایک مشورہ یہ آیا کہ کیوں نہ عوام پر ایک نیا ٹیکس لاگو کیا جائے اور وہ یہ کہ ہر صبح لوگ روزگار کی تلاش میں شہر پناہ کے باہر جاتے ہیں ۔ جب وہ راستے میں پڑنے والے پل پر سے گزریں تو ایک خاص رقم ادا کرنے کے پابند بنادیئے جائیں ۔، مشورہ صائب قرار دیتے ہوئے اس کو لاگو کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ حالانکہ عوام پہلے ہی حکمران طبقے کے کرتوتوں سے نالاں تھے مگر خوف اس قدر تھا کہ کسی کو بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی ، نیا ٹیکس لاگو ہونے پر بھی مجبوراً لوگ اس کی ادائیگی پر احتجاج نہ کرسکے اورجس طرح بھی بن پاتا طوعاً وکرہاً برداشت کرتے رہے ، جب کہیں سے کوئی مخالفانہ آواز نہ اٹھی تو ایک بار پھر بادشاہ نے مشیروں سے مشورہ مانگا ، ایک نے مشورہ دیا کہ پل پر سے گزرنے والے ہر شخص کو ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک ایک جوتی ماری جائے ، اگر یہ بات ناقابل برداشت ہوگی تو لوگ ضرور احتجاج کریں گے ۔ حکم صادر ہونے اور منادی کرانے کے بعد ہرصبح اور شام کو آتے جاتے وقت عوام لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر نہ صرف ٹیکس ادا کرتے بلکہ جوتیاں بھی کھاتے ،نئے حکم کے اجراء کے بعد بالآخر بے حس عوام ایک جگہاکٹھے ہوئے ۔ صورتحال پر بحث کی گئی اور ایک درخواست لکھ کر بادشاہ کے حضور گزاری گئی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ ہر صبح پل پر سے گزرتے وقت سرکاری عمال سے جوتیاں کھانے کیلئے قطار بنانی پڑتی ہے یوںانہیں دیر ہو جاتی ہے ، اس لئے اگر بادشاہ سلامت عوام کوجوتیاں مارنے والوں کی تعدا د میں مناسب اضافہ فرمادیں تو عوام کا وقت ضائع نہیں ہوگا ۔ بقول شاعر

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

مہذ ب ملکوں میں عوام کو ان کے قومی شناختی کارڈز اورپاسپورٹ کا اجراء بنیادی ضرورت اور قانونی استحقاق قرار دیتے ہوئے بلا کسی تردد اور معاوضے کے کیا جاتا ہے ، مغربی دنیا میں یہی طریقہ کار ہے ، وہاں ہر شخص کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کو جو سہولیات میسر آتی ہیں وہ صحت کی مفت سہولیات ، تعلیم کا حصول ، ایک خاص عمرتک پہنچنے کے بعد شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجراء بلا معاوضہ کیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ جولوگ ان ملکوں میں مستقل سکونت اختیار کرلیتے ہیں ان کو بھی صحت اور سوشل سیکورٹی انشورنس دی جاتی ہے ، مگر ہمارے ہاں معاملہ بالکل برعکس ہے ، نہ صرف ایک مدت تک عوام کیلئے پاسپورٹ کا حصول ایک بہت بڑا مسئلہ رہا (اب بھی کم نہیں) جبکہ شناختی کارڈ کے اجراء کا تو تصور ہی نہیں تھا ، ہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریز حکمرانوں نے برصغیر میں راشن بندی کردی تھی اور ہر خاندان کو راشن کارڈز دیئے جاتے تھے جن پر راشن ڈپوئوں سے مقررہ مقدار میں آٹا اور چینی دستیاب ہوتی تھی ، یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی ایک مدت تک جاری رہا اور یا ر لوگوں نے اس کو بھی ناجائز کمائی کا ذریعہ بنا کر رکھا تھا جس پر کسی اور نشست میں بات ہوسکتی ہے ، تاہم ملک میں خوراک کی پیداوار بہتر ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا ، اورجہاں تک قومی شناختی کارڈ ز کے اجراء کا تعلق ہے تو یہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع کیا گیا جبکہ پاسپورٹ بھی عوام کا حق قرار دے کر اور خاص طور پر عرب ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے بعد ہرشخص کو جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ، مگر کوئی بھی حکومت ان دو بنیادی ضروری حقوق کے اجراء کے وقت بھی عوام کی چمڑی ادھیڑنے کے مواقع ضائع کرنے کو تیار نہیں ہوئی اور ہر سال دو بعد ان دونوں دستاویزات کے اجراء پر ان کی فیسیں بڑھانے کا وتیرہ اختیار کرتے ہوئے عوام کی جیبوں کو خالی کرنے میں دلچسپی رکھتی آئی ہیں، ابھی کچھ ہی مدت پہلے پاسپورٹ کی فیسوں میں اضافہ کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز اچانک نادرا والوں نے شناختی کارڈز کی قیمتوں کی نئی شرح کا اعلان کردیا ہے ، عوام اور خواص میں بنیادی فرق یہ ہے کہ خواص اس ملک میں ان پر واجب الادا کوئی ٹیکس پہلے تو قومی خزانے میں جمع کرنے کو تیار نہیں ہوتے ، اور اگر بڑی مشکل سے اس پر آمادہ ہوتے بھی ہیں تو متعلقہ محکمے قانونی مارہرین اور آڈیٹرز کے ساتھ مل کر ٹیکس بچانے کی راہیں تلاش کرلیتے ہیں ، یوں سارا بوجھ عوام پر پڑتا ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں سے عوام کا بھرکس نکال دیا جاتا ہے جبکہ مختلف حکومتی ادارے بھی عوام کی کھال کھینچنے کیلئے کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے ، پاسپورٹ اور شناختی کارڈز پر لاگو کئے جانے والے ٹیکس ایسی ہی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں ، رہ گئے جوتے مارنے کا معاملہ تو وہ عوام بے چارے ہر قدم پر کھا رہے ہیں ، اس لئے ’’بادشاہ سلامت ‘‘ زندہ باد

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگاکے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں

متعلقہ خبریں