Daily Mashriq


ایک اور پاکستان

ایک اور پاکستان

ہندوستان میں مسلمانوں کے طویل اقتدار کے خاتمے اور برطانوی راج کے قیام سے ہندوئوں کو بطور قوم سنبھلنے کا موقع ملا اور اس سے ان کو بہت زیادہ منافع حاصل ہوا۔ اس لئے کہ اس سے پہلے ہندو راجواڑوں میں بٹے ہوئے مہاراجوں کے ظلم و ستم کے تحت ذات پات کی تقسیم کے ساتھ زندگی گزارتے آئے تھے۔ انگریز کی حکومت نے ہندوستان کا تعلیمی ڈھانچہ ہندوئوں کو پیش نظر رکھ کر بنایا۔ انگریزوں نے ہندوئوں کی نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں خصوصی دلچسپی لی۔ مسیحی مشنریوں اور بعد میں حکومتی تعلیمی اداروں نے ایک صدی تک ان کی تعلیم پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف ہندوئوں میں انگریزی زبان رائج کرکے بابوئوں کے حصول کے بھی طلبگار تھے اور ساتھ ہی مغربی افکار و نظریات اور اقدار حیات اور معاشرتی آداب بھی سکھانا چاہتے تھے۔ جدید مغربی تصورات مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوئوں نے بہت جلد قبول کرلئے کیونکہ ہندو مذہب میں اس حوالے سے کوئی ممانعت نہیں تھی۔انگریزوں کی مہربانیوں کے سبب سنسکرت جیسی مردہ زبان زندہ ہو کر سکولوں اور کالجوں میں رائج ہوئی۔ ہندو مذہب کا انگریز مستشرقین نے تحقیقی مطالعہ کرکے لغویات‘ خرافات اور فحش مضامین کو ان کی بھولی بسری کتابوں سے نکال کر تصحیح اور اشاعت کے مراحل سے گزارا۔ قوم پرستی اور مذہب پرستی کے ذریعے خود شناسی کے حصول کے بعد ہندو علماء مذہب اور معاشرے کی اصلاح کی جانب متوجہ ہوئے اور اس دور میں برھمو سماج‘ سادھارن‘ تھیوسونیکل سوسائٹی‘ آریہ سماج اور پرارتھنا ورام کرشن مشن جیسی تحریکیں برپا ہوئیں۔ ان تحریکوں نے ماضی کی کبیر‘ نانک اور دادو وغیرہ کے برعکس ہندوئوں میں مذہبی قوم پرستی اور تشدد کی نفسیات بہت بری حد تک ابھاری۔ بھارت اور اسرائیل دنیا میں ایسے جارحیت پسند اور توسیع پسند ملک ہیں جو بغیر کسی شرم و حیا دوسرے ملکوں کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا عزم اور منصوبہ رکھتے ہیں۔ان ہندو رہنمائوں کی تنگ نظری نے مسلمانان ہند کو اپنا مستقبل اور اپنی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے الگ ملک بنانے پر مجبور کیا۔ ان تشدد پسند احیائی تحریکوں کی تنگ نظری اور مسلمان دشمنی کا اعتراف اس زمانے میں بھی کیا تھا اور آج بھی کر رہے ہیں۔ پام دت صاحب نے1940ء میں ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ میں لکھا تھا ’’ سختی سے ہندو مذہب پر اصرار کرنا اور مسلمانوں کے جائز حقوق کے استحصال نے قومی تحریک اور سیاسی شعور کو ناگزیر طورپر پسپا اور کمزور کیا۔ ہندو مذہب پر زور دینے کا نتیجہ مسلمانوں کو قومی تحریک سے بیگانہ رکھنے کی صورت میں ہوا۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ قومی بیداری کی لہر میں جنگ سے ماقبل عسکری قومی تحریک کے رہنما گنگا دھر تلک اور اربندھو گھوش تھے۔ انہوں نے ہندو تہذیب کی بنیادوں پر سیاسی شورش کی عمارت کھڑی کی۔ اس قسم کے ہندوئوں کے عزائم اور اعمال و افعال کو دیکھ کر مولانا سعید احمد سیکرٹری جمعیت علماء ہند نے فرمایا تھا ’’ مسلمانوں کی حکومت کے زوال پر اس ملک میں ہندوئوں کی حکومت قائم ہو جاتی تو مسلمانوں کو چھٹی کا کھایا یاد آجاتا۔ جو قوم غلامی کی حالت میں یہ ستم ڈھا رہی ہے حکمران بن کر خدا جانے مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتی۔‘‘ اگرچہ مولانا ابوالکلامؒ آزاد اور دیگر کانگریسی علماء تقسیم ہند کو تقسیم مسلمانان کہتے رہے ہیں اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی ابتر حالت کو تقسیم ہند کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن یہ نکتہ بھول جاتے ہیں کہ اگر پاکستان قائم نہ ہوتا تو آج بیس کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کروڑ مسلمان بھی ہندو اکثریت کے غلام اور محکوم ہوتے اور گئوکشی پر اور دیگر تعصبات پر اسی طرح ظلم و ستم کے شکار ہوتے جیسے آج ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ تاریخ نے اس بات کو کس طرح ثابت کیا ہے۔ اس کا اندازہ 5اپریل کے ’’ انڈین ایکسپریس‘‘ میں اردو زبان و ادب کے شہرہ آفاق ادیب و نقاد شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’’Agony of the marginalised‘‘ پڑھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ فاروقی صاحب نے کمال مہارت کے ساتھ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کی جھلکیاں پیش کرتے ہوئے اپنے خاندانی کانگریسی پس منظر کے باوجود ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں جس حکمت ہنر مندی اور درد کے ساتھ اظہار کیا ہے اس کا تعلق احساس اور ضمیر اور شعور کے ساتھ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اب ہندوستان میں بی جے پی کانگریس پر پرو مسلمان( Pro Muslim) ہونے کا الزام لگاتی ہے تو سونیا گاندھی اس کو اپنے لئے روسیا ہی سمجھتے ہوئے اس کو اپنے لئے بد ترین الزام سمجھتی ہے‘‘۔ فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ اب ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت کے وزراء مسلمانان ہند کو ’’ رام زادہ‘‘ یا حرام زادہ‘‘ میں سے ایک چننے کا چنائو کرنا ہوگا اور اگر کوئی مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تو اسے پاکستان جانا ہوگا‘۔ ہندوئوں کے رہنمائوں کے ایسے رویوں نے 1940ء کے عشرے میں مسلمانان ہند کو پاکستان بنانے پر مجبور کیا تھا۔ کیا ہندوستان میں ’’ ایک اور پاکستان‘‘ بننے کے لئے خود ہندو متعصب رہنما حالات پیدا نہیں کر رہے۔ بنگلہ دیش کے قیام پر بعض نام نہاد دانشوروں اور سیاستدانوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ تو قیام بنگلہ دیش پر ختم ہوا۔ لیکن ایسا نہیں ہے یوں تب ہوتا جب بنگلہ دیش‘ آسام و کلکتہ میں ضم ہو کر ہندوستان کا حصہ بنتا۔ مشرقی و مغربی بنگالی ایک کلچر‘ ایک زبان‘ ایک خوراک کے باوجود مل نہیں پا رہے کیونکہ مشرقی بنگال کے لوگ مسلمان ہیں اس لئے بنگلہ دیش بھی قیام پاکستان کا مرہون منت ہے اور ہندوستان کے بائیس کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک اور پاکستان کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں